استسلام خودسپردگی
علی محمد الصلابیروم کے ارطبون نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے نام جو خط روانہ کیا تھا اس میں لکھا تھا:
’’تم میرے دوست ہو اور میرے ہم رتبہ ہو، تمہاری قوم میں تمہارا وہی مقام ہے جو میری قوم میں میرا مقام ہے۔ اللہ کی قسم! اجنادین کے بعد اب تم فلسطین کا کوئی حصہ فتح نہیں کر پاؤ گے۔ اس لیے واپس لوٹ جاؤ اور دھوکے میں نہ رہو، ورنہ تمہیں بھی اپنے پیش رووں کی طرح منہ کی کھانی پڑے گی۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 433)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس جوابی خط میں تحریر کیا کہ ’’میں فاتح بیت المقدس ہوں‘‘ اور خط اپنے قاصد کے ذریعہ سے بھیجتے ہوئے قاصد کو نصیحت کی کہ ارطبون سے اس خط کا جواب لے کر لوٹے۔ جب ارطبون نے حضرت عمرو بن عاصؓ کا خط پڑھا تو ہنسنے لگا اور کہا: ’’بیت المقدس کے فاتح کا نام عمر ہے‘‘ قاصد نے ارطبون کی بات حضرت عمرو بن عاصؓ کو بتائی، تو حضرت عمروؓ نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ ارطبون امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 433)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے خلیفہ راشد کے نام خط لکھا اور ارطبون کی بات نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نزدیک امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ ہی بیت المقدس فتح کر سکتے ہیں۔ نیز حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ خط میں سیدنا عمرؓ سے مدد کا مطالبہ کیا اور آئندہ کی کارروائی سے متعلق رائے اور مشورہ لیتے ہوئے لکھا:
’’میں سخت ترین اور سنگین جنگ میں لگا ہوا ہوں، ایسے شہر میں ہوں جو آپؓ کے سامنے سپر انداز ہونے کو تیار ہے، آگے آپ کی مرضی۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 433)
چنانچہ صلاح و مشورہ کے بعد ایک امدادی فوج لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکل پڑے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بنایا اور خود جابیہ پہنچ گئے۔ سیدنا عمرؓ کے پہنچنے کے بعد ایلیا (بیت المقدس) والے خود سامنے آئے اور جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت کی اور بیت المقدس کے دروازے ان کے لیے کھول دیے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 433)