معرکہ قنسرین 15 ہجری
علی محمد الصلابیحمص فتح ہو جانے کے بعد سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو قنسرین بھیجا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 427 )
جب حضرت خالد بن ولیدؓ وہاں پہنچے تو وہاں کے اصلی باشندوں اور عرب نصاریٰ نے آپؓ کے خلاف جنگ کی، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سخت جنگ لڑی اور دشمن کے بہت سارے لوگوں کو قتل کیا، جو رومی وہاں بس گئے تھے انہیں جلا وطن کر کے ان کے سردار میناس کو قتل کر دیا، باقی رہے جو سیدھے سادھے دیہاتی تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس لڑائی کے لیے تیار نہ تھے اور نہ لڑائی کے لیے ہماری رائے تھی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کی معذرت قبول کر لی اور انہیں قتل کرنے سے رک گئے، پھر جب شہر کے اندر گھسے تو مخصوص سرداروں اور شر پسندوں نے ایک قلعہ میں پناہ لے لی۔ حضرت خالدؓ نے ان سے کہا کہ اگر تم بادلوں میں بھی روپوش ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ ہمیں تم تک پہنچا دے گا یا تمہیں خود ہمارے پاس حاضر کر دے گا۔ پھر برابر ان کا دائرہ تنگ کرتے گئے اور بالآخر فتح نصیب ہوئی۔ سیدنا عمر فاروق کو حضرت خالد رضی اللہ عنہما کے اس کارنامے کی خبر ہوئی تو بے ساختہ بول اٹھے ’’اللہ کی رحمت ہو ابوبکر پر، وہ مجھ سے زیادہ مردم شناس تھے، اللہ کی کی رحمت ہو ابوبکر پر، وہ مجھ سے زیادہ مردم شناس تھے، اللہ کی قسم! میں نے کسی بدنیتی اور برے گمان کی وجہ سے خالد کو معزول نہیں کیا ہے، بلکہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں لوگ انہی پر بھروسا نہ کر لیں۔‘‘
(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 63)