Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح دمشق سے متعلق بعض اشعار

  علی محمد الصلابی

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا

أقمنا علی داری سلیمان اشہرًا

بخالد روما وقد حملنا بصارم

’’سلیمان بن داود کی دونوں بستیوں (تدمر و دمشق) میں فاتح روم خالد کے ساتھ ہم نے کئی مہینے گزارے اور تیغ براں سے حملہ کیا۔‘‘

قصصنا إلی الباب الشرقی عنوۃ

فدان لنا مستسلمًا کل قائم

’’لڑائی کرتے ہوئے ہم مشرقی دروازہ کی طرف بڑھے، تو وہاں ہر شخص نے ہماری اطاعت قبول کرلی۔‘‘

أقول وقد دارت رحانا بدارہم

أقیموا لہم حر الوری بالغلاصم

’’میں (دشمن کی عورتوں سے) کہتا تھا، جب کہ ہماری جنگ کی چکی ان کے گھر میں چل رہی تھی: اے پاک طینت خواتین! اٹھو اور ان بزدل مردوں کے گلے مروڑ دو۔

‘‘فلما زأدنا فی دمشق نحورہم

وتدمر عضوا منہما بالأباہم

’’جب دمشق اور تدمر میں ہم نے ان کے دلوں کو ہلا دیا، تو وہ غم و غصہ سے انگشت بدنداں نظر آئے۔‘‘