ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات - ردِ…

ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

جب تمام اوقات اور حوادث کی ارادہ ازلیہ کی طرف نسبت ایک ہی ہے تو دو وقتوں میں سے ایک کو ترجیح دینا ترجیح بلا مرجح ہے اور دو متماثلین میں سے ایک کو بغیر کسی مخصص کے خاص کر دینا ہے اور یہ کلام اس مقام پر ہمارے مقصود میں کوئی قادح نہیں ہے اس لیے کہ ہم اس قول کا دفاع نہیں کرتے لیکن ہم نے ہر تقدیر پر عالم میں سے کسی شے معین کے قدم کے امتناع کو واضح طور پر بیان کر دیا اور اس بات کو بھی کہ حوادث کا دوام خواہ ممکن مان لیا جائے یا ممتنع پس بے شک دونوں تقدیرین پر عالم میں سے ہر شے کا حدوث یہ واجب ہے اوریہ کہ ارادہ خواہ اس کا اپنی مراد کے ساتھ مقارنت کا قول اختیار کیا جائے یا اس کا اس سے تاخر کے امکان کا قول ہر تقدیر پر عالم میں سے ہر ہر شے کا حدوث لازم آئے گا اس لیے کہ جو لوگ ارادے سے اس کی مراد کے تاخر کے قائل ہیں انہوں نے یہ قول ،حوادث کے دوام اور حوادثِ ازلیہ کے وجود کے قول سے فرار کے لیے اختیار کیا ہے اور اس تقدیر پر حدوث عالم لازم آتا ہے ورنہ اگر حوادث کا دوام ممکن ٹھہرے تو ان کے نزدیک ازل میں مراد کا وجود بھی ممکن ٹھہرے گا اور اگر یہ بات ممکن ہوتی تو ارادہ قدیمہ ازلیہ سے مراد کے تاخر کا قول نہ اختیار کرتے باوجود یکہ اس میں وہ خرابی پائی جاتی ہے جو ہم نے بیان کر دی یعنی دو متماثلین میں سے کسی ایک کو بغیر کسی مرجح کے دوسرے کو ترجیح دینا۔

ایسے ہی اس میں عقلی طور پر جوشناعت اور قباحت بھی پائی جاتی ہے اور یہ بھی کہ یہ اس بات کو متضمن ہے کہ عقلاء میں سے ایک جمِ غفیر کی اس بات کی طرف نسبت کی جائے کہ انہوں نے صریح معقول کی مخالفت کر لی اس لیے انہوں نے یہ قول اختیار کیا ہے بوجہ اس کے کہ ان کا اس بات پراعتقاد ہے کہ حوادثِ ازلیہ ممکن ہیں پس وہ اس بات کی طرف محتاج ہوئے کہ وہ ایک ارادہ قدیم ازلی کو ثابت کریں ایسا ارادہ جس سے اس کا مراد متاخر ہو اور اس کے بعد بغیر کسی سببِ حادث کے وہ حادث ہو اور وہ اس بات کے محتاج ہوئے کہ وہ یہ کہیں کہ ’’نفسِ ارادہ دو متماثلین میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے ورنہ اگر وہ حوادث کے دوام کو جائز اور ممکن سمجھے اور ان کے تسلسل کا اعتقادرکھے تو پھر یہ ممکن ہے کہ وہ یہ بھی کہیں کہ ارادات اور مرادات حادث ہوں اور وہ یہ بھی کہیں کہ قدیم ذات کے ساتھ حوادث کا قیام بھی ممکن ہو اور وہ اپنے اس قول سے رجوع اختیار کر لیں کہ نفسِ ارادہ قدیمہ دو مثلین میں سے ایک کو دوسرے پر مستقبل میں ترجیح دیتا ہے اور اپنے اس قول سے (بھی رجوع کرلیں )کہ ایسے حوادث کا حدوث ممکن ہے جن کے لیے کوئی سببِ حادث نہ ہو اور وہ اس تقدیر پر عالم میں سے کسی شے کے قدم کے قائل نہیں ہے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ماسوا سب کے سب حادث اور موجود ہیں بعد اس کے کہ وہ نہیں تھے اور یہ اسی تقدیر پر لازم آتا ہے اس لیے ایسی صورت میں جب حوادث میں سے کوئی بھی شے اس کا حدوث جائز او رممکن نہیں ہے مگر کسی سببِ حادث کے ذریعے اور کسی شے کے حدوث کے ساتھ دو وقتوں میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح کسی ایسے مرجح کے ذریعے حاصل ہوتی ہے جو اس کا تقاضا کرتا ہے پس مراد کا اپنے ارادے سے تاخر نہیں ہوگا مگر مراد کے مقارنت کے متعذرہونے کی وجہ سے ،اس لیے کہ اگر اگر مراد کا اپنے ارادے کے ساتھ اس کی مقارنت ممکن ہو اور یہ بات بھی ممکن ہو کہ و ہ اس سے متاخر ہے تو پھر دو زمانوں میں سے ایک کا احداث کے ساتھ تخصیص بلا مخصص اور ترجیح بلا مرجح ہوگا پس یہ بات معلوم ہو گئی کہ اس تقدیر پر دو باتوں میں سے ایک بات لازم آتی ہے یا تو مراد کا اردے کے ساتھ مقارنت کا وجود یا اس کا امتناع اور یہ بھی کہ اس کا ارادے کے ساتھ مقارنت واجب ہے جبکہ وہ ممکن ہو اور یہ بھی کہ وہ اس سے متاخر نہ ہو مگر اس صورت میں کہ اس کی مقارنت متعذر اور دشوار ہو یا بذاتِ خود اس کے ممتنع ہونے کی وجہ سے اور اس کے لوازم کے امتناع کی وجہ سے اور لازم کا امتناع ملزوم کے امتناع کا تقاضا کرتا ہے لیکن اس کی امتناع غیر کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ اس کی ذات کی وجہ سے جس طرح کہ مسلمان یہ کہتے ہیں : ’’ماشاء اللّٰہ کان وما لم یشأ لم یکن۔‘‘ 

پس جس چیزکو اللہ چاہیں تو اس کی مشیت سے اس کا موجود ہونا واجب ہے نہ کہ اس کی اپنی ذات کی وجہ سے اور جس کو اللہ نہ چاہیں تو اس کا کون اور اس کا وجود ممتنع ہے نہ کہ اس کی اپنی ذا ت کی وجہ سے بلکہ اس وجہ سے کہ وہ تب ہی موجود ہوتا جب اللہ چاہیں پس جو اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں چاہا تو اس کا کون اور وجود ممتنع ہوا اور جب اس تقدیر پر دو باتوں میں سے کوئی ایک بات لازم ہے ۔

(۱)یا تو مراد کا ارادے کے ساتھ مقارنت (۲)یا اس کا اپنی ذات کی وجہ سے امتناع تو اس سے اس بات پر دلالت ہوتی ہے کہ اگر عالم میں سے کوئی شے کسی شے کا قدیم ہونا ممکن ہوتا تو یہ بات واجب ہوتی کہ اس کا کہ وہ قدیم ہوتا اس کے ازل میں اس کے ساتھ مقارنت کے وجود کی وجہ سے کیوں کہ یہ بات مفروض ہے کہ مقارنت کا وجود یا مراد کا امتناع یہ دو باتوں میں سے کوئی ایک بات ضروری ہے پس جب مراد ازل میں ممکن ہے تو مقارنت بھی اس کے لیے ضروری ہے اور واجب ہے لیکن مقارنت کا وجود تو ممتنع ثابت ہوا لاس لیے کہ یہ تو اس بات کو مستلزم ہے کہ حوادث میں سے کوئی بھی حادث نہ ہو جس طرح کہ ماقبل میں گزرا پس اس میں آخری یعنی دوسری صورت ہی لازم آئی اور وہ ازل میں کسی مرادِ معین کا امتناع کا ثبوت ہے اور یہی ہمارا مطلوب ہے رہا یہ کہ اگر یہ کہا جائے کہ ارادے سے اس کی مراد کا تاخر واجب اورضروری ہے جس طرح کہ اہل کلام میں سے بہت سے اس کے قائل ہیں تو اس کی مرید ہونے یعنی ارادہ کرنے والی ذات ہونے کی تقدیر پر عالم میں سے کسی شے کا قدم ثابت ہونا ممتنع ہوا اور یہی ہمارا مطلوب ہے ۔

پس واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ تمام اشیاء کا حدوث ہر تقدیر پر ثابت ہوا اور یہی مطلوب ہے جان لو ! جس نے اس طریقے کو سمجھ لیا تو اس نے ان سے کئی امور کا استفادہ کر لیا یعنی کئی مور کو سمجھ لیا :

صفحہ 2 از 5