Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بعض جنگی اصولوں کا عملی نفاذ

  علی محمد الصلابی

مسلمانوں کے نزدیک ایک زمانے سے جو کامیاب جنگی اصول چلے آرہے تھے فتح دمشق بھی اس سے خالی نہ رہی۔ چنانچہ اچانک حملہ کرنا، پیش قدمی کرنا، موقع سے فائدہ اٹھانا اور میدانی قائدین کی جدت طرازیاں، یہ سب کچھ اس میں بھی دیکھنے کو ملیں، ہم دیکھ چکے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کس طرح صحیح نشانے کی تلاش میں کامیاب ہوئے اور خندق عبور کرنے اور فصیل پر چڑھنے کے لیے نہایت موزوں جگہ تلاش کر لی۔ سابقہ منصوبہ بندی میں یکایک کیسی تبدیلی لائے اور محاصرہ کی کارروائی چھوڑ کر دمشق میں داخل ہونے کی اقدامی کارروائی میں لگ گئے۔ رسی کے پھندوں کو سیڑھی کے کام میں لا کر دمشق کی فصیلوں پر چڑھنے کی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی اس حکیمانہ کارروائی کا موازنہ جب ہم جدید دور میں مصری فوج کی اس تدبیر سے کرتے ہیں جو اس نے 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کی دفاعی لائن بارلیف کو پار کرنے اور اسرائیل کے ممنوعہ دفاعی خطے میں گھسنے کے لیے اختیار کی تھی اور رسیوں میں پھندا بنا کر انہیں سیڑھیوں کے کام میں لائے تھے، تو دونوں میں مکمل اتحاد و یکسانی نظر آتی ہے، ساتھ ہی اسلامی فتوحات میں مسلمانوں کی بے مثال صلاحیت اور عبقریت بھی سامنے آتی ہے۔ پس ہمیں اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ دور جدید کی ہماری جنگی تدبیریں بھی اس قدیم جدت پسندی اور عبقریت کا ایک حصہ ہیں۔

(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 195)