مفعول کی واجب سے مقارنت کا امتناع - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مفعول کی واجب سے مقارنت کا امتناع

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

پس یہ دائم ذات جو ختم نہیں ہوتا وہ نوع ہے ورنہ تو اس کے افراد میں سے ہر ہر فرد تو ختم ہونے والا منقضی ہے دائم نہیں اور یہ اس لیے کہ وہ حکم کے جس سے افراد کو موصوف کیا جاتا ہے جب وہ کسی ایسے معنی کی وجہ سے ہو کہ جو جملہ افراد میں ہو تو جیسے کہ ہر ہر فرد میں سے صفتِ وجود میں امکان ہے عدم ہے تو یہ مجموعہ کا ان صفات کے ساتھ اتصاف کو مستلزم ہے یعنی وجود امکان اور عدم کے ساتھ اس لیے کہ مجموعہ کی طبعیت اور ماہیت وہی جو ہے وہ ہر ہر فرد کی طبعیت اور ماہیت ہوتی ہے اور مجموعہ تو نہیں ہے مگر صرف وہ احاد کے جو ممکن ہوتے ہیں یا موجود یا معدوم ہوتے ہیں اور رہا یہ کہ جن صفات سے افراد کو موصوف کیا جاتا ہے تو وہ مجموعہ کی صفت نہیں ہوتا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مجموعہ کا حکم افراد کا حکم ہو جس طرح کہ بیت اور انسان اور شجرہ کے اجزاء میں ہے اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک بیت اور انسان اورشجرہ نہیں اس طرح طویل اور عریض اور دائم کے اجزء اور ممتت کے اجزاء یہ بات لازم نہیں ہے کہ ان میں سے ہر ایک طویل عریض اور دائم اور ممتد بھی ہو اس طرح جب یکے بعد دیگے وجود میں آنے والے امور میں سے ہر ایک کو صفتِ فنا اور حدوث کے ساتھ موصوف کیا جائے تو لازم نہیں آتا کہ اس کا نوع بھی منقطع اور حادث ہو بعداس کے کہ نہیں تھا۔اس لیے کہ اس کے حدوث کا معنی تو یہ ہے کہ وہ موجود ہوا بعد اس کے کہ نہیں تھا جس طرح کہ اس کی فنا کا معنی یہ ہے کہ وہ معدوم ہوا بعد اس کے وجود کے اور اس کا وجود کے بعد معدوم ہونا یا عدم کے بعد موجود ہونا ایک ایسا امر ہے جو خود اس کی ذات کے وجود اور عدم کی طرف راجع ہے ،اس نفس طبعیت کی طرف نہیں جو مجموعہ کے لیے ثابت ہے جس طرح کہ افرادِ موجودہ یا معدومہ یا ممکنہ میں ہوتا ہے پس جب اس معین فرد کے لیے دوام ثابت نہیں تو لازم آتا ہے کہ اس کا نوع بھی دائم نہ ہو اس لیے کہ دوام تو افراد کے تعاقب سے عبارت ہے (یعنی افرادکا یکے بعد دیگرے وجود میں آنا )اور یہ ایسا امر ہے کہ اس کے ساتھ مجموعہ یعنی کل مختص ہے اور ایک فرد اس کے ساتھ موصوف نہیں ہوسکتا اور جب مجموعہ کے لیے باہم اجتماع (افراد کا اجتماع )کے بسبب کوئی ایسا حکم ثابت ہو جس کے ذریعے وہ افراد کے حکم کے مخالف ہو تو مجموعہ کا اپنے بقیہ ا احکام میں افراد کے ساتھ مساوات واجب نہیں ہوتا اور بالجملہ وہ صفات جس سے افراد کو موصوف کیا جاتا ہے بسا اوقات اس سے مجموعہ بھی موصوف ہوتا ہے اور بسا اوقات موصوف نہیں ہوتا پس فردِ واحد کے حدوث سے نوع کا حدوث لازم نہیں آتا الا یہ کہ اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہ مجموعہ بھی ان افراد کی صفت کے ساتھ موصوف ہے ۔

اور اس کا ضابطہ یہ ہے کہ جب اس ایک فرد کو اس دوسرے فرد کے ساتھ ملانے سے وہ حکم جو اس فرد کے لیے تھا اگر وہ متغیر ہوگا تو پھر مجموعہ کا حکم افراد کا نہیں ہوگا اور اگر وہ حکم جو فرد کے لیے تھا وہ انضمام اور اتصال کے وجہ سے متغیر نہیں ہوتا توپھر مجموعہ کا حکم افراد کا حکم ہوگا،اول کی مثال جب ہم اِس جزء کو دوسرے جزء کے ساتھ ملا لیتے ہیں تو مجموعہ اکثر ہو جاتا ہے یا اقل یا ہر ہر فرد کے اکیلے حالت سے اعظم اور بڑا ہو جاتا ہے پس ان جیسے احکام میں مجموعہ کا حکم افراد کا حکم نہیں ہے یعنی کثرت میں ،طول اور عظمت میں اور اگر کہا جائے کہ یہ آج کا دن مثلاً اس کو طویل کی صفت کے ساتھ موصوف کیا جائے تو لازم نہیں آتا کہ اس کا جزء بھی طویل ہو اسی طرح جب یہ کہا جائے کہ یہ شخص یا یہ جسم طویل یا ممتد ہے یا کہا جائے کہ یہ نماز بڑی لمبی ہے یا کہا جائے کہ یہ نعمت اللہ کی دائم ہے تو لازم نہیں آتا کہ اس کا ہر ہر جزء بھی دائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ أُکُلُہَا دَآئِمٌ وِظِلُّہَا﴾(سورۃ رعد ۳۵ )

’’ان کا پھل بھی دائمی ہے اور سایہ بھی۔‘‘

اور کھانے کے اجزاء میں سے ہر ہر جزء تو دائمی نہیں ہوتا؛اسی طرح ایک حدیث صحیح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے:

’’ اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جو زیادہ دوام کے ساتھ ہو۔‘‘[مسلِم1؍540 ؛ کتاب صلاِۃ المسافِرِین وقصرِہا؛ البخاری 1؍13؛ کتاب الإِیمانِ، باب أحب الدِینِ ِإلی اللّٰہِ أدومہ۔ سننِ أبِی داود 2؍65 ؛ کتاب التطوعِ، باب ما یأمر بِہِ مِن القصدِ فِی الصلاِۃ ]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دوام کی صفت کے ساتھ ہوتا تھا۔ ‘‘[مسلِم 1؍541؛ کتاب صلاِۃ المسافِرِین، باب فضِیلۃِ العملِ الدائِم؛ سننِ بِی داود 2؍66؛ کتاب التطوعِ، باب ما یأمر بِہِ مِن القصدِ فِی الصلاِۃ۔وأورد البخاری حدِیثینِ عن عائِشۃ۔رضِی اللّٰہ عنہا۔بِمعنی ہذا الحدِیثِ مع اختِلافِ الألفاظِ: الأولِ1؍13(کتاب الِإیمانِ، باب أحب الدِینِ ِإلی اللّٰہِ أدومہ) ولفظہ: وان أحب الدِینِ إِلیہِ ما داوم علیہِ صاحِبہ. والثانِی 3؍38۔39 (کتاب الصومِ، باب صومِ شعبان) ولفظہ: وأحب الصلاِۃ ِ إلی النبِی ۔ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ ما داوم علیہِ وإن قلت.]

تو پس جب انسان کا عمل دائم ہے تو لازم نہیں آتا کہ اس کا ہر جزء بھی دائم ہو ۔

اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ یہ مجموعہ ایک اوقیہ کا عُشر ہے تو لازم نہیں آتا کہ اس کے اجزاء میں سے ہر ہر جزء ایک وقیہ کا عشر ہو اس لیے کہ مجموعہ تو بعض اجزاء کا بعض دوسروں کے انضمام سے حاصل ہوا ہے اور افراد میں اجتماع موجود نہیں تھا اور یہ بخلاف اس کے ہے کہ یہ کہا جائے کہ اجزاء میں سے ہر ہر جزء یا تو معدوم ہے یا موجود یا ممکن یا واجب یا ممتنع ہے اور مجموعہ کے بارے میں یہ بات ضروری ہے وہ یا تو واجب ہوگایا معدوم یا موجود ہو یا ممکن یا واجب یا ممتنع ۔

اس طرح جب تو کہے کہ زنجی قوم میں سے اسود یعنی کالا ہوتا ہے تو پس بے شک (ان حالا ت سے خالی نہیں ) یاواجب ہوگایا معدوم ہو گایا موجود یاممکن یا واجب یاپھر ممتنع ۔

صفحہ 4 از 5