فصل: الزام : اللہ تعالی وہ کام نہیں کرتے جو زیادہ مناسب ہو…

فصل: الزام : اللہ تعالی وہ کام نہیں کرتے جو زیادہ مناسب ہو

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

اسی لیے کہا گیا ہے کہ انھوں نے اس بات سے انکار کر دیا کہ اللہ بندوں کی جلبِ منفعت یا دفع مضرت کے لیے کوئی فعل کرتا ہے۔ یہ لوگ اس بات کے بھی قائل نہیں کہ وہ کسی بھی مصلحت کے لیے فعل نہیں کرتا۔ بلاشبہ یہ مکابرہ ہے بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ نہ تو یہ اس پر واجب ہے اور اس سے اس کا وقوع لازم ہے اور کہتے ہیں کہ وہ کسی بات کے لیے یا کسی بات کے ذریعے کچھ نہیں کرتا۔ بلکہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں کیونکہ اس کا ارادہ دونوں کو ملا ہوتا ہے۔ پس وہ ایک کو اس کے ساتھی کے ساتھ کرتا ہے۔ نہ اس کی خاطر اور نہ اس کے ذریعے اور دونوں میں اقتران یہ عادتِ جاریہ کی بنا پر ہے نہ کہ اس لیے کہ دونوں میں سے ایک دوسرے کا سبب یا اس کی حکمت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رب تعالیٰ نے قرآن میں جہاں بھی اپنے خلق و امر کو بیان کیا ہے لامِ تعلیل کے بغیر بیان کیا ہے۔ امام احمد، مالک اور شافعی وغیرہ کی ایک جماعت نے اس بات میں ان کی موافقت کی ہے۔ باوجودیکہ یہی فقہاء جو کتب کلام میں اس بابت ان کی موافقت کرتے ہیں ، فقہ، تفسیر، حدیث اور دلائل فقہ کے بیشتر مسائل میں ان کے خلاف قول کرتے ہیں ۔ جبکہ اصول فقہ میں ان کا کلام کبھی معتزلہ کے تو کبھی اہل سنت کے موافق ہوتا ہے۔ لیکن ان جملہ گروہوں میں سے جمہور اہل سنت اور دیگر جماعتیں تقدیر کو ثابت مانتی ہیں اور حکمت اور رحمت کو بھی ثابت کرتی ہیں اور یہ کہ اس کے فعل کی ایک غایت محبوبہ اور عاقبت محمودہ ضرور ہے۔ بے شک یہ مسائل بے حد عظیم ہیں اور دوسرے مواقع پر مفصل مذکور ہیں ۔

خلاصہ یہ ہے کہ معتزلہ اور شیعہ حکمت و رحمت کی کسی نوع کو ثابت نہیں کرتے۔ وگرنہ ائمہ اہل سنت نے اس سے زیادہ کامل اور اس سے زیادہ بزرگ حکمت و رحمت کو ثابت کیا ہے اور وہ رب تعالیٰ کی قدرتِ تامہ، مشیت نافذہ اور خلقت عامہ کو بھی ثابت کرتے ہیں ۔

جبکہ معتزلہ اس کو ثابت نہیں کرتے اور شیعہ کے متقدمین متکلمین جیسے ہشامَین وغیرہما قدر کو دوسروں کی طرح ثابت کیا کرتے تھے۔ جبکہ زیدیہ شیعہ میں سے کوئی تو قدر کے اثبات کا قائل تھا اور کوئی قائل نہیں تھا۔ شیعہ کے قدر کے بارے میں دو اقوال ہیں ۔

پس اہل سنت کے ہاں کوئی ضعیف قول موجود نہیں ۔ البتہ شیعہ میں سے کسی کا قول ضعیف تو کسی کا ضعیف تر ہے۔ اور شیعہ کے ہاں سرے سے کوئی قوی قول نہیں پایا جاتا ہاں اہل سنت میں قوی قول بھی ہے اور قوی تر بھی ہے۔ لہٰذا یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ شیعوں میں کسی نے ایسا قوی قول کیا ہوا جو اہل سنت میں پایا نہ جاتا ہو۔ پس ثابت ہوا کہ اہل سنت ہر خیر کے شیعہ سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ مسلمان ہر خیر کے یہود و نصاری سے زیادہ قریب ہیں ۔


صفحہ 2 از 2