فتح بیسان و طبریہ
علی محمد الصلابیحضرت ابوعبیدہ اور خالد رضی اللہ عنہما امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق اپنی اپنی فوج لے کر حمص کی طرف چلے گئے اور حضرت شرحبیل بن حسنہ کو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما نے اردن پر اپنا قائم مقام مقرر کیا، چنانچہ شرحبیل رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو لے کر آگے بڑھے اور بیسان کا محاصرہ کر لیا، وہاں کے لوگ مقابلہ کے لیے باہر نکلے، خونریز جنگ ہوئی، بہت سے رومی قتل کیے گئے اور بالآخر جس طرح دمشق کی صلح ہوئی تھی اسی طرح انہوں نے بھی صلح کر لی، حضرت شرحبیلؓ نے ان پر جزیہ اور زمینوں پر خراج لگا دیا۔ ابوالاعور السلمی رضی اللہ عنہ نے طبریہ والوں کے ساتھ بھی بالکل یہی برتاؤ کیا۔
(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 61)