Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بیت المقدس کی فتح 16 ہجری

  علی محمد الصلابی

جس وقت مسلمانوں نے فتح کے ارادے سے بیت المقدس کا رخ کیا اس وقت فلسطینی حکومت کی کمان ارطبون رومی کے ہاتھ میں تھی، وہ مقام و مرتبہ میں بادشاہ روم کے ہم پلہ ہوا کرتا تھا، یہ شخص دور اندیش جنگی سوجھ بوجھ رکھنے والا اور اپنے فیصلہ پر ٹھوس اقدام کرنے والا تھا، اس نے جنگی حکمت عملی کے تحت ’’رملہ‘‘ اور ’’ایلیا‘‘ (بیت المقدس) میں بڑی بڑی افواج اتار دی تھیں۔

(حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: دیکھیے یاسین وسوید: صفحہ 35)

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ کو صورت حال سے آگاہ کیا اور مستقبل کی کارروائی کے لیے مشورہ کرتے ہوئے اجازت مانگی۔ اس موقع پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو بات کہی وہ آج بھی شہرت کی حامل ہے۔ 

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: ’’ہم نے روم کے ارطبون کو عرب کے ارطبون سے ٹکرا دیا ہے، دیکھو اب کیا ظہور ہوتا ہے۔‘‘ 

( تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 431)

 وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ دونوں ہی اپنی اپنی قوم کے زیرک و زبردست جرنیل ہیں۔

15 ہجری میں اجنادین پر مسلمانوں کی دوبارہ لشکر کشی اور رومیوں پر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے غلبہ نے فلسطین کا راستہ ہموار کر دیا تھا (حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: صفحہ 35) اور اب معرکہ بیت المقدس کا عملی نفاذ ہونے جا رہا تھا۔ رومی قائد ارطبون نے اپنے لشکر جرار کو کئی حصوں میں تقسیم کر کے رملہ اور ایلیا (بیت المقدس) میں پھیلا دیا تھا۔ دونوں شہروں کا درمیانی فاصلہ اٹھارہ (18) میل ہے۔ ارطبون کا مقصد یہ تھا کہ حضرت عمرو بن عاصؓ کی قیادت میں ان دونوں عظیم شہروں پر مسلمانوں کی طرف سے کوئی فوجی کارروائی نہ ہو سکے۔ اور یقیناً دونوں شہر اہمیت کے حامل تھے۔ ’’رملہ‘‘ فلسطین کا بڑا قصبہ اور ’’ایلیا‘‘ (بیت المقدس) اس کا سب سے بڑا شہر تھا۔ 

(حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: صفحہ 35، 36)

رومی بادشاہ کی طرف سے ’’ارطبون‘‘ کو ’’ایلیا‘‘ 

کا حاکم مقرر کیا گیا تھا، یاد رہے کہ یہ وہی ارطبون ہے جو اجنادین میں شکست کھانے کے بعد اپنے لاؤ لشکر سمیت یہاں بھاگ آیا تھا اور اس وقت رملہ کا حاکم تذارق تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 432)

اور اب آئندہ صفحات میں ان مراحل کا ذکر ہوگا جن سے بیت المقدس فتح کرتے وقت مسلمان گزرے۔