ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات - ردِ…

ارادے کے ساتھ مراد کی مقارنت کے بارے میں تین تقدیرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

رہے جبریہ جیسے کہ جہم بن صفوان اور اس کے اصحاب ہیں ؛تو ان کے نزدیک تو بندے کے لیے اصلا کوئی قدرت ہی ثابت نہیں اور اشعری معنی اور مفہوم کے اعتبار سے ان کے موافق ہیں ،پس وہ یہ کہتا ہے کہ بندے کے لیے کوئی قدرت ثابت نہیں اور وہ ایک ایسی شے کو ثابت کرتا ہے جس کو وہ ’’قدرت ‘‘کا نام دیتا ہے اور جس کے وجود کو وہ عدم کے مساوی اور برابر قرار دیتا ہے اسی طرح وہ کسب جس کو وہ ثابت کرتا ہے اس کا بھی یہی حال ہے اور ان لوگوں کے لیے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ قدریہ کے قول کابطلان اس بات سے ثابت کریں کہ بندے کی فاعلیت (کسی کام کو جوددینا)کا اس کے تارکیت (فعل نہ کرنا )پر جو رجحان ہے اس کے لیے کسی مرجح کا ہونا ضروری ہے جس طرح کہ امام رازی اور جبریہ میں سے ایک گروہ اس طرح کرتے ہیں اور اسی وجہ سے تو اشعری اور اس کے قدمائے اور اصحاب نے اس حجت کو ذکر نہیں کیا اور لوگوں میں سے ایک گروہ جیسے امام رازی اور اس کے اتباع (پیروکار)ہیں جب انہوں نے معتزلہ کے ساتھ قدر کے مسائل میں مناظرہ اور بحث و تمحیص کی تو انہوں نے اس اصل اور بنیاد کو باطل کر دیا اور انہوں نے واضح طور پر یہ بنیاد بیان کر دیا کہ فعل کا وجود کسی مرجح تام کے وجود کے وقت واجب ہے اور یہ کہ اس کا فعل بغیر کسی مرجح تام کے (صادر ہونا )ممتنع ہے اور انہوں نے اس بات پر دلائل قائم کئے اور اِس کا دفاع کیا کہ قادرِ مختار ذات اپنے دو مقدورین میں سے ایک کو دوسرے پر بغیر کسی مرجح تام کے ترجیح نہیں دیتا اور جب حدوثِ عالم اور فاعلِ مختار کے اس مسئلے میں انہوں نے فلاسفہ کے ساتھ مناظرہ اور بحث کی اور اس طرح موجب بالذات کے قول کے ابطال کے بارے میں تو وہ اس قول کو اختیار کرنے میں معتزلہ اور جہمیہ کے طریقے پر چلے کہ قادرِ مختارذات اپنے دو مقدورین میں سے کسی ایک کو بغیر مرجح کے ترجیح دیتا ہے اور وہ اکثر لوگ جو ابو عبد اللہ ابن الخطیب اور ان کے امثال کے طریقے پر چلے ہیں توتو ان کو پائے گا کہ وہ اس تناقض میں پڑ جاتے ہیں اور واضح اور فیصلہ کن بات تو یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ موجب بالذات کے لفظ سے کیا مراد ہے ؟

اگر اس سے مراد یہ لیا جائے کہ وہ ایک ایسی ذات کے ذریعے موجب ہے جو کہ مشیت اور قدرت سے مجرد اور خالی ہے تو ایسی ذات کے لیے کوئی حقیقت اور خارج میں کوئی ثبوت نہیں چہ جائے کہ وہ موجب بنے اورفلاسفہ کا قول تو تناقض پر مشتمل ہے اس لیے کہ وہ اول کے لیے ایک غایت اور انتہا ثابت کرتے ہیں اور عللِ غائیہ کو بھی ثابت کرتے ہیں اور یہ ارادے کو مستلزم ہے اور جب وہ غایت کی تفصیل محض علم سے کرتے ہیں اور علم کو محض ذات قرار دیتے ہیں تو یہ انتہائی درجے کا فساد اور تناقض ہوا اس لیے کہ ہم یقین سے اس بات کو جانتے ہیں اور بداہت کے ساتھ کہ ارادہ محض علم کا نام نہیں اور یہ بات بھی کہ علم محض عالم نہیں لیکن یہ اس باب میں فلاسفہ کے تناقض میں سے ہے اس لیے کہ وہ معانی متعددہ اور مختلفہ کو ایک ہی قرار دیتے ہیں پس وہ علم کو قدرت ہی کا مصداق بنا دیتے ہیں حالانکہ وہ ارادہ ہے اور وہ صفت کو نفسِ موصوف قرار دیتے ہیں جس طرح کہ وہ علم کا مصداق نفسِ عالم ٹھہراتے ہیں اور قادر بعینہ قدرت کو اور ارادہ بعینہ مرید کو یعنی ارادہ کرنے والے کو اور عشق ذاتِ عاشق کو قرار دیتے ہیں اور اس بات کی ان کے فضلاء نے تشریح کی ہے اور یہاں تک کہ وہ لوگ جو ان کی دفاع کرنے والے ہیں جیسے ابن رشد جس نے ابن حامدِ غزالی پر تھاف التھافت میں رد کیا ہے اور اس کے امثال اور یہ بات بھی یاد رہے کہ اگر مشیت اور اختیار سے خالی کسی ذات کے وجود کو فرض کر لیا جائے تو اس تفسیر پریہ ممتنع ہو گاکہ عالم کسی موجب بالذات سے صادر ہو ا س لیے کہ اس اعتبار پرموجب بالذات اپنے موجب اور مقتضی کے ساتھ مستلزم ہوا پس اگر عالم کا مبدأ موجب بالذات ہو تواس تفسیر پر لازم آیا کہ عالم میں سے کوئی بھی شے حادث اور پیدا نہ ہو حالانکہ یہ مشاہدے کے خلاف ہے پس ان کا موجب بالذات کا یہ قول اللہ کی صفات اور اس کے افعال کی نفی کو اور عالم میں سے کسی شے کے حدوث کی نفی کو مستلزم ہے اور یہ تمام امور معلوم البطلان ہیں ۔

اس سے بھی زیادہ باطل امریہ ہے کہ انہوں نے اس کو ایک واحدِ بسیط قراردیا اور انہوں نے کہا کہ اس کی ذات سے صرف ایک ہی امر صادر ہو سکتا ہے اور پھر امو ر کثیر ہ کے صدور کے لیے انہوں نے کئی حیلے اختیار کئے جو کہ ان کے تحیر اور حیرانگی پر دلالت کرتے ہیں اور ان کی جہل کی علامت ہیں مثلاً اُن کا یہ کہنا کہ صادرِ اول وہ عقلِ اول ہے اور وہی موجود ہے اور واجب بغیرہ ہے ممکن بنفسہ ہے پس اس ایک عقلِ اول میں تین جہتیں ثابت ہوئے :

پس اس کی ذات سے اس کے وجوب کے اعتبار سے عقلِ آخر ثابت ہوا اور اسکی وجود کے اعتبار سے ایک نفس اور اس کے امکان کے اعتبار سے فلک۔

بسا اوقات وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کے وجود کے اعتبار سے صورتِ فلک اور اس کے امکان کے اعتبار سے اس کا مادہ اور نفسِ فلکیہ تو نفسِ فلکیہ یعنی فلک کے ذات کے بارے میں بھی ان کا نزاع ہے کہ کیا وہ ایک ایسا  جوہر ہے جو اس سے مفارق اور جدا ہے؟ یا ایک ایسا عرض ہے جو اس کے ساتھ قائم ہے ؟اسی وجہ سے ان کے کلام کے فساد کو بیان کرنے میں لوگوں نے بہت تفصیلات ذکر کی ہیں اور یہ اس لیے کہ یہ واحد ذات جس کو انہوں نے فرض کر لیا ہے اس کا وجود متصور نہیں مگر صرف اذہان میں اور پھر ان کا یہ کہنا کہ واحد سے صرف اور صرف واحد ہی صادر ہو سکتا ہے یہ قضیہ کلیہ ہے اور اگر وہ بعض صورتوں میں اس کے ثبوت کو جانتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں ہوتا کہ وہ بھی کلیہ ہو مگر کسی قیاسِ تمثیل کے ساتھ پس کیا حال ہو گا اس کے بطلان کا حالانکہ وہ کسی ایسے فرد کو یقین کے ساتھ نہیں جانتے یعنی ان کو نہیں معلوم کہ جس سے کوئی شے صادر ہو ۔

صفحہ 4 از 5