کیا اللہ تعالی کے افعال معلل بالحکم ہیں ؟ - ردِ رافضیت |…

کیا اللہ تعالی کے افعال معلل بالحکم ہیں ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

کیونکہ اشعری کے نزدیک اللہ کا فعل اس کا مفعول ہے۔ پس اشعری نے بندوں کے افعال کو اللہ کے افعال بنا دیا اور وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ افعال بندوں کے ہیں ۔ اشعری کا مشہور قول یہی ہے۔ مگر مجاز کے طور پر۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ یہ بندوں کا کسب ہے۔ اور وہ کسب کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ کسب قدرتِ محدثہ کے محل میں حاصل ہونے والی شے کا نام ہے؛ جو اس محل سے ملی ہو اور امام مالک، شافعی اور احمد کے اصحاب کی ایک جماعت نے اس قول میں ان کی موافقت کی ہے۔

جبکہ اکثر لوگوں نے اس کلام پر طعن کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تین کلام بے حد عجیب ہیں :

(۱) طفرۃ النظام

(۲) ابو ہاشم کے احوال

(۳) اور اشعری کا کسب۔ لوگوں نے اس بارے یہ شعر بھی کہا ہے:

’’کہی جانے والی بے حقیقت باتوں میں سے، جو معقول اور افہام کے قریب ہیں ، چند یہ ہیں : اشعری کے نزدیک کسب، بہشمی کے نزدیک حال اور نظام کا طفرہ (چھلانگ)۔‘‘

جبکہ جملہ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ بندوں کے افعال حقیقت میں ان کے افعال ہیں ۔ یہ اشعری کے دو اقوال میں سے ایک ہے؛ اور ان کے جمہور جو خلق اور مخلوق میں فرق کرتے ہیں ، یہ کہتے ہیں : اللہ کی مخلوق اس کے مفعول ہیں اور یہ اس کا نفس فعل اور اس کا وہ فعل خلق نہیں ہیں جو اس کی ایسی صفت جو اس کے ساتھ قائم ہو۔

یہ ان شنیع اقوال میں سے چند اقوال ہیں جن کی طرف جمہور اہل سنت کے اقوال کی روشنی میں سرے سے التفات کیا ہی نہیں جانا چاہیے اور ان کو اشعری وغیرہ مثبتہ جماعت پر ردّ کر دینا چاہیے۔

ظلم کی تفسیر میں اہل سنت والجماعت کے ہاں اختلاف ہے ‘جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

اگر اس سے مراد یہ ہے کہ وہ فعل جو بندے کی جانب سے ظلم وعبث ہے ‘تو پھر اس کے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہونے میں کوئی ایسی ممنوع بات بھی نہیں ۔[[ اہل سنت اللہ تعالیٰ کو افعالِ عباد کا خالق قرار دیتے ہیں ۔ قرآن کریم میں فرمان الٰہی ہے:﴿ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ﴾ (الانعام:۱۲۰ ) ’’وہ ہر چیز کا خالق ہے۔‘‘]]

جمہور اہل سنت والجماعت یہ نہیں کہتے کہ : یہ ظلم و عبث اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔ بلکہ وہ کہتے ہیں : یہ بندے کا فعل ہے ‘ مگر تخلیق اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جیساکہ انسانی قدرت ‘اس کی سمع و بصارت اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے ‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی سمع و بصارت اور قدرت ہر گز نہیں ہے۔[[(منہاج السنہ میں اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ : ظلم کا صدور اس شخص سے ہوتا ہے جو اس کا مرتکب ہوتا ہے۔ ظلم کا پیدا کرنے والا(ذاتِ اللہ تعالیٰ) ظالم نہیں ہو جاتا۔ غور کیجیے کہ عبادات، روزہ اور حج وغیرہ کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے، مگر ان کو پیدا کرنے سے وہ عابد، روزہ دار اور حاجی نہیں بن گیا۔اسی طرح بھوک کو بھی اسی نے پیدا کیا، مگر وہ بھوکا نہیں بن گیا۔ تو پھر ظلم کی تخلیق سے وہ ظالم کیوں کر ٹھہرا؟قاعدہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی جگہ کسی صفت یا فعل کو پیدا کرتا ہے تو وہ اس فعل یا صفت سے متصف نہیں ہوتا۔اگر ایسا ہوتا تو اسے تمام پیدا کردہ اَعراض(جمع عَرض وہ چیز جو بذاتِ خود قائم نہ ہو بلکہ اس کا وجود کسی چیز کے باعث ہو) کے ساتھ موصوف کردیا جاتا۔[دراوی جی ]


صفحہ 2 از 2