Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مروج الذہب شیعہ کتاب ہے!

  جعفر صادق

مروج الذہب ( ابوالحسن علی بن حسین المسعودی) 

مروج الذھب ایک شیعہ کتاب ہے۔

اعیان الشیعہ سے اس کا ثبوت 

اعیان الشیعہ میں ایک اور مقام پر بھی مروج الذھب کے مصنف مسعودی کو شیعہ عالم تسلیم کیا گیا ہے۔ 

شیعہ عالم شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب الکنی والالقاب میں بھی مسعودی کو شیعہ تسلیم کیا ہے۔ 

ایک علمی بحث میں مولانہ علی معاویہ کی طرف سے پیش کئے گئے دلائل

میں نے اپنی ایک پوسٹ میں شیعہ مؤرخ مسعودی کا حوالہ دیا تھا جس پر سیف الاسلام جھنگوی نامی کم علم رافضی نے اپنی کم علمی دکھاتے ہوئے لکھا کہ

مولانا علی معاویہ جاھل مسعودی کا حوالہ دینے پہلے آپ کو ڈوب کے مرجانا چاہیے تھا آپ نے جب مسعوی کا حوالہ لکھ رہے تھے اس وقت آپ کو شرم محسوس نہ ہوئی ہے ایک مختلف فیه کتاب کا حوالہ دے رہا ہوں، جناب جب آپ مختلف فیہ کتاب کو قبول نہیں کرتے تو مجھ میں کیا امید ہے، دوسری بات آپ نے کہا شیعہ مورخ مسعودی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں یں، او بندہ خدامسعودی کو شیعہ کہنے سے پہلے اپنے پسندیدہ شخصیت امام ذھبی کی سیرت اعلام النبلاء تو پڑھ لیتے وہ اس کو کیا کھتا ھے
تیرا باپ ذھبی لکھتا ہے 
المسعودي صاحب مروج الذهب كان اخباريا وكان معتزليا

لنک
اب بتا جاہل معتزلی شیعہ کو کہتے ہیں؟ 
اور اس کے بعد امام مسعودی کی کتاب الزمان پڑھ کر دیکھ لیتے اس کے مقدمے میں لکھا ہوا ہے ھو ابو الحسن علی بن حسین بن علی المسعودی المعتزلیا الشافعی من زریة ابن مسعود 

لنک
قارئین کرام دیکھا ہے اس دجال کو کس قدر خیانت کرتا ہے اور دوسروں کو کہتا ہے آپ اپنے اصول پر رہو خدا اس کو ھدایت دے۔

الجواب:دوستو اصل بات یہ ہے کہ سیف الاسلام رافضی بیچارہ واقعی کم علم ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ علی معاویہ بھی میری طرح کم علم ہوگا، لیکن یہ اس کی بھول ہے، حیرت ھے کہ اس نے مسعودی جیسے مشہور شیعہ مؤرخ کے شیعہ ہونے کا انکار کر دیا اور کسی شیعہ نے بھی اس کو نہیں ٹوکا کہ تم کیا کر رہے ہو۔

خیر اب ہم مسعودی کے شیعہ ہونے کہ طرف آتے ہیں۔
سب سے پہلے میں اہل السنت علماء سے مسعودی کا شیعہ ہونا ثابت کرتا ہوں۔
1: علامہ ابن حجرؒ لسان المیزان جلد 5 صفحہ 532 پر لکھتے ہیں کہ
کان شیعیا معتزلیا۔
مسعودی معتزلی شیعہ تھا۔
2: صلاح الدین خلیل اپنی کتاب الوافی بالوفیات جلد 21 صفحہ7 پر لکھتے ہیں کہ
لَهُ مصنفات جمة على مَذْهَب الشِّيعَة
کہ اس کے شیعہ مذہب پر کافی تصنیفات ہیں۔
پھر اسی صفحے پر آگے لکھتے ہیں کہ
وَكَانَ إمامياً فِيهِ تظاهر بالاعتزال وَمَعَ ذَلِك فَإِنَّهُ كَانَ يُنكر هَذَا
لنک
کہ مسعودی امامیہ شیعہ تھا لیکن خود کو معتزلہ ظاہر کرتا تھا، اور وہ اس بات کا انکار بھی کرتا تھا۔
یعنی تقیہ باز شیعہ تھا اس کی وجہ سے بعض اہل السنت علماء نے اس کا شیعہ ہونا نہیں جان سکے جیسے کہ سیف الاسلام نے علامہ ذھبیؒ کا حوالہ دیا ہے، تو تقیہ باز ھونے کی وجہ سے یہ خود کو سنی شافعی ظاہر کرتا تھا۔
کتب اھل السنت کے بعد اب آتے ہیں شیعہ کتب کی طرف
1: شیعوں کے شیخ احمد بن علی النجاشی اپنی کتاب ‘‘رجال النجاشی’’ (جو کہ شیعہ مصففین پر لکھی گئی ہے) کے صفحہ 254 پر اس کا ذکر کیا ہے اور اس کی تصفیفات کا ذکر کیا ہے۔

2: شیعوں کے شیخ حلی نے اپنی رجال ‘‘خلاصة الاقوال’’ صفحہ 301 پر اس کا ذکر کیا ہے اور اس کی امامت کے موضوع پر لکھی گئی کتب کا ذکر کیا ہے۔

3۔ شیعوں کے آیت اللہ محمد حسین آل کاشف الغطا نے اپنی کتاب اصل و اصول الشیعہ صفحہ 59 (مترجم) میں مسعودی کو شیعہ مؤرخین میں شمار کیا ہے۔

4: شیعوں کےعلامہ علی النمازی نے اپنی کتاب ‘‘مستدرکات علم الرجال’’ جلد 5 صفحہ 352 میں مسعودی کو جلیل القدر شیعہ علماء میں شمار کیا ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی شیعہ علماء کے حوالاجات موجود ہیں لیکن طوالت سے بچنے اور سیف الاسلام رافضی کو آئینہ دکھانے کے لئے یہ حوالاجات نقل کررہا ہوں۔
تو ثابت ہوا کہ مسعودی تقیہ باز شیعہ تھا جو اپنا شیعہ ہونا چھپاتا تھا،لیکن اپنی ہی شیعوں نے اس کو شیعہ لکھ کر اس کے تقیے کا پردہ چاک کردیا۔
امید ہے کہ آئندہ کوئی بھی شیعہ مسعودی کے شیعہ ہونے کا انکا نہیں کرے گا۔