Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بیت المقدس کا محاصرہ کس نے کیا؟ روایات کا اختلاف اور تحقیق کا نتیجہ

  علی محمد الصلابی

مؤرخ طبری نے بیت المقدس کے محاصرہ سے متعلق کئی روایات نقل کی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق محاصرہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے شام آنے کی وجہ یہ تھی کہ جب ابوعبیدہؓ بیت المقدس پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے شام کی دیگر بستیوں کی طرح یہاں بھی صلح کی پیش کش کی اور کہا کہ معاہدہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ہوگا تو حضرت ابوعبیدہ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو اس سلسلہ میں خط لکھا اور سیدنا عمرؓ نے مدینہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنا کر امدادی فوج لے کر شام کی طرف سفر کیا۔ ابن اثیر سے بھی دو روایات منقول ہیں اور دونوں طبری کی روایات سے بالکل ملتی جلتی ہیں۔

(حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: دیکھیے یاسین سوید: صفحہ 40)

جب کہ واقدی نے بیت المقدس کے محاصرہ اور اس دوران سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مشورہ اور رومی محافظ دستوں سے بات چیت کو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سات قائدوں کی قیادت میں پینتیس(35) ہزار مجاہدین کو بیت المقدس فتح کرنے کے لیے بھیجا اور ہر قائد کے ساتھ پانچ ہزار فوجی تھے۔ ان ساتوں قائدین میں حضرت خالد بن ولید، یزید بن ابی سفیان، شرحبیل بن حسنہ، مرقال بن ہاشم بن ابی وقاص، مسیب بن نجیہ فزاری، قیس بن ہبیرہ مرادی اور عروہ بن مہلل بن یزید رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ ان ساتوں قائدوں کو سات دنوں میں بھیجا، ہر روز ایک قائد اپنی فوج لے کر روانہ ہوتا اور جب اسلامی فوج اور شہر مقدس کے محافظ دستوں کے درمیان کئی دنوں میں اچھی طرح جنگ چھڑ گئی تو آخر میں آپ بھی ان سے جا ملے۔

(فتوح الشام: جلد 1 صفحہ 213 تا 216)

واقدی آگے لکھتا ہے کہ باشندگان ایلیا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور مصالحت کے ذریعہ سے شہر میں داخل ہونے کی درخواست کرنے لگے، بشرطیکہ مصالحت امیرالمؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے عمل میں آئے، پھر طبری اور ابن اثیر کے موافق روایات نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر واقعہ کی تفصیل بتائی اور اس کے بعد خلیفہ راشد بیت المقدس کی طرف چل پڑے اور شہر کی فصیل کے پاس آکر اترے، پھر بیت المقدس کا بطریق سیدنا عمرؓ کے پاس آیا، اپنا تعارف پیش کیا اور کہا: اللہ کی قسم! یہ وہی شخص ہے جس کے (فاتح قدس) ہونے کی صفت ہم اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔ یہی ہمارے ملک کا فاتح ہوگا۔

(حروب القدس فی التاریخ اسلامی والعربی صفحہ 41، 42)

 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرنے کے بعد وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور اسے حقیقت حال سے خبردار کیا، تمام لوگ خوشی خوشی سیدنا عمرؓ کی اطاعت کے لیے دوڑ پڑے اور چونکہ طویل محاصرہ نے ان کی زندگی اجیرن کر دی تھی اس لیے فصیل کے تمام دروازے کھول دیے اور سب لوگ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر آپؓ سے عہد و میثاق اور ذمہ کے طالب ہوئے اور جزیہ دینے کا اقرار کیا۔

لیکن ہم واقدی کی اس روایت کو بعید از قیاس سمجھتے ہیں، کیونکہ ہمیں یقینی طور سے معلوم ہے کہ جس وقت حضرت عمرو بن عاصؓ بیت المقدس کا محاصرہ کیے ہوئے تھے آپ کے دوسرے ساتھی یرموک، دمشق اور فحل کے مسلم قائدین بلاد شام کے مختلف علاقوں کو فتح کرنے میں تھے، چنانچہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حمص، حماۃ، قنسرین اور حلب کو فتح کر کے شامی ساحل کے راستے جنوب میں انطاکیہ، لاذقیہ اور عرقہ کو فتح کیا اور یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جنوب میں بیروت سے صیدا تک اور شمال میں عسقلان سے صور تک فتح کا پرچم لہرایا۔

(حروب القدس فی التاریخ اسلامی والعربی: صفحہ 41، 42)

اور بلاذری اپنی ایک روایت میں کہتے ہیں کہ ’’رفح‘‘ فتح کرنے کے بعد حضرت عمرو بن عاصؓ ہی نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ قنسرین اور اس کے مضافاتی علاقوں کو فتح کرنے کے بعد 16 ہجری میں وہاں اس وقت پہنچے جب کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیت المقدس کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔

(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 188، 189)

 ایلیا والوں نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے شام کے دیگر صلح کردہ شہروں کی طرح صلح اور امان کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ معاہدہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ہو، پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس سلسلہ میں خط لکھا اور آپؓ دمشق جابیہ پہنچے، پھر وہاں سے بیت المقدس کے لیے روانہ ہوئے اور بیت المقدس پہنچ کر وہاں کے لوگوں سے معاہدہ صلح تحریر کیا، اس طرح بیت المقدس 17 ہجری میں فتح ہوا۔ اس کے بعد بلاذری لکھتے ہیں کہ فتح بیت المقدس کے بارے میں دیگر سندوں سے دوسری روایات بھی منقول ہیں۔

(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 189)

بہرحال مؤرخین کی متعدد روایات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم طبری کی پہلی روایت کو راجح مانتے ہیں جس کا ماحصل یہ ہے کہ بیت المقدس کا محاصرہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، حضرت ابوعبیدہؓ نے نہیں اور اپنی تحقیق میں ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ممکن ہے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے کمانڈر جنرل ہونے کے ناتے بیت المقدس کی فتح سے متعلق رائے و مشورہ کرنے کی غرض سے جابیہ میں جا کر امیرالمؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملے ہوں، کیونکہ تاریخی روایات سے اس بات کا پختہ ثبوت ملتا ہے کہ جابیہ میں آپ کے پہنچنے اور شام کے تمام امرائے لشکر کی مجلس شوریٰ بلانے کے وقت یزید رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ راشدؓ سے ملنے والے آپ ہی دوسرے شخص تھے اور جس مجلس میں یزید رضی اللہ عنہ ، شرحبیل رضی اللہ عنہ اور شام کے دیگر بڑے قائدین فوج کے سامنے بیت المقدس کے باشندوں سے معاہدہ صلح اور شہر مقدس سونپ دینے کی باتیں ہو رہی تھیں اس میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بھی حاضر تھے۔ البتہ معاہدہ صلح میں آپ کا نام بحیثیت گواہ درج نہ کیا گیا جب کہ حضرت عمرو بن عاص، عبدالرحمٰن بن عوف، معاویہ بن ابوسفیان اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کے نام بحیثیت گواہ درج ہیں، یہ معاہدۂ صلح کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ بات کہنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی توجیہ نہیں کہ جس فوج نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا تھا اس کے قائد حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نہیں تھے، بلکہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔

(حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی: صفحہ 41، 42)

 (کیونکہ آپؓ کی قیادت میں محاصرہ ہوتا تو آپؓ کا نام بحیثیت گواہ کے ضرور درج کیا جاتا)۔