غیر متناہی حوادث کے امتناع کے قائلین کے دلائل اور ان پر رد…

غیر متناہی حوادث کے امتناع کے قائلین کے دلائل اور ان پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

رہی دوسری صورت کہ وہ آپس میں باہم مدد گار ہوں تو اگر کہا جائے کہ ان میں سے ہر ایک مستقل بذاتہ قدرت رکھتا ہے کہ اس حال میں کہ دوسرا بھی قدرت رکھتا ہے تو قدرت کا دو نقیضین کے اجتماع پر دو نقیضین پر اجتماع لازم آئے گا اور یہ ممتنع ہے اس لیے کہ ایک کا مستقل قدرت کی حالت میں دوسرے کی مستقلاً قدرت ممتنع ہے اور یہ دونوں حالتِ واحدہ میں مستقلاً قادر نہیں ہوسکتے اس لیے کہ یہ تو دو دفعہ حالتِ واحدہ میں اس کے پائے جانے کاتقاضا کرتا ہے لیکن یہ بات ممکن ہے کہ اس کو فرض کر لیا جائے جب کہ دوسرا فاعل نہ ہو اور اس طرح بالعکس یعنی پہلا فاعل ہو دوسرا نہ ہو،دوسرا فاعل ہو پہلا نہ ہو پس اس میں ہر ایک کی قدرت دوسرے کے فعل کے عدم کے ساتھ مشروط ہے پس ان میں سے ہر ایک کے فعل کی حالت میں دوسرے کی قدرت ممتنع ہوئی ۔

اگر کہا جائے کہ دونوں متعاونین یعنی مددگار مستقلاً حالتِ واحدہ میں قادر نہیں ہوتے جس طرح کہ مخلوقات میں سے دو مددگار ہوتے ہیں تو یہ بات بھی باطل ہے جیسے طرح کہ عنقریب آئے گا اور مقصود تو یہ ہے کہ اگر وہ دونوں مستقل بذاتہ قادر ہیں تو یہ بات ممکن ہے کہ یہ ایک ذات اپنے مقدور کو کرے اور یہ دوسرا اپنے مقدور کو نہ کرے پس نقیضین کا اجتماع لازم آئے گا مثلاً ایک بارش برسانا چاہے گا اور وہ اس کو وجود دے گا اور دوسرا اس کے عدم کو وجود دے گا ورنہ تو لازم آئے گا کہ ایک کی قدرت دوسرے سے مشروط ہو اور یہ تو ممتنع ہے اور یہ بات کہ ایک دوسرے کے مراد کی ضد کا ارادہ کرے پس یہ ایک اللہ کسی جسم کی تخلیق کا ارادہ کرے گا اور دوسرا اس کے تسکین کا اور دو ضدین کا اجتماع تو ممکن ہے اور اگر دونوں میں سے کسی ایک کے لیے فعل کا ارادہ دوسرے کی موافقت کے بغیر ممکن نہ ہو تو وہ اکیلے عاجز کہلائے گا اور وہ قادر نہیں ہوگا مگر دوسرے کے موافقت کے ذریعے ۔

اسی طرح اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی مستقلاً قادر نہیں بلکہ وہ صرف دوسرے کی معاونت اور قدر ت کے ذریعے معاون بنتا ہے جیسے کہ مخلوقات میں ہوتا ہے یا یہ کہا جائے کہ ان میں سے ہر ایک مستقلاً فعل کے کرنے پر قادر ہے دوسرے کے تخلیہ کی شرط پر یعنی کہ وہ اس کے اور فعل کے درمیان حائل بننے سے ہٹ جائے ح،ائل نہ بنے اور ان تمام صورتوں میں لازم آئے گا کہ ایک کی قدرت دوسرے کی اقدار یعنی تمکین سے حاصل ہو اور یہ امرممتنع ہے اس لیے کہ یہ بات تو فاعلوں اور مؤثرات میں دور کی جنس میں سے ہوا اس لیے کہ بے شک جس امر کے ذریعے فاعل کی فاعلیت تام ہوتی ہے اس میں دور ممتنع ہوتا ہے جس طرح کہ خود ذاتِ فاعل میں دور ممتنع ہے اور قدرت تو فعل کے اندر شرط ہے پس فاعل صرف قدرت ہی کے ذریعے فاعل بنتا ہے لہٰذا جب اس ایک ذات کی قدرت وہ دوسرے کی قدرت ہی سے حاصل ہوتی ہے اور دوسرے کی قدرت صرف اس کی قدرت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے تو یہ دور ممتنع ہوا۔ جس طرح کہ اگر اس ایک کی ذات کا حصول اور وجود دوسرے پر موقوف ہوتا اور دوسرے کی ذات کا حصول اور وجود پہلے کی ذات پر موقوف ہوتا تو یہ بھی ممتنع دور کہلاتا کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے فاعل ٹھہرا بخلاف اس صورت کے کہ ایک دوسرے کے لیے لازم ہو یا اس کے لیے شرط ہو اور فاعل ان دونوں کے علاوہ کوئی اور ذات ہو تو بے شک یہ صورت جائز ہے جس طرح کہ باپ اور بیٹا ہونے میں ذکر کر دیا گیا ہے اور ایسے ہی وہ ایک ذات جو دو ضدین میں سے ایک کا ارادہ کرتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ دوسرے ضد کا ارادہ نہ کرے تو بے شک یہ اس کے قادر ہونے میں قادح نہیں ،رہی یہ صورت کہ وہ اس وقت تک قادر ہی نہیں ہوتا جب تک کہ دوسرا اس کی مدد کرے یا یہ کہ اس کے اور مقدور کے درمیان تخلیہ کر دے یعنی حائل نہ بنے اور فعل سے اسے نہ روکے تو بے شک یہ اس کے اکیلے قادر ہونے میں قاطع ہے اوریہ تمام معانی اس مقام کے علاوہ ایک اور جگہ پر تفصیل سے بیان کر دئے گئے ہیں لیکن چونکہ اکثر اس جیسے مشکل مواضع میں دور اور تسلسل کا کلام ذکر کر دیا جاتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات اور افعال کے دلائل سے متعلق ہے اور لوگوں میں سے بہت سے بسا اوقات ان فروق کی طرف صحیح اور سیدھی راہ نہیں پاتے جو کہ امورِ متشابہ کے درمیان ثابت ہیں ۔

جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی صحیح دلیل کو غلط گمان کیا جاتا ہے یا ایسی شے کو دلیل سمجھا جاتا ہے جو بالکل دلیل ہی نہیں ہوتا یا وہ انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے اور توقف اختیار کر لیتا ہے اور حقیقی حال اس پر مشتبہ ہو جاتا ہے یا کسی ایسے طویل اور مشکل کلام کو سنتا ہے جس کے معنی کو وہ نہیں سمجھتا یا وہ ایسے امور میں کلام کرتا ہے جن کی حقیقت ہی متصور نہیں تو ہم نے یہاں پر ایک لطیف طریقے سے اس بات پر تنبیہ کر دی کیونکہ یہ مقام اس کی تفصیل بیان کرنے کا نہیں ۔


صفحہ 3 از 3