Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح دمشق کے بعد

  علی محمد الصلابی

دمشق فتح ہو جانے کے بعد حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بقاع کی مہم پر روانہ کیا۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 58، 59 العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 185 )

 انہوں نے تلوار کے ذریعہ سے اسے فتح کیا اور ایک سر یہ اگلی کارروائی کے لیے آگے بھیجا، میسنون کے چشمہ پر رومیوں اور سریہ والوں کی مڈبھیڑ ہوگئی، پھر دونوں میں لڑائی ہوئی، اتفاق سے رومیوں میں سے ’’سنان‘‘ نام کا ایک آدمی بیروت کے عقبی حصہ سے مسلمانوں پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوگیا اور مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد کو شہید کر دیا۔ اسی لیے ان شہداء کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس چشمہ کا نام عین الشہداء پڑ گیا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے دمشق پر یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو اپنا قائم مقام بنایا اور یزید رضی اللہ عنہ نے دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ کے ساتھ تدمر روانہ کیا تاکہ وہاں فتح کا راستہ ہموار کریں، اسی طرح ابو زہراء قشیری رضی اللہ عنہ کو بثنیہ اور حوران بھیجا، لیکن وہاں کے لوگوں نے صلح کر لی۔ حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے اردن کے دارالحکومت طبریہ کو چھوڑ کر بقیہ پورے ملک پر بذریعہ جنگ قبضہ کر لیا اور طبریہ والوں نے مصالحت کر لی۔ سیدنا خالدؓ بھی ’’بقاع‘‘ کے علاقہ سے کامیاب ہو کر لوٹے، بعلبک والوں نے سیدنا خالدؓ سے مصالحت کر لی اور آپؓ نے ان کے ساتھ معاہدہ تحریر کر دیا۔