Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ فحل

  علی محمد الصلابی

فحل کی مہم پر مامور افواج جنوب کی طرف بڑھیں اور جب فحل کے بالائی علاقہ میں قرب وجوار کی بستیوں تک پہنچیں تو رومیوں کی ایک لاکھ افواج کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سامنے نظر آیا۔ ان میں اکثریت ان فوجیوں کی تھی جو حمص سے یہاں چلے آئے تھے اور پچھلے معرکوں میں جنہوں نے پے در پے ہزیمتیں اٹھائی تھیں، وہ سبھی یہاں موجود تھے۔ بہرحال فحل کے محاصرہ پر مامور کی گئی اسلامی فوج جب حضرت عمار بن مخشن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں یہاں پہنچی تو رومیوں نے اسلامی لشکر خاص طور سے شہسواروں کو روکنے کے لیے بحیرۂ طبریہ کا دہانہ کھول دیا اور فحل کے چاروں طرف سیلاب آگیا۔ پوری زمین دلدل ہوگئی، عصر حاضر میں بھی فوج کی بکتر بند گاڑیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے یہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے، چنانچہ اس حربہ کے ذریعہ سے رومی فوج مسلم شہسواروں کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب رہی۔ دراصل رومیوں نے پانی، کیچڑ اور دلدل کی اس زمین کو فحل کی زبردست دفاعی لائن مقرر کیا تھا حالانکہ وہاں کی زمین پہلے کافی ہموار تھی، اگر وہ زمین اپنی اصلی حالت پر باقی رہتی تو مسلم فوج بآسانی شہر میں داخل ہو سکتی تھی، کیونکہ وہ صحراؤں میں جنگ لڑنے کی عادی تھی۔ پس ان مخدوش حالات کے پیش نظر عمار بن مخشن رضی اللہ عنہ نے آگے قدم نہ بڑھایا اور فوج کو ’’فحل‘‘ کے محاصرہ کا حکم دے دیا، بے شک ان کی پیش قدمی خطرے سے خالی نہ تھی، کیونکہ دونوں افواج کی تعداد میں کافی تفاوت تھا، آگے بڑھنا کافی دشوار گزار تھا، اور کیچڑ و دلدل والی اس زمین کو عبور کرنا ناممکن سا نظر آتا تھا، چنانچہ مسلمانوں نے ’’فحل‘‘ کے محاصرہ پر اکتفا کیا یہاں تک کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ دارالحکومت دمشق کو فتح کر کے فارغ ہوگئے اور اپنی فوج کو ابوالاعور السلمی رضی اللہ عنہ کی فوج میں ضم کر دیا اور پھر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے نئے سرے سے اسلامی لشکر کو ترتیب دیا:

مقدمہ: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔

میمنہ: حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔

 میسرہ: حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔

 شہسوار دستے: حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔

 پیدل دستے: حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔

اور جنرل کمانڈر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دی، کیونکہ میدان جنگ کا علاقہ انہی کے دائرہ کمان میں آتا تھا۔ شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے قیادت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی، پھر فوج اور ان کے امدادی وسائل کو منظم کیا، لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک کو محاذ جنگ پر نکل جانے اور دوسرے کو ناگہانی حالات میں کوچ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔ حضرت شرحبیل بن حسنہؓ پوری تیاری کے ساتھ شب و روز کے ہر لمحے چاق چوبند رہے۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 188)

 مسلمانوں کی طرف سے ’’فحل‘‘ کا محاصرہ طویل ہوگیا، ایک دن رومیوں نے سوچا کہ کیوں نہ راتوں رات مسلمانوں پر اچانک زبردست حملہ کر کے ان کا صفایا کر دیا جائے۔ اس وقت رومی فوج کی کمان سقلاب بن مخراق کے ہاتھ میں تھی، چنانچہ اپنی منصوبہ بندی کے مطابق انہوں نے مسلمانوں پر یکایک فرد واحد کی طرح پوری مستعدی کے ساتھ دھاوا بولا اور زبردست جنگ چھڑ گئی۔ معرکہ پوری رات اور دوسرے دن شام تک جاری رہا، پھر جب رات نے اپنی سیاہ چادر دراز کرنا شروع کی تب رومی بھاگ کھڑے ہوئے اور ان کا سالار اعلیٰ قتل کیا گیا اور مسلمان ان کے مقتول کندھوں کو روندتے اور ہزیمت خوردہ ونیم مردہ لاشوں کو کیچڑ و دلدل میں لتاڑتے و دفناتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کی حفاظتی کارروائیوں اور جنگی استعداد کے نتیجہ میں رومیوں کی اس فوج میں زبردست ہنگامہ مچ گیا، جو صرف مسلمانوں کی غارت گری اور ان کی پیش قدمی روکنے پر مامور تھی اور پھر ہزیمت کے آثار دیکھ کر رومی فوج میں ایسی بھگدڑ مچی کہ فحل کے اردگرد پانی، کیچڑ اور دلدل کی خود ساختہ دفاعی پٹی میں خود ہی پھنس گئے۔ کچھ ہی رومیوں نے بھاگ کر جان بچائی بقیہ کو مسلمانوں نے خوب روندا، اس طرح ’’فحل‘‘ سے رومی افواج کا مکمل صفایا ہوگیا اور اب مسلمان اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے آئندہ کی بنیادی کارروائیوں کے لیے منصوبہ سازی کرنے لگے۔ چنانچہ حضرت شرحبیل بن حسنہؓ اردن اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فلسطین کی مہم پر روانہ ہوئے۔ دوسری طرف ابوعبیدہ بن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما حمص کی طرف متوجہ ہوئے۔ جب آخر الذکر دونوں قائد مرج الروم پہنچے تو وہاں رومیوں اور مسلمانوں کی فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی۔ جنگ ایسی شدید تھی کہ مقتولین کی لاشوں سے زمین پھٹ گئی، اس جنگ میں مسلمانوں نے متحرک فوجی جھڑپوں اور دیگر جنگی فنون میں سے ایک اہم فن کو عملی جامہ پہنایا، بایں طور کہ دونوں افواج کے مقدمے اصل معرکہ سے قبل ہی آپس میں گتھم گتھا ہوگئے اور جب رومی فوج کے جرنیل ’’توذرا‘‘ کو پتہ چلا کہ ہماری فوج کا مقدمہ اسلامی فوج سے ٹکرا گیا ہے تو فوراً بقیہ فوج کے ساتھ مسلمانوں کی پشت پر حملہ کرنے کے لیے دمشق کی طرف نکل گیا، لیکن مسلمانوں نے اس کی چالاکی کو بھانپ لیا اور جنگی صورتحال کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد یہ طے پایا کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک فوجی دستہ ’’توذرا‘‘ کو بھگانے اور اس کی فوج کو گرفتار کرنے کا کام کرے اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنی فوج کے ساتھ یہیں ٹھہر کر رومیوں سے دو دو ہاتھ کرتے رہیں۔ جس وقت مسلمانوں کی منصوبہ سازی ہو رہی تھی ٹھیک اسی دوران مسلم جاسوسوں نے آکر خبر دی کہ ’’توذرا‘‘ اپنے منصوبہ کے مطابق اپنی فوج کے ساتھ پیش قدمی کر رہا ہے، یہ سننا تھا کہ یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما فوج لے کر آگے بڑھے اور اس کا راستہ روک کر جنگ چھیڑ دی، ابھی توذرا اور یزید رضی اللہ عنہ کی فوج میں اچھی طرح لڑائی شروع نہ ہونے پائی تھی کہ حضرت خالد بن ولیدؓ رومی فوج کی پشت پر اچانک آپہنچے اور سامنے سے یزید رضی اللہ عنہ اور پشت سے خالد رضی اللہ عنہ کی افواج نے مل کر ’’توذرا‘‘ اور اس کی فوج کا تقریباً مکمل صفایا کر دیا۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 188)