معرکہ حمص 15 ہجری
علی محمد الصلابیحضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے روم کی شکست خوردہ فوج کا حمص تک پیچھا کیا اور وہاں پہنچ کر شہر کا محاصرہ کر لیا، پیچھے سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور دونوں نے محاصرہ کافی سخت کر دیا۔ سخت سردی کا موسم تھا حمص والوں نے کچھ دن اس امید پر محاصرے کی صعوبتیں برداشت کیں کہ شاید سردی کی تاب نہ لا کر اسلامی فوج یہاں سے واپس لوٹ جائے، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بے مثال صبر و عزیمت کا ثبوت دیا۔ چنانچہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ رومیوں کے پاؤں میں خف (چمڑے کے موزے) ہوتے تھے، پھر بھی ان کے پاؤں شل ہو جاتے، جب کہ صحابہ کے پاؤں میں جوتوں کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا، لیکن نہ ان کے پاؤں متاثر ہوئے نہ انگلیاں، اس طرح وہ لوگ موسم سرما کی شدت برداشت کرتے رہے اور وہ موسم ختم ہوگیا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے محاصرہ اور سخت کر دیا۔ حمص کے سردار آگے آئے اور مصالحت کی خواہش ظاہر کی، لیکن اسلامی فوج نے یہ کہتے ہوئے اسے ماننے سے انکار کر دیا کہ ’’کیا ہم صلح کر لیں حالانکہ ہم قیصر شاہ روم کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں؟‘‘ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن صحابہ نے اتنی بلند آواز سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ اس سے پورا شہر دہل اٹھا۔