مفعول کی واجب سے مقارنت کا امتناع - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مفعول کی واجب سے مقارنت کا امتناع

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

مفعول کی واجب سے مقارنت کا امتناع

کئی وجوہ سے یہ بات ممتنع ہے کہ ذات کے ساتھ اس کا مفعول ازلاً مقارن ہو:

۱ ) ایک تو اس لیے کہ اس کا مفعول حوادث کے مستلزم ہے اور وہ اس سے جدا نہیں ہوتا اور جو شے بھی حوادث کو مستلزم ہوتا ہے تو یہ امر ممتنع ہوتا ہے کہ وہ کسی علتِ تامہ ازلیہ کا معلول بنے اس لیے کہ علتِ تامہ ازلیہ کا معلول اس سے بالکل متاخر نہیں ہوتا اور اگر وہ اس سے کچھ متاخر ہو جائے تو پھر وہ علت بالقوۃ کہلاتی ہے نہ کہ بالفعل اور پھر وہ اپنے فاعل ہونے میں ایک ایسی شے کی طرف محتاج ہوتی ہے جو اس کی ذات سے منفصل اور جدا ہو اور یہ امر ممتنع ہے یعنی علت کا معلول کے ساتھ اتصال ہی ضروری ہے اور مفروض بھی یہی ہے ،پس یہ امر واجب ہے کہ وہ اس کے لیے مفعول بنے اور وہ اس سے صادر نہ ہو مگر دھیرے دھیرے اور جو بھی شے اس کے لیے مفعول بنے گی تو وہ حادث ہوگی بعد اس کے کہ وہ معدوم تھی ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ اس کے مفعول کا ازل میں مقارن ہونا اس کے لیے اس کے مفعول بننے سے مانع ہے اس لیے کہ کسی شے کا مفعول بننا اور مقارن ہونا ،یہ عقلاً ممتنع ہے اور موجودات میں کسی شے معین کے بارے میں یہ امر معقول نہیں کہ وہ کسی معلولِ مبائن کے لیے علتِ تامہ بنے بلکہ جن امور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ علت ہے تو یا تو اس کی تاثیر غیر پر موقوف ہوتی ہے (ایسی صورت میں )وہ تام نہیں ہوتی یا یہ کہ وہ اس سے مبائن اور جدا نہیں ہوتی اُن لوگوں کی رائے پر جو کہتے ہیں کہ علم عا لمیت کے لیے علت ہے اور ان لوگوں کے نزدیک جو احوال کو ثابت کرتے ہیں ورنہ جمہور تو یہ کہتے ہیں کہ علم ہی عا لمیت ہے ۔

رہا یہ کہ اگر یہ کہا جائے کہ ذات صفات کے لیے موجب ہے یا ان کے لیے علت ہے تو وہ حقیقت میں تو حقیقت میں اس کے لیے کوئی فعل یا تاثیر ثابت نہیں ،رہا یہ کہ اگر کسی ایسی شے کو فرض کر لیا جائے جو غیر میں مؤثر ہو تو یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ وہ دونوں آپس میں مقارن اور متساوی ہیں اور کوئی ایک دوسرے پر زمان کے اعتبار سے سابق نہیں تو یہ بات بالکل معقول نہیں اور یہ بھی کہ اس کا غیر پر من کل وجہ مقدم ہونا ایک صفتِ کمال ہے کیونکہ جو ذات کسی پر من کل وجہ متقدم ہوتا ہے تو وہ اس سے اکمل ہوتا ہے جس پر وہ مقدم ہو ۔ اگر یہ کوئی کہے کہ فعل یا فعل کو فرض کرنا اس کے بارے میں یہ بات ممکن نہیں کہ اس کے لیے کوئی ابتدا ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور بات جیسے کہ حرکت اور زمان تو جواب میں کہا جائے گا کہ اگر یہ بات باطل ہے تو یہ تو خود بہ خود ہی دفعہ ہو گیا اور اگر یہ صحیح ہے تو جس بات کو ثابت کیا جاتا ہے وہ تو وہ کمال ہے جو ممکن الوجود ہے اور ایسے حال میں جبکہ نوع کے لیے دوام ثابت ہو تو ممکن اور اکمل ذات ہی تمام افراد میں سے ہر فرد پر متقدم ہوگی اس طور پر کہ عالم کے اجزاء میں سے کوئی شے بھی اس کے ساتھ کسی طور پرمقارن اور متصل نہ ہو اور رہا فعل کا دوام تو وہ بھی صفتِ دوام میں سے ہے اس لیے کہ فعل جب صفتِ کمال ہو تو اس کا دوام بھی کمال کا دوام ہے اور اگر وہ صفتِ کمال نہیں تو پھر اس کادوام بھی واجب نہیں پس دونوں تقدیروں پر عالم میں سے کوئی شے بھی قدیم نہیں ٹھہرے گی اور اس بات پر اس مقام کے علاوہ ایک اور جگہ میں تفصیلی کلام عرض کیا جا چکا ہے۔

قدوم عالم اور حکمت و تعلیل کے مسئلہ میں کلام کے درمیان ارتباط کی وجہ

یہاں تو مقصود اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ مسلمانوں کا ماخذ تعلیل کے مسئلہ میں کیا ہے جو تعلیل کو جائز سمجھتے ہیں ۔

تو وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ امر کہ جس پر شریعت اور عقل دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے ماسوا سارے کے سارے اشیاء محدث اور موجود ہیں بعد اس کے کہ معدوم تھے اور اللہ کا ازل سے اس طرح ہونا کہ پہلے فعل سے معطل تھے (یعنی کسی چیز کا احداث نہیں کررہے تھے )۔

پھر آپ کی ذا ت سے افعال صادر ہوئے پھر شرع اور عقل میں کوئی ایسی دلیل نہیں جو اس کو ثابت کرے بلکہ یہ دونوں یعنی عقل اور شرح اس کے نقیض پر دلالت کرتے ہیں یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی وقت فعل سے معطل نہیں ہوئے اور جب کہ نوعِ حوادث اور ان کے اشخاص اور اعیان کے درمیان فرق معروف ہے اور مسلمانوں اور دیگر اہل ملل اور آئمہ فلاسفہ جو کہ عالم میں سے عالمِ بالا اور عالم اسفل میں سے ہر ہر شے کے حدوث کے قائل ہیں جبکہ ان کے اقوال کے درمیان فرق معلوم ہوا اور ایسے ہی ارسطو اور ان کے وہ اتباع جو قدمِ افلاک اور عناصر اربعہ کے قدم کے قائل ہیں ،ان کے اقوال کے درمیان تو اس باب میں غلطی اور صواب اور ٹھیک اور غلط بالکل جدا جدا واضح ہو گئے اور یہ انتہائی اعلیٰ درجہ کے علوم میں سے ہیں اور یہ تعلیل کے قائلین کے خلاف ان لوگوں کے لیے مؤید جواب ہے جو تسلسل فی الآثار کے بطلان سے ان کے خلاف استدلال کرتے ہیں ۔

حجت ِ استکمال

رہا حجت استکمال تو انہوں نے یہ کہا کہ یہ امر ممتنع ہے کہ رب تعالیٰ غیر کی طرف محتاج ہو یا یہ کہ ازل میں اس کی ذات میں کوئی ایسا صفتِ کمال نہ پایا جاتا جس کا ازل میں وجود ممکن ہو جیسے کہ حیات اور علم اور جبکہ اللہ کی ذات ہر شے کے لیے قادر اور فاعل ہے تو وہ کسی بھی طور پر غیر کی طرف محتاج نہ ٹھہری بلکہ عللِ مفعولہ ہی اس کی مقدور اور اس کی مراد ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دل میں دعا (مانگنے کا داعیہ )ڈالتے ہیں اور ان کی دعا کو قبول کرتے ہیں اور ان کے دل میں توبہ ڈال لیتے ہیں اور ان کی توبہ پر خوش ہوتے ہیں جبکہ وہ توبہ کرتے ہیں اور ان کے دل میں طاعات پر عمل ڈالتے ہیں اور ان کو عمل پر ثواب دیتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 5