مشاغلہ الجھانا
علی محمد الصلابیخلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی منصوبہ سازی یہ تھی کہ رومی فوج کو فلسطین میں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے محاذ آرا ہونے سے اس وقت تک روکا جائے جب تک کہ اجنادین میں رومی فوج پر مسلمانوں کا غلبہ نہ ہو جائے، تاکہ یہاں سے مکمل طور پر نمٹنے کے بعد بیت المقدس اور بقیہ بلاد شام پر اپنی توجہ مرکوز کی جائے۔ چنانچہ اسی منصوبہ بندی کے مطابق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اپنے ساتھ شہ سوار مجاہدین کا قافلہ لے کر قیساریہ چلے جائیں اور وہاں کے رومی محافظ دستوں کو عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھنے سے الجھائے رکھیں۔ ادھر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا بالکل وہی منصوبہ تھا جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا تھا، اس لیے آپؓ نے کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے علقمہ بن حکیم الفراشی اور مسروق بن فلان المکی کو ایلیا میں روم کے محافظ دستے کو الجھانے والی فوج کا امیر بنا کر روانہ کیا، وہ لوگ ایلیا (بیت المقدس) گئے اور اپنے کام میں لگ گئے۔
(حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: دیکھیے یاسین وسوید: صفحہ 36)
پھر ابو ایوب المالکی کو ’’رملہ‘‘ میں روم کے محافظ دستوں کو الجھانے والی فوج کا امیر بنا کر بھیجا، اور ابھی حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس خارجی امدادا پہنچ بھی نہ سکی تھی کہ آپؓ نے تیاری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے محمد بن عمرو کو ان کی فوج کے ساتھ ایلیا کے محاذ پر ڈٹے ہوئے مجاہدین اسلام کی مدد کے لیے روانہ کیا۔ اسی طرح عمارہ بن عمرو بن امیہ ضمری کو ان کی فوج کے ساتھ ’’رملہ‘‘ کے محاذ پر ڈٹے ہوئے مجاہدین اسلام کی مدد کے لیے بھیجا اور آپؓ خود اجنادین میں قیام کر کے ارطبون کے ساتھ قطعی جنگ کا انتظار کرنے لگے۔ اس دوران میں ایلیا کے محافظ دستے اپنی فصیل سے مسلمانوں سے زبردست مورچہ لیے ہوئے تھے اور شہر مقدس کے اردگرد جنگ کی رفتار زور پکڑ رہی تھی، جب کہ ٹھیک اسی وقت رومی اور اسلامی افواج اجنادین میں جنگ کے لیے مکمل طور پر مسلح ہو رہی تھیں اور اس کے بعد اجنادین میں جو جنگ ہوئی وہ خون ریز جنگ تھی۔
(حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: دیکھیے یاسین وسوید صفحہ 36)
طبری کا بیان ہے کہ مسلمانوں اور رومیوں نے اجنادین میں جنگ یرموک کی طرح بڑی بے جگری سے لڑائی لڑی اور دونوں طرف سے بہت لاشیں گریں۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 433)
عرب کے ارطبون نے روم کے ارطبون سے آمنے سامنے کی ٹکر لی اور اسے شکست دی، روم کا ارطبون اپنی فوج کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا، تاکہ شہر مقدس کی فصیل کو پشت پناہ بنایا جا سکے۔ مسلمانوں نے بھی حکمت عملی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے لیے راستہ صاف کر دیا اور وہ شہر مقدس کے اندر چلا گیا۔
( تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 433)
طبری کی روایت ہے کہ ارطبون کے پیچھے ہٹ جانے کے بعد علقمہ، مسروق، محمد بن عمرو اور ابو ایوب جو بیت المقدس کے محافظ دستوں کے مقابلہ کے لیے پہلے بھیجے گئے تھے وہ سب اجنادین آکر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے آملے، پھر آپؓ اپنا پورا لشکر لے کر بیت المقدس کا محاصرہ کرنے کے لیے آگے بڑھے۔
(حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: دیکھیے یاسین وسوید: صفحہ 37)
مسلمانوں نے حضرت عمرو بن عاصؓ کی قیادت میں بیت المقدس کے چاروں طرف پڑاؤ ڈال دیا اور جناب عمرو رضی اللہ عنہ نے شہر والوں کے لیے محاصرہ تنگ کرنا شروع کیا۔ شہر مقدس کافی محفوظ و مستحکم تھا، اس کی فصیلوں کی حفاظت و پائیداری کے بارے میں واقدی کا بیان ہے کہ اس پر منجنیق، سنگ بار آلات، تلواروں، خود اور اعلیٰ معیار کی زرہوں سے لیس سپاہی ہمہ وقت چاق و چوبند کھڑے رہتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ محاصرہ کے تیسرے دن جنگ اس وقت شروع ہوئی جب مسلمان فصیلوں کی طرف آگے بڑھے، وہاں کے محافظ دستوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے مسلمان فوج پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی، مسلمانوں نے اپنی زرہوں اور خودوں سے اس کا مقابلہ کیا، لڑائی صبح کے وقت شروع ہوتی اور شام کو بند ہو جاتی، اسی طرز پر کئی دنوں تک لڑائی کا سلسلہ جاری رہا اور جب دس دن اسی حالت پر گزر گئے تو گیارھویں دن حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما اور ساتھ میں شہ سوار مجاہدین و جانباز موحدین کو لے کر آپہنچے،
(حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: دیکھیے یاسین وسوید: صفحہ 37)
انہیں دیکھ کر بیت المقدس والوں کا دل خوف سے دہل گیا۔ تاہم چار مہینے محاصرہ جاری رہا اور کوئی دن خالی نہ جاتا تھا کہ جس میں زبردست مقابلہ نہ ہوتا رہا ہو۔ اس طرح مسلمان سخت سردی، بارش اور برفیلی ہواؤں کو برداشت کرتے رہے اور صبر و عزیمت کا مظاہرہ کرتے رہے۔
(حروب القدس: صفحہ 38)
یہاں تک کہ رومی فوج مسلمانوں کے محاصرہ کا مقابلہ کرنے سے مایوس ہوگئی، ان کے بطریق ’’صفرونیوس‘‘ نے اس بلائے بے درماں سے نجات پانے کے لیے اپنی آخری کوشش شروع کی اور مسلمانوں کے قائد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے نام جذبات کو بھڑکانے والا ایک خط تحریر کیا کہ ’’محاصرہ ختم کر دو، شہر مقدس پر تمہیں فتح پانا نا ممکن ہے۔‘‘
(حروب القدس: صفحہ 38)