فصل:....وعد و وعید پرعدم اعتماد؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....وعد و وعید پرعدم اعتماد؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....وعد و وعید پرعدم اعتماد؟

رافضی کا قول کہ: ’’اللہ کے وعدہ اور وعید میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔‘‘

منکر تقدیر شیعہ انتہائی طوالت سے کام لیتے ہوئے لکھتا ہے:’’اہل سنت کے نقطۂ نظر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور وعید پر سے اعتماد اٹھ جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی جانب دروغ گوئی کی نسبت درست ہے، بنا بریں اس کی دی ہوئی خبریں بھی جھوٹ ہوں گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انبیاء کی بعثت عبث ہوگی اور کسی فائدہ کی موجب نہیں ہوگی۔بلکہ یہ بھی جائز ٹھہرا کہ وہ کذابوں کو بھی بھیج سکتا ہے پس سچے اور جھوٹے نبیوں میں فرق کرنے کی کوئی سبیل ہمارے ہاتھوں میں باقی نہ رہی۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]۔

[جواب]: اس بات کا جواب کئی طرح سے دیا جا سکتا ہے۔

اوّل :....بارہا یہ بات گزر چکی ہے کہ جس بات سے وہ خود متصف ہے اس میں اور اس میں فرق ہے جس کو اس نے اپنے غیر کی صفت بنا کر پیدا کیا ہے اور یہ کہ مخلوق کی اپنے خالق کی طرف نسبت میں اور صفت کی اپنے موصوف کی طرف نسبت میں فرق ہے۔ خالق و فاعل کے مابین فرق و امتیاز سب عقلاء کے نزدیک مسلم ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ جب کسی چیز میں حرکت پیدا کریگا تو ذات باری کو متحرک قرار نہیں دے سکیں گے، جب وہ بادل میں گرج پیدا کرتا ہے، تو گرج کو اس کی آواز نہیں کہہ سکتے۔ بعینہ اسی طرح جب وہ حیوانات و نباتات میں مختلف قسم کے رنگ پیدا کرتا ہے، تو اسے ان رنگوں سے موصوف قرار نہیں دے سکتے۔ جب وہ کسی چیز میں علم اور حیات و قدرت کی صفات پیدا کرتا ہے تو یہ اس کی صفات نہیں کہلا سکتیں ۔ علی ہذا القیاس جب وہ کسی چیز میں اندھا پن اور بہرہ پن پیدا کرتا ہے، تو یہ اس کی صفت نہیں کہلاتی جب اللہ تعالیٰ کسی میں روزہ، طواف اور خشوع و خضوع پید اکرتا ہے تو اسے روزہ دار، طواف کنندہ اور خاشع کے ناموں سے یاد نہیں کیا جا سکتا، باقی رہی قرآن حکیم کی یہ آیت کریمہ:﴿ وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی﴾ (الانفال:۱۷)

’’جب آپ نے تیر پھینکا تو وہ آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکا ہے۔‘‘

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بلاشبہ وہ تیر آپ نے پھینکا ہے، مگر اسے نشانہ پر لگانا آپ کا فعل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی عنایت ہے۔ آیت کا حاصل یہ ہے کہ تیر اندازی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہے اور اسے دشمنوں تک پہنچانا اللہ کا کام۔پس تیراندازی آپ کے دست مبارک کی طرف منسوب ہوئی اور اس کی ہدف تک رسائی اللہ تعالیٰ کی طرف ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ تیر انداز اور تیر اندازی دونوں اللہ کے پیدا کردہ ہیں ۔ لہٰذا حقیقی تیر انداز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ خیال قطعی طور پر بے بنیاد ہے۔ کیونکہ اگر یہ بات درست ہوتی کیونکہ وہ تیر اندازی کا خالق ہے تو یہ بات دیگر جملہ افعال میں بھی جاری ہو گی۔ تب پھر لوگ یہ بھی کہہ سکتے کہ میرا چلنا دراصل اللہ کا چلنا ہے اور میرا تھپڑا مارنادراصل اللہ کا تھپڑ مارنا ہے۔ اسی طرح سوار ہونا، نماز وغیرہ کا ادا کرنا یہ بھی دراصل اسی کا فعل ہے کیونکہ وہ ان سب افعال کا خالق ہے۔ حالانکہ ان سب باتوں کے باطل ہونے کو سب جانتے ہیں ۔[[ اگر کسی چیز کے پیدا کرنے کی بنا پر اس کی نسبت ذات باری کی جانب کی جا سکتی تو ہر فعل کو اللہ کی جانب منسوب کر دیا جاتا، حالانکہ یہ بداہۃً غلط ہے]]۔بلا شبہ یہ تقدیر کے قائلین کا غلو ہے۔ روایات میں مذکور ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ محصور ہوئے تو بلوائی آپ پر پتھر پھینکنے لگے، حضرت عثمان نے پوچھا تم پتھر کیوں پھینکتے ہو....؟ وہ کہنے لگے ہم پتھر نہیں پھینک رہے ؛بلکہ اللہ تعالیٰ پھینکتا ہے، آپ نے فرمایا: تم جھوٹ کہتے ہو اگر اللہ تعالیٰ پتھر پھینکتا تو اس کا نشانہ ہر گز نہ چوکتا مگر تمہارے سب نشانے بیکار ثابت ہورہے ہیں ۔‘‘

یہ منکرین تقدیر کی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر حجت ہے کہ وہ اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ افعالِ عباد کا خالق ہے۔ جیسا کہ بعض مثبتہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے:

﴿وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی﴾ (الانفال: ۱۷)

’’اور لیکن اللہ نے[تیر] پھینکا۔‘‘

لیکن یہ دونوں فریق ہی خطا پر ہیں ۔ کیونکہ رب تعالیٰ جب کسی بندے میں ایک فعل کو پیدا کرتے ہیں تو لازم نہیں کہ وہ بندے سے درست بھی ہو۔ جیسے کسی جسم میں بو کو پیدا کرنے سے یہ لازم نہیں کہ وہ جو خوش گوار بھی ہو۔ اسی طرح کسی بندے میں آنکھیں اور زبان پیدا کرنے سے یہ لازم نہیں آ جاتا کہ وہ بصیر اور ناطق بھی ہو۔ سو لوگوں میں پائے جانے والے کذب کی استناد ایسی ہی ہے جیسی مخلوقات میں موجود صفاتِ قبیحہ اور احوال مذمومہ کی استناد ہے۔ کہ یہ اس کے فی نفسہ مذموم ہونے کو مقتضی نہیں اور نہ اس بات کو مقتضی ہے کہ وہ ان صفات کے ساتھ متصف بھی ہے۔ البتہ استناد کا لفظ مجمل ہے۔ کیا مخلوق کے عجز کو محض اس لیے اللہ کی طرف منسوب کرنا جائز ہو گا کہ وہ اس عجز کا خالق ہے؟ بلاشبہ یہ دلیل واضح طور پر باطل ہے۔

دوم : ان کی رائے میں اللہ تعالیٰ یہ جانتے ہوئے دروغ گوئی کی قدرت پیدا کرتا ہے کہ وہ شخص جھوٹ بولے گا۔اسی طرح وہ اس علم کے باوصف ظلم و فحش کی قدرت عطا کرتا ہے، کہ یہ آدمی ظلم و فحش کا مرتکب ہوگا۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہم میں سے جو شخص افعال قبیحہ کے انجام دینے میں کسی کی مدد کرتا ہے، وہ گویا بذات خود ان افعال کا ارتکاب کرتا ہے، بنا بریں ظلم و کذب کی مدد کرنے والے کو ظالم و کاذب قرار دیا جائے گا۔ اور ہمارے لیے گناہ کے کام پر کسی کی مدد کرنا جائز نہیں ۔ اس بات سے خود اللہ نے بھی منع فرمایا ہے۔ سو جو بات اس سے قبیح ہے وہ ہم سے بھی قبیح ہے تو لازم آیا کہ اس پر اس بات کو جائز قرار دیا جائے کہ جب وہ کذب پر اعانت کرتا ہے تو کذب بھی کرتا ہے اور یہ محذور ہے جو ان اہل سنت کو لازم آ رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی صفات کا اثبات:

اگر سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو قدرت اطاعت کے لیے عطا کی ہے نافرمانی کے لیے نہیں ۔

صفحہ 1 از 4