فصل: ابن مطہر کے خیالات اور ان پر رد کا تسلسل
امام ابنِ تیمیہؒفصل:
ابن مطہر کے خیالات اور ان پر رد کا تسلسل
عنوا ن :روافض کا عقیدہ کہ اہل سنت نے اللہ تعالیٰ کی ذات پرفعلِ قبیح اور اخلال بالواجب کو جائز قرار دیتے ہیں ؛اوراس پر ردّ:
’’رہا رافضی کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اہل سنت نے فعلِ قبیح کو اور واجب میں خلل اور اس میں کوتاہی کرنے کو جائز اور ممکن سمجھا۔‘‘
تو انہیں جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان گروہوں میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں پایا جاتا ؛ جو یہ کہتاہو کہ اللہ تعالیٰ قبیح کا فعل کرتا ہے یا کسی اخلال بالواجب کا ارتکاب کرتا ہے اور کوتاہی واقع ہوتی ہے۔ لیکن معتزلہ اور شیعہ میں سے ان کے موافقینجو تقدیر کے منکر ہیں ؛وہ اللہ تعالیٰ پر ان افعال کو واجب سمجھتے ہیں جن کی جنس میں سے بعض افعال کو وہ بندوں پر واجب سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر ان افعال کو حرام سمجھتے ہیں جن کو بندوں پر حرام سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو اس کے مخلوق پر قیاس کرتے ہوئے اس کے لیے ایک شریعت کو واضح کرتے ہیں پس یہ افعال میں تشبیہ کے قائل ہیں ۔
وہ لوگ جو اہل سنت اور روافض میں سے تقدیرکو مانتے ہیں ؛تو وہ اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جاسکتا جس طرح کہ اس کو اس کی ذات و صفات کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
پس اس کی ذات کے مثل کوئی بھی شے نہیں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں ۔ اور ہم میں سے کسی ایک پر جو امور واجب ہیں ان کے مثل اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی واجب نہیں ہوتا۔ اور ایسے ہی ہم میں سے کسی ایک پر جو امور حرام ہیں تو اس کی مثل اللہ پر تحریم نہیں ثابت کی جا سکتی ہے۔ اور جو امور ہم سے قبیح ہیں (ہم سے ان کا صادر ہونا )وہ اللہ کی ذات سے قبیح ہیں اور جو اللہ کی ذات سے حسن ہیں وہ ہم میں سے کسی ایک فرد سے حسن نہیں کہلاتے اور ہم میں سے کسی کو بھی اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کسی شے کی ایجاب یا اس کی تحریم کر دے۔
پس یہ ان کے اس قول کا اثر ہے جس پر سبھی متفق ہیں ۔ اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب اس کے عباد کے ساتھ کسی شے کا وعدہ کریں تو اس کے وعدہ کے اعتبار سے اس کا وقوع واجب ہوتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اس اپنے اس خبر میں صادق ہیں کہ وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ اور وہ سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اپنے انبیاء اور اپنے نیک بندوں کو عذاب نہیں دیتا بلکہ ان کو جنت میں داخل کرتا ہے جیسے کہ اس نے خبر دی ہے۔
عقلی حسن و قبیح کے بارے میں اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ
لیکن دو مسئلوں میں ان کا اختلاف ہے:
ایک یہ کہ کیا بندے اپنے عقلوں کے ذریعے بعض افعال کے حسن کو سمجھتے ہیں ؟(یعنی بغیر وحی کے محض عقل سے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ کام اچھا ہے اور یہ نہیں )اور کیا وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے فعل کے ساتھ متصف ہیں ؟اور وہ بعض افعال کے قبح کو سمجھتے ہیں ؟اور یہ بات سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس قبح سے منزہ اور پاک ہیں تو یہ دو معروف قول ہیں :
قول اول:.... عقل کے ذریعے کسی فعل کا حسن اور قبح نہیں معلوم کیا جا سکتا۔ رہا اللہ کے حق میں تو اللہ کی ذات سے قبیح (کا صادر ہونا)ممتنع لذاتہ ہے ،رہا بندوں کے حق میں تو حسن اور قبح تو صرف شریعت کے ذریعے ثابت ہو سکتا ہے اور یہ امام اشعری اور اس کے اتباع کا قول ہے اور بہت سے ان فقہاء کا جو امام شافعی اور امام احمد کے اتباع میں سے ہیں اور جب حسن اور قبیح کی تفسیر مناسب اور منافی (لف نشر مرتب )کے ساتھ کیا جائے تو پھر اس کے بارے میں ان لوگوں کا کوئی اختلاف نہیں ہے اس بات میں کہ یہ عقل سے معلوم کیا جا سکتا ہے اس طرح کہ ان کے اس بات میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جب حسن اور قبیح سے کسی شے کا صفتِ کمال ہونا یا صفتِ نقصان ہونا مراد لیا جائے تو یہ بھی عقل سے معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
قول دوم: ....یہ ہے کہ عقل کے ذریعے بہت سے افعال کا حسن معلوم کیا جا سکتا ہے اور قبح بھی اللہ کے حق میں اور بندوں کے حق میں بھی اور یہ باوجود یکہ معتزلہ کا قول ہے تو یہ کرامیہ اور دوسرے طوائف کا بھی قول ہے ،جمہورِ حنفیہ اور امام مالک ،امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ کے بہت سے اصحاب کا بھی ہے جیسے ابو بکر ابہری اور اس کے علاوہ امام مالک کے بعض اصحاب جیسے ابو الحسن تمیمی ، امام احمد کے اصحاب میں سے ابو الخطاب الکلوذانی ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قول اکثر اہل علم کاہے۔ ابو علی بن ابی ہریرہ اور ابو بکرقفال اور اس کے علاوہ دیگر اصحاب شافعی اور ائمہ محدثین کا بھی یہ قول ہے۔ پہلے قول کو اہل بدعت کا قول سمجھا گیا ہے جس طرح کہ اس بات کو ذکر کیا ہے ابو نصر سجزی نے اپنے اس معروف رسالے میں کیا ہے؛ جو سنت کے بیان میں لکھا گیا ہے اور اس کے صاحب ابو القاسم سعد بن علی زنجانی نے اپنے اس شرح قصیدہ میں ذکر کیا ہے جو کہ عقیدہ میں معروف ہے ۔
اس مسئلے میں ایک تیسرا قول بھی ہے جس کو امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی آخری تصنیف میں اختیار کیا ہے اور یہ قول بندوں کے افعال کی تحسین اور تقبیح عقل سے معلوم ہونے کا قول ہے نہ کہ اللہ کے افعال میں ۔
اہل ملل کے آئمہ نے شریعت کے آنے سے پہلے اعیان کے بارے میں اختلاف کیا ہے پس حنفیہ اور بہت سے شافعیہ اور حنابلہ نے کہا کہ وہ اباحت پر ہے؛ جیسے کہ ابن سریج ،ابو اسحاق مروزی ،ابن الحسن تمیمی ،ابو الخطاب اور بعض گروہوں نے اسے ممنوع کہا ہے۔ یعنی شریعت کے آنے سے پہلے اصل اشیاء میں ممانعت ہے ۔جیسے ابو علی ،ابن ابی ہریرہ ابن حامد قاضی ابو یعلی ،عبد الرحمن حلوانی اور ان کے علاوہ باوجود یکہ اکثر لوگ تو اس کے قائل ہیں کہ یہ دونوں قول درست نہیں نہیں سوائے اس کہ ہم یہ کہیں کہ عقل حسن اور قبح کا فیصلہ کر سکتا ہے ورنہ تو جو شخص اس کا قائل ہے کہ عقل کے ذریعے کوئی بھی حکم نہیں جا نا جا سکتا تو اس کے قول پر تو شریعت کے ورود سے پہلے کسی شے کو اباحت سے موصوف کرنا بھی ممتنع ہوا جس طرح کہ اما م اشعری اور ابو الحسن جزری ،ابو بکر صیرفی اور ابوالوفاء ابن عقیل اور ان کے علاوہ دیگرعلماء رحمہم اللہ نے فرمایا ہے ۔