شیعہ عالم سعد بن عبداللہ القمی کی توثیق از شیعہ کتب
جعفر صادقشیعہ عالم سعد بن عبداللہ القمی کی توثیق از شیعہ کتب (الفہرست باب السین ص 135)
سعد بن عبداللہ القمی نے تو ابن سبا کے ساتھیوں کے نام لکھ لکھ کر بتائے کہ یہ ملعون کیا کیا کرتا رہا اور آپ ذاتی تاویل سے کہتے ہیں کہ قول کی سند دکھاؤ۔۔۔ یہ عالم قدیم ترین ثقہ عالم ہے، کہیں تو اس کی بھی توثیق پیش کردوں؟
شیعہ مذہب کا نامور عالم اور فقیہ سعد بن عبد اللہ القمی ۔جسے شیعہ عالم نجاشی "
شیخ الطائفة و فقيهها ووجھھا"
جسے بلند پایہ القاب سے ذکر کرتا ہے۔ رجال النجاشي، ص: 126
شیعہ عالم سعد بن عبداللہ القمی کی توثیق از شیعہ کتب (رجال النجاشی ص 174)
آپ کی ذاتی تاویل نامنظور!! اہل علم جانتے ہیں کہ ذریعہ چھپانا ہی کافی ہوتا ہے۔
اب دیکھیں ابن سبا کے دور میں تینوں جیّد شیعہ متقدمین علماء تو موجود نہیں تھے، وہ کیسے براہ راست ابن سبا کی حقیقت جان سکتے ہیں۔۔۔ اب اپنی اپنی کتب میں انہوں نے اہل علم کے ذریعہ سے یہ حقائق بیان کردئے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تفصیل مجہول یا ضعیف ہے ، بلکہ با اعتماد ذرائع سے یہ حقائق ان تک پہنچے ہیں۔ اگر انہوں نے جھوٹ لکھا ہے تو ثقہ نہ رہے، اگر درست بیان کیا ہے تو ابن سبا شیعیت کے پانچ عقائد کا بانی ثابت ہوتا ہے۔
آپ علمی انداز سے ثابت کریں کہ وہ اصحاب علی جو متقدمین شیعہ علماء کے نزدیک اہل علم میں سے تھے وہ دراصل اہل علم تھے ہی نہیں، کوئی جاہل، کم علم قسم کے لوگوں کے نظریات کو تین جیّد شیعہ علماء نے خوامخواہ اہل علم کہہ کر بیان کردیا ہے۔
⬅️ یہ مؤقف بھی تائید شیعہ علماء کی مدد سے ثابت کرنا ہوگا۔ پھر اس کوشش میں کامیابی کے بعد یہ تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہ کامیابی بھی درحقیقت شیعیت کی ناکامی ہے کیونکہ متقدمین ثقہ شیعہ علماء کی وثاقت تو مٹی میں مل جائے گی۔ ذاتی تاویلات ⬅️ نامنظور
جو مؤقف بھی اختیار کریں اسے دلیل سے ثابت کریں۔
نوبختی کا قول مندرجہ ذیل وجوہات سے قبول ہے۔
1:اس نے صحیح روایات نقل کر کے اہل علم اصحاب سیدنا علی سے بیان کیا ہے۔
2: اسی قول کو سعد بن عبداللہ اور علامہ کشی کی تائید بھی حاصل ہے۔
3: اس قول میں بیان کئے گئے حقائق عقلی طور پر درست ہیں اور صحیح روایات سے مطابقت رکھتے ہیں۔
4: اس قول کے خلاف متعارض صحیح روایات یا دیگر جیّد شیعہ علماء کے اقوال موجود نہیں ہیں۔
کیا ہم آپ کی ذاتی رائے کو قابل حجت تسلیم کرلیں؟ بغیر دلیل مان لیں کہ تین صحیح روایات کے ذیل میں نوبختی نے جو اہل علم سے آغاز کیا ہے وہ دراصل اہل علم نہ تھے بلکہ *اہل مکر و فریب اور کذاب* تھے؟
اوپر چارٹ بناکر اپنے دلائل کو سمجھا دیا ہے۔بہتر ہے کہ اس کا علمی رد کریں۔
میں اپنے مؤقف کے حق میں دلائل پیش کر چکا ہوں۔ اگرآپ نے ان کا علمی رد نہ کیا تو وہ ثابت شدہ سمجھے جائیں گے۔ مزید کوشش کریں، مجھے یقین ہے آپ کو دیگر شیعہ حضرات کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔ یہ ضروری بھی ہے تاکہ شیعیت کے دفاع میں کوئی کمی نہ ہو۔
مجھے اپنے دلائل کا اسی درجہ کی روایات اور اقوال سے مضبوط رد درکار ہے بصورت دیگر میرا دعویٰ ثابت ہوجائے گا۔
میں نے جو نکات پوچھے ہیں، ان کا جواب دے دیتے تو معاملہ حل ہوجاتا۔
اہل سنت علماء (علامہ ابن اثیر، ابن حجر اور ابن عبدالبر)نے بغیر صحیح روایات کے تاریخی واقعات کو نقل کیا ہے۔ انہیں تاریخی واقعات کا کیسے علم ہوا کچھ نہیں پتہ! کوئی ذریعہ بھی بیان نہیں ہوا۔یہاں آپ والی بات صادق آتی ہے کہ انہیں جو ملا نقل کردیا۔
⬅️ آپ کا استدلال باطل ہے۔
میری دلیل نقلی و عقلی اور تین شیعہ جیّد ثقہ علماء کے اعترافات پر مبنی ہے۔ میرا استدلال اسی کے مطابق ہے۔
⬅️ دعوی میرے استدلال سے ثابت ہوتا ہے۔
شیعہ مناظررانا سعید کا اپنے ہی علماء کی کتب میں ان کے اقوال کی سند طلب کرنا !!
جعفر صادق: قول کی سند اس وقت طلب کرنا درست ہوتا جب کسی اور سے نقل کیا جاتا۔
⬅️ وہ قول براہ راست اسی عالم کا ہے جس نے وہ کتاب تصنیف کی ہے۔
*قول کی سند مشکوک مطلب اس کتاب کی سند مشکوک*
جبکہ میں علامہ کشی کی توثیق کے ساتھ ساتھ پوری کتاب رجال کشی کی توثیق علامہ طوسی سے ثابت کرچکا ہوں۔
آپ کے لئے ایک آپشن یہ بھی ہے کہ آپ اس کتاب کا سرے سے انکار ہی کردیں۔ میں پھر تحقیق کا دائرہ ان تینوں متقدمین کی کتب تک پھیلا لوں گا۔ اور مزید دلائل بھی اسی پر پیش کروں گا۔آپ انکار کریں میں تیار ملوں گا۔