Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ قیساریہ 15 ہجری

  علی محمد الصلابی

15 ہجری میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کو قیساریہ (تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 231) کا امیر بنایا اور ان کے نام خط لکھا: 

حمد وصلاۃ کے بعد! میں تمہیں قیساریہ کا امیر بناتا ہوں۔ تم وہاں چلے جاؤ اور ان کے بارے میں اللہ سے مدد مانگو، کثرت سے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔ پڑھا کرو اور کہتے رہو:

اَللّٰہُ رَبُّنَا وَثِقَتُنَا وَجَاؤُنَا ، وَمَوْلَانَا نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ الْنَّصِیْرُ۔

ترجمہ: اے اللہ! تو ہی ہمارا رب ہے، تجھ پر ہمارا بھروسا ہے، تجھ سے امیدیں وابستہ ہیں، تو ہی ہمارا مددگار ہے، تجھ سے اچھا کوئی محافظ اور معاون نہیں۔‘‘ 

چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ وہاں سے قیساریہ چل پڑے اور وہاں پہنچ کر شہر کا محاصرہ کیا، کئی مرتبہ وہاں کے باشندوں سے جھڑپیں ہوئیں اور ایک وقت آیا کہ دونوں میں شدید جنگ چھڑ گئی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پامردی سے جمے رہے اور جنگ کو کامیاب بنایا۔ اللہ نے ان کے ہاتھوں کو مضبوط کیا اور فتح سے نوازا، دشمن کے تقریباً اسی ہزار (80,000) لوگ جنگ میں قتل کیے گئے اور بیس ہزار (20,000) ہزیمت خوردہ و مفرور فوج کو ملا کر ایک لاکھ تعداد پوری کر دی، پھر مال غنیمت کا خمس اور فتح کی بشارت دے کر اپنے قاصد کو امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ: صفحہ 355)

ڈاکٹر عبدالرحمٰن شجاع بیان کرتے ہیں کہ ملک شام کے شہر مجاہدین کے ایک ہی حملے میں پے درپے فتح ہوتے چلے گئے، چونکہ سلطنت روم بھی شکست کی ہزیمت اٹھائے ہوئے تھی وہ اس پوزیشن میں نہ تھی کہ پیش قدمی کا سوچتی، اس طرح شہر بیروت صید، نابلس، لد، حلب اور انطاکیہ مسلمانوں کے زیر تسلط آگئے اور قیساریہ ملک شام کا آخری شہر تھا جو سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے ہاتھوں فتح ہوا اور یہ واقعہ بیت المقدس کی فتح کے بعد کا ہے۔

ترتیب و تہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 63، 64)