غیر متناہی حوادث کے امتناع کے قائلین کے دلائل اور ان پر رد…

غیر متناہی حوادث کے امتناع کے قائلین کے دلائل اور ان پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

غیر متناہی حوادث کے امتناع کے قائلین کے دلائل اور ان پر رد

غیر متناہی حوادث کو ممتنع کہنے والوں کی بڑی دلیلِ دلیلِ تطبیق اور موازنہ ہے جو دو مجموعوں کے درمیان تفاوت کا مقتضی ہے وہ اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ غیر متناہی امور میں تفاوت محال ہے اس کی مثال یہ ہے کہ وہ حوادث کے دو مجموعے فرض کرتے ہیں مثلاً ایک مجموعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے زمانہ مستقبل یا ماضی میں غیر متناہی حد تک اور دوسرا مجموعہ ان حوادث کا جو طوفانِ نوح سے غیر متناہی حد تک ہے پھر ان دونوں مجموعوں کا آپس میں تقابل اور موازنہ کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ دو حال سے خالی نہیں ،یا تو وہ آپس میں برابر ہوں گے یا ایک دوسرے پر زیادہ ہوگا :

اگر پہلی صورت ہے یعنی آپس میں یہ متساوی فرض کر لیے جائیں تو لازم آئے گا کہ زائد مجموعہ ناقص کی طرح ہے اور یہ بات ممتنع ہے اس لیے کہ ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر زائد اور بڑھ کر ہے کیونکہ طوفانِ نوح اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے درمیان بہت بڑا فصل پایا جاتا ہے ۔

اگر ان دونوں میں سے ایک کو ایک دوسرے پر زیادہ ہے تو غیر متناہی امور میں تفاضل لازم آئے گا اور یہ ممتنع ہے اور محدثین اور اہل کلام اور فلسفہ میں سے جو لوگ ان کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں تو انہوں نے اس مقدمے کو ممنوع قرار دیا اور انہوں نے یہ کہا کہ ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ اس جیسا تفاضل اس میں ممتنع ہے بلکہ ہم تو بالیقین یہ جانتے ہیں کہ زمانۂ مستقبل میں غیر متناہی حد تک طوفانِ نوح سے جو حواث کا مجموعہ ہے وہ اس مجموعہ سے بڑھ کر ہے جو زمانہ مستقبل میں غیر متناہی حد تک ہجرت کے زمانے تک ہے اور اسی طرح ہجرت کے زمانے سے لے کر زمانہ ماضی میں غیر متناہی حدتک جو مجموعہ ہے وہ اس مجموعے سے بڑھ کر ہے جو طوفانِ نوح سے زمانہ ماضی میں غیر متناہی حد تک اس کا مجموعہ ہے اگرچہ ان میں سے ہر ایک کے لیے کوئی ابتداء نہیں ہے اس لیے کہ اِس طرف اور اُس طرف میں جن افراد کے لیے کوئی انتہا نہیں تو وہ کوئی امرِ محصور ،محدود اور موجود فی الخارج نہیں تاکہ یہ کہا جائے کہ یہ مقدار کی نفی میں متماثل ہیں پس دونوں میں سے اکثر کیسے ہوگا بلکہ اس کا غیر متناہی ہونا اس معنی پر ہے کہ وہ دھیرے دھیرے دوام کے ساتھ وجود میں آتا ہے پس وہ کوئی مجتمع اور محصور نہیں ہے ۔

عدمِ تناہی میں اشتر اک مقدار میں تساوی کا تقاضہ نہیں کرتا الا یہ کہ ہر وہ امر جس کو غیر متناہی قرار دیا جاتا ہے وہ ایک محدود مقدار ہو اور یہ بات تو باطل ہے اس لیے کہ جو شے غیر متناہی ہوتی ہے اس کے لیے کوئی محدود حد اور مقدارِ معین نہیں ہوتی بلکہ وہ تو دگنے عدد کے بمنزلہ ہے جس طرح کہ ایک اور دس اور سو اور ہزار ان کا اس تضعیف میں اشتراک جو غیر متناہی ہے ،ان کی مقداروں کی تساوی کا تقاضہ نہیں کرتا ۔

جس طرح کہ یہ واضح ہے کہ ایک اور دس اور سو میں بڑا فرق ہے اسی طرح یہ بات بھی کہ یہ دونوں دو طرفین میں سے ایک طرف سے متناہی ہیں اور دوسرے طرف میں غیر متناہی ہیں جو طرفِ ماضی ہے اور ایسی صورت میں کسی قائل کا یہ کہنا کہ غیر متناہی میں تفاضل لازم آئے گا یہ غلط ہے اس لیے کہ یہ تو مستقبل میں حاصل ہوا اور یہی وہ ہے جو ہمارے قریب ہے اور یہ تو متناہی ہے اور پھر یہ دونوں اُس طرف میں جو ہمارے متصل اور قریب نہیں ،اس میں یہ غیر متناہی ہیں اور وہ ازل ہے اور یہ دونوں متفاضل ہیں اس طرف سے جو ہمارے قریب ہیں جو ابد کا طرف ہے۔

پس یہ کہنا صحیح نہیں کہ غیر متناہی میں تفاوت واقع ہوا اس لیے کہ یہ بات تو اس پر مشعر ہے کہ یہ تفاوت اُس جانب میں حاصل ہوا جس کے لیے کوئی آخر اور انتہاء نہیں حالانکہ صورت اس طرح نہیں بلکہ تفاوت تو اس جانب میں حاصل ہوا جو متناہی ہے ،جس کے لیے کوئی آخر ہے اس لیے کہ وہ تو منقضی (ختم ہونے والا )نہیں ۔

پھر قوم کے ہاں اس کی طرف سے دو جواب ہیں :

۱) ایک یہ کہ کسی قائل کا یہ کہنا ہے کہ جو حوادث گزر گئے ہیں بتحقیق وہ معدوم ہو گئے اور جو ابھی حادث اور پیدا نہیں ہوئے تو وہ موجود نہیں ہے پس ان جیسے امور میں تطبیق یعنی موازنہ صرف ذہن میں فرض کیا جا سکتا ہے خارج میں اس کی کوئی حقیقت نہیں جیسے کہ اعداد کی تضعیف یعنی ان کو دگنا کرنا اس لیے کہ ایک کی تضعیف دس کے دگنے سے کم ہے اور دس کا دگنا سو کے دگنے سے کم ہے اور ان تمام امور میں ان تمام تضعیفات کی کوئی انتہاء نہیں لیکن یہ خارج میں کوئی امر موجود نہیں ہے۔

جو شخص بھی اس کا قائل ہے تو وہ یہ کہتا ہے کہ غیر متناہی امور کا اجتماع ممتنع ہے جبکہ وہ وجود میں مجتمع ہو ں خواہ اس کے اجزاء متصل ہوں جیسے کہ اجسام یا منفصل ہوں جیسے کہ انسانوں کے نفوس اور وہ یہ کہتا ہے کہ جو شے بھی وجود میں مجتمع ہے وہ متناہی ہی ہوتا ہے اور ان میں بعض وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ متناہی تو مجتمع ہے جس کا بعض بعض کے ساتھ متعلق ہے اس طور پر کہ اس کے لیے ایک ترتیبِ وضعی ہوتی ہے جیسے کہ اجسام ،جیسے کہ ترتیبِ طبعی ہوتی ہے ،جیسے کہ علل کے درمیان ۔

رہا وہ جس کا بعض بعض کے ساتھ متعلق نہ ہو جیسے کہ نفوس تو یہ بات اس میں واجب نہیں پس یہ دو قول ہوئے۔ رہے وہ لوگ جو غیر متناہی کے امتناع کے قائل ہیں اگرچہ وہ وجود کے بعد معدوم ہو جائیں تو ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس کے زمانۂ ماضی اور مستقبل دونوں میں امتناع کے قائل ہیں جیسے کہ جہم بن صفوان اور ابوالھزیل علاف اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے ماضی اور مستقبل میں فرق کر دیا اور یہ بہت سے اہل کلام کا قول ہے اور انہوں نے یہ کہا کہ یہ اس لیے کہ جب تو یہ کہے کہ: لا أعطیک درہماالا أعطیک بعدہ درہما تو یہ بات تو ممکن ہے اور اگر تو یہ کہتے لا أعطیک درہماحتیٰ أعطیک قبلہ درہماتو یہ بات ممتنع ہے اور اسی پر ابو المعالی نے اپنے ارشاد میں اور اس کے امثال اہل نظر نے اعتماد کیا ہے ۔

صفحہ 1 از 3