حرکت شوقیہ کا عقیدہ اور ابن سینا اورفارابی کی ارسطو کے ساتھ…

حرکت شوقیہ کا عقیدہ اور ابن سینا اورفارابی کی ارسطو کے ساتھ موافقت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

۲) اسی طرح یہ کہا جائے گا کہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وجود یا تو محدث ہوگا یا قدیم اور حادث کے لیے کسی قدیم کا ہونا ضروری ہے پس ہرتقدیرپر قدیم کا وجود ثابت ہوا ۔

۳) اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہرموجود یا فقیر ہو گا یا مستغنی اور فقیر کے لیے کسی غنی کا ہونا ضروری ہے ،پس ہر تقدیر پر غنی کا وجود ثابت ہوا۔

۴) اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہرموجود یا تو قیوم ہوگا یعنی دوسرے کو تھامنے والا ہوگا یا تھامنے والا نہیں ہوگا اور جو غیرِ قیوم ہے اس کے لیے کسی دوسرے قیوم ذات کا ہونا ضروری ہے پس ہرتقدیرپر قیوم کا وجود ثابت ہوا ۔

۵) اس طرح یہ بھی کہا جا سکتاہے کہ ہرموجود یا تو مخلوق ہوگا یا غیر مخلوق اور مخلوق کے لیے کسی خالق کا ہونا ضروری ہے جو کہ مخلوق کا غیر ہو پس ایسے موجود کا وجود ثابت ہوا جو مخلوق نہیں ہے دونوں تقدیروں پر اور وہ موجود جو واجب بنفسہ ہے واجب ہے ،قدیم ہے اپنی ذات کے اعتبار سے اور قیوم ہے اور خالق ہے جو کہ مخلوق نہیں ہے تو اس کے بارے میں یہ بات ممتنع ہے کہ وہ غیر کی طرف کسی بھی اعتبار سے محتاج ہو اس لیے کہ وہ اپنے مفعول کی طرف محتاج ہوا اور اس کا مفعول خود اس کی طرف محتاج تو پھر مؤثرات میں دور لازم آئے گا اور اگر غیر کی طرف محتاج ہوا اور وہ وہ غیر دوسرے غیر کی طرف محتاج ہو تو مؤثرات کے اندر تسلسل لازم آئے گا اور ان دونوں میں سے ہر ایک معلوم البطلان ہے صریح عقل اور اتفاق عقلاء کے ساتھ ۔

پس اگر یہ بات ممتنع ہے کہ وہ ذات فاعلِ بنفسہ بن جائے تو پھر یہ بطریقِ اولیٰ ممتنع ہے کہ وہ کسی ایسے فاعل کے لیے فاعل بنے جو بنفسہ فاعل ہو خواہ اسے لفظِ ’’فاعل‘‘کے ساتھ تعبیر کیا جائے یا ’’صانع ،خالق ،علت ،مبدأ اورمؤثرکے الفاظ سے ،ان تمام عبارات کے ذریعے دلیل صحیح بنتی ہے ۔

اسی طرح ایسے مفعولات کو فرض کرنا بھی ممتنع ہے کہ جس میں فاعل نہ ہو اور یہ تو ایسے آثار کو فرض کرنا ہے جن میں مؤثر نہ ہو اور ایسے ممکنات کو فرض کرنا ہے جن میں کوئی واجب بنفسہ ذات نہ ہو اس لیے کہ ان (اثر اور ممکن )میں سے ہر امر فقیر اور محتاج ہے اور ان کا مجموعہ ان کے آحاد کی طرف محتاج ہے پس یہ بھی ایک محتاج اور ممکن ہوا اور جتنا یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا تو فقر اور احتیاج بڑھتا جائے گا اور یہ درحقیقت ایسے معدومات کو فرض کرنا ہے جو غیر متناہی ہیں اس لیے کہ ان کی کثرت اُن کو معدوم ہونے کی حیثیت سے نہیں نکالتے پس یہ امر ممتنع ہوا کہ ان میں سے کوئی موجود ہو اور یہ سب اپنے مقام پر بیان ہو چکا ہے ۔

مقصود تو یہاں یہ ہے کہ ایک ایسے موجود کا پایا جانا ضروری ہے جو مستغنی ہو ،قدیم ہو اور واجب بنفسہ ہو اور اپنے تمام ماسوا سے مستغنی ہو اس طور پر کہ وہ اپنے غیر کی طرف کسی بھی صورت میں محتاج نہ ہو اور عالم میں جو کچھ بھی ہے وہ اپنے غیر کی طرف محتاج ہے اور جو شخص غور کرے تو عالم کے ہر ہر جز میں فقر بالکل ظاہر ہے ،عالم میں سے کوئی شے بھی اللہ کے ماسوا بذاتِ خود نہیں پیدا ہوتا بلکہ وہ مستغنی اور بے نیاز نہیں ہوتا یعنی محتاج ہوتا ہے پس یہ امرممتنع ہوا کہ اللہ کے ماسوا عالم میں کوئی شے واجب الوجود بنے لہٰذاضروری ہے کہ ایک ایسا واجب ذات ہو جو ان تمام عالم کے اشیاء کو تھامنے والا ہو ،مستغنی ہو اور عالم کے مبائن (یعنی عالم کا غیر )ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے لیے ہر کمال ثابت ہو ،اس کی ذات میں کوئی نقص نہ ہو اس لیے کہ اگر وہ ان صفات کے ساتھ متصف نہیں ہوگا تو پھر کمال اس کی ذات کے حق میں ممتنع ہوگا اور یہ محال ہے اس لیے کہ مفروض تو یہ ہے کہ وہ ممکن الوجود ہے

اس وجہ سے بھی کہ بہت سے ممکنات بھی تو بڑی بڑی صفاتِ کمال کے ساتھ متصف ہیں تو ذاتِ خالق تو مخلوق کی بہ نسبت صفاتِ کمال کے ساتھ متصف ہونے کے زیادہ احق ہے اور قدیم ذات حادث کی بہ نسبت اس اتصاف کا زیادہ احق ہے اور ممکن کی بہ نسبت واجب اس اتصاف کا زیادہ احق ہے اس لیے کہ وہ اس کے وجود کے اعتبار سے اکمل ہے اور غیرِ اکمل کی بہ نسبت اکمل ذات کمال کے زیادہ احق ہوتی ہے ۔ اس لیے بھی کہ مخلوق کا کمال خالق سے مستفاد ہے پس کمال کا خالق خود کمال کے زیادہ احق ہوا اور وہ یہ کہتے ہیں کہ معلول کا کمال علت کے کمال سے مستفاد ہے اور جب اس کی ذات کے ساتھ کمال ممتنع نہ ہوا تو ضروری ہے کہ اس کے لیے صفتِ کمال واجب ہو اس لیے کہ اگر وہ ایسا ممکن ہو جو واجب بھی نہ ہو اور ممتنع بھی نہ ہو تو پھر وہ اپنے ثبوت میں اپنے غیر کی طرف محتاج ٹھہرے گا اور جو ذات اس طرح ہو تو واجب ا لوجود بنفسہ نہیں ہوتے پس اس کے لیے جو بھی صفتِ کمال ممکن ہوگا تو وہ اس کی ذات کے لیے واجب ہوگا۔


صفحہ 2 از 2