ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات - ردِ…

ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

۱:اللہ کی ذات کے علاوہ تمام اشیاء کے حدوث کا ثبوت چنانچہ کہ اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ اجسام کے علاوہ بھی کوئی اور موجود چیز (اس عالم میں )ہے اس عالم میں جس طرح کہ وہ لوگ اس کے قائل ہیں جوعقول اور نفوس کو ثابت کرتے ہیں یعنی فلاسفہ اور متکلمین اور ان کا خیال یہ ہے کہ یہ ایسے جواہر ہیں جو اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہیں اور یہ اجسام نہیں ہیں ،اس طریقہ کے ذریعے ان اشیاء کا حدوث بھی معلوم ہو جاتا ہے ۔

متاخرین اہل کلام میں سے ایک جماعت کا خیال بھی یہی ہے جیسے شہرستانی، امام رازی ،آمدی اور ان کے علاوہ دیگر ،چنانچہ انہوں نے کہا کہ اہلِ کلام میں سے قدماء نے اس بات کی نفی پر کوئی دلیل قائم نہیں کی اور اجسام کے حدوث پر ان کی دلیل اس کو شامل نہیں اور اس مقام کے علاوہ ایک اور جگہ میں اس بات کو مفصلاً بیان کیا گیا ہے کہ یہ اہل نظر جیسے کہ ابو الہذیل علاف اور اس طرح نظام اور ہشام اور ابن کلاب ،ابن کلام اشعری ،قاضی ابوبکر ،ابو المعالی اور ابو علی اور ابو ہاشم اور ابو الحسن بصری ،ابو بکر ابن العربی ،ابو التمیمی ،قاضی ابو الاعلی ،ابو الحسن ابن الزاغونی اور ان کے علاوہ دیگر ۔

یہ سب ایک ایسے موجود کے وجود کاامتناع ثابت کرتے ہیں جو ممکن ہو ،قائم بنفسہ ہو ،اس کی طرف اشارہ نہ کیا جا سکے ،پس انہوں نے خارج میں ایسے مجردات کے وجود کے بطلان کو ثابت کیا ہے لیکن ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے ایسے اشیاء کے ثبوت کو باطل قرار دیا ہے جن کی طرف اشارہ نہ کیا جا سکے (یعنی اشارہ حسیہ کیساتھ وہ مشار الیہ نہ بن سکیں ) اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنہو ں نے ممکنات میں اسے باطل قرار دیا ہے اور یہ جو طریقہ ہم نے بیان کر دیا اس کے ذریعے اس قول سے خلاصی حاصل ہوتی ہے جو بغیر کسی سببِ حادث کے حوادث کے پیدا ہونے کا (قول )ہے ۔

اس طرح اللہ کی ذات کے ساتھ جو صفات اور افعال قائم ہیں ان کی نفی سے خلاصی اور نجات بھی ثابت ہوتی ہے ،اسی طرح اس سے یہ امربھی مستفاد ہوتا ہے کہ یہ قدمِ عالم کے قائلین کے قول کے ابطال پر ایک واضح اور غالب دلیل ہے یا عالم میں سے بعض اشیاء کے کسی خاص چیز کے قدم کے بطلان پر بھی اور یہ ان کے بڑے ادلہ (معتبر ادلہ )سے جواب کو بھی متضمن ہے ۔

جو بات اس سے مزیدمستفاد ہوتی ہے وہ مطلوب کا استدلال ہے بغیر اس کے کہ موجب بالذت اور فاعل بالاختیار کے فرق کی طرف حاجت پیش آئے اور یہ اس لیے کہ اہل نظر میں سے بہت سے لوگوں نے ان دونوں کے درمیان فرق کرنے میں غلطی کی ہے جو کہ معتزلہ اور شیعہ میں سے ہیں اور بہت سے لوگ جیسے کہ امام رازی اور اس کے امثال ،وہ اس مقام پر مضطرب اور پریشا ن نظر آتے ہیں کبھی تو وہ فرق کے اثبات پر معتزلہ کی موفقت کرتے ہیں اور کبھی ان کی مخالفت کرتے ہیں اور جب ان کی مخالفت کرتے ہیں تو پھروہ اہل سنت اور فلاسفہ جو کہ ارسطوکے اتباع ہیں ان کے درمیان متردد ہیں ۔

اس بات کی بنیاد اس پر ہے کہ ہم یہ بات اچھی طریقے سے جانتے ہیں کہ وہ ذات جو قادر ِ مختار ہے ،اپنی مشیت اور قدرت کے ساتھ افعال صادر کرتا ہے لیکن کیا اُس کے ارادہ جازمہ یا قدرتِ تامہ کے وجود کے ساتھ مفعول کا وجود واجب ہے یا نہیں ؟پس اہل سنت میں سے جمہور جو کہ قدر کے مثبتین ہیں ان کا مذہب اور ان کے علاوہ جو قدر کے نفی کرنے والے ہیں ان کا مذہب بھی یہ ہے کہ ایسے مقتضی تام کے وجود کے وقت جو کہ ایک ایسے ارادہ جازمہ اور قدرتِ تامہ سے عبارت ہے جس کے (وجود میں آنے کے )وقت مفعول کا وجود واجب ہے اور قدرکے مثبتین میں سے ایک دوسرا گروہ یعنی جہمیہ اور ان کے موافقین اور قدرکی نفی کرنے والوں میں سے یعنی معتزلہ اور ان کے علاوہ دیگر طوائف اس بات کو واجب اور ضروری نہیں سمجھتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ قادر تو وہی ذات ہے جو جواز اور امکان کے طریقے پر فعل کرتا ہے نہ کہ وجوب کے طریقے پر اور وہ اسی کو اِس کے اور موجب بالذات کے درمیان فرق قرار دیتے ہیں ۔

یہ لوگ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قادرِ مختار اپنے دو مقدورین میں سے ایک کو دوسرے پر بغیر کسی مرجح کے ترجیح دے سکتا ہے جس طرح کہ روٹیوں کے ساتھ کسی بھوکے کا حال ہے ،دو راستوں میں سے کسی ایک راستے پر چلنے والے کا حال ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بغیر مرجح کے ترجیح دیتا ہے پس ان لوگوں میں سے قدریہ تو یہ کہتے ہیں کہ بندہ قادر ہے اور اپنے دو مقدورین میں سے ایک کو بغیر کسی مرجح کے ترجیح دیتا ہے جس طرح کہ وہ اس جیسی بات رب تعالیٰ کے بارے میں بھی کہتے ہیں اور اسی وجہ سے ان قدریہ کے اقوال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل طاعت پر کوئی ایسے انعامات نہیں کئے جن کیساتھ اُن کو خاص کیا ہے جس کی وجہ سے انہون نے ا سکی اطاعت کی بلکہ اس کا مطیع اور غیر مطیع کو قدرت دینا برابر ہے لیکن اِس ایک نے بغیر کسی مرجح کے اُس کی اطاعت کرنے کو ترجیح دی ہے بلکہ محض اپنی قدرت کی وجہ سے بغیر کسی سبب کے اور دوسرے نے معصیت کو راجح قرار دیا محض قدرت کی وجہ سے بغیر کسی ایسے سبب کے پائے جانے کے جو اس کا موجب ہو ۔

صفحہ 3 از 5