فصل:....وعد و وعید پرعدم اعتماد؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....وعد و وعید پرعدم اعتماد؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اسے معلوم تھا کہ قدرت ملنے پر نافرمانی کرے گا تو یہ اسی طرح ہوا جیسے کسی کو کفار سے جہاد کرنے کے لیے تلوار دی جائے جب کہ یہ معلوم ہو کہ وہ اسی تلوار سے کسی نبی کو قتل کر دے گا۔ ظاہر ہے کہ جب یہ باتیں بندوں کے بھی مناسب حال نہیں ہیں ؛ کیونکہ جو آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ غرض مجھے حاصل نہ ہو گی؛ پھر بھی وہ فعل کرے تو اسے ہمارے نزدیک نادان تصور کیا جاتا ہے؛ تو اللہ کی ذات اس سے کہیں بلند ہے۔سو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے افعال میں حکم اپنے بندوں کے افعال کے برعکس ہوتا ہے۔بھلے ان لوگوں نے اس کی کوئی ایسی علت بیان کی ہو جو اسے مستقیم کر دے تو انہیں کہا جائے گا کہ اسی طرح وہ غیر میں جو پیدا کرتا ہے اس کی حکمت ہوتی ہے جیسے قدرت کے ساتھ اس پر اعانت کرنے میں حکمت ہوتی ہے۔

سوم :....یہ کہا جائے کہ: یہ بات کہ ہر وہ چیزجو ممکن الوقوع ہو اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہو تو یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز وقوع پذیر بھی ہو جائے۔بخلاف ازیں ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ قدرت کے باوصف وہ بہت سے کام انجام نہیں دیتا، مثلاً وہ سمندر کو پارے میں تبدیل نہیں کرتا، پہاڑوں کو یا قوت کی شکل میں تبدیل نہیں کرتا۔ سب کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر نہیں بنا تا اور نہ اس نے سورج اور چاند کو درخت کی دو ڈالیاں بنایا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہتعالیٰ کذب سے منزہ ہے اور کذب کا صدور اس سے محال ہے۔

چہارم:....ہم کہتے ہیں : ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صفات ِکمال سے موصوف ہے، موجودات عالم میں جو بھی کمال پایا جاتا ہے، اللہتعالیٰ اس کا زیادہ حق دار ہے، وہ ہر نقص و عیب سے منزہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ حیات اور علم و قدرت صفات ِکمال ہیں لہٰذا وہ ان کا زیادہ مستحق ہے، راست بازی و صداقت بھی اس کا خاص وصف ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًاo﴾ (النسآء: ۸۷)

’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سواکوئی معبود نہیں ، وہ ہر صورت تمھیں قیامت کے دن کی طرف (لے جاکر) جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے زیادہ بات میں کون سچا ہے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے:

((اِنَّ اَصْدَقَ الْکَلَامِ کَلَامُ اللّٰہِ )) [النسائی۔ کتاب صلاۃ العیدین۔ باب کیف الخطبۃ(ح:۱۵۷۹)کتاب السھو۔ باب نوع آخر من الذکر بعد التشھد (ح: ۱۳۱۲) بلفظ’’ احسن الکلام کلام اللہ‘‘ المطالب العالیۃ (۳۱۰۵) بلفظ ’’ ان اصدق الحدیث کلام اللّٰہ۔‘‘]

’’بیشک سب سے سچا کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔‘‘

پنجم:....یہ کہا جائے کہ سلف و خلف اہل سنت و الجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے اللہ تعالیٰ کا کلام اس کے ساتھ قائم اور غیر مخلوق ہے۔پھر اختلاف اس امر میں ہے کہ آیا وہ اپنی قدرت و مشیئت کے ساتھ کلام کرتا ہے یا نہیں ؟ اس بارے دو اقوال معروف ہیں ۔ پہلا قول اسلاف اور جمہور کا ہے جبکہ دوسرا قول ابن کلاب اور اس کے متبعین کا ہے۔

٭ پھر ابن کلاب کے متبعین کا اس میں اختلاف ہے؛ کہ کیا وہ قدیم جو معنوی طور پر اس کی مشئیت اور قدرت سے تعلق نہیں رکھتا ؛ اور وہ بذات خود قائم ہے؛ اور کیاحروف ؛ یا حروف اور اصوات ازلی ہیں ؟اس میں دو قول ہیں ؛ اور ان پر اپنی جگہ پر تفصیل سے گفتگو ہو چکی ہے۔ پس جب معاملہ ایسے ہی ہے تو پھر جس نے یہ کہا کہ وہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مشئیت سے نہیں ہے تو یہ بات بھی ممتنع ٹھہری کہ کوئی دوسرا اس کے ساتھ قائم ہو؛ جس کے ساتھ وہ متصف ہے۔ اب ان کے نزدیک صدق ایک علم ہے یا ایسا معنی ہے جو علم کو مستلزم ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ علم اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے اور علم کے لوازم اس کی ذات کے لوازم میں سے ہوئے لہٰذا صدق اس کی ذات کے لوازم میں سے ہوا۔ تب پھر اس کا اپنی نقیض کے ساتھ متصف ہونا ممتنع ہوا۔ کیونکہ لازم کا عدم ملزوم کے عدم کو مقتضی ہے۔دروغ گوئی، بہرے پن اور گونگے پن کی طرح ایک عیب ہے۔ اللہ تعالیٰ بلاشبہ گونگے اور بہرے لوگوں کو پیدا تو کرتا ہے، مگر بذات خود اس میں یہ عیب نہیں پایا جاتا۔ بعینہ اسی طرح وہ کاذب میں کذب کو تو پیداکرتا ہے، مگر خود دروغ گوئی کا ارتکاب نہیں کرتا۔ تو یہ بھی واجب ٹھہرا کہ وہ صدق کے ساتھ کذب کے بغیر متصف ہو۔[اس میں شبہ نہیں کہ کلام ایک صفت کمال ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کا اس سے متصف ہونا ناگزیر ہے، خواہ کلام کی کوئی صورت بھی ہو، اس ضمن میں ان کے متعدد اقوال ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ صفت کلام اﷲ کی قدرت و مشیت سے وابستہ نہیں یہ ایک ایسی صفت ہے جو بذات خود قائم ہے۔ دوسرا قول : کلام حروف یا اصوات قدیمہ کا نام ہے۔ تیسرا قول : کلام مشیت ایزدی سے متعلق ہے۔ چوتھا قول: اﷲتعالیٰ پہلے متکلم نہ تھا یہ صفت بعد ازاں اس میں پیدا ہوئی۔ پانچواں قول : وہ ازل ہی سے متکلم تھا۔]

رہا یہ کہنا کہ کلام اس کی قدرت و مشیئت کے متعلق ہے۔ تو ان کے اکثر یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی حکمت سے کلام اور فعل کرتا ہے اور وہ فعل قبیح سے منزہ ہے اور ان لوگوں کے رب تعالیٰ کو فعل قبیح سے منزہ قرار دینے کے دلائل معتزلہ کے دلائل سے زیادہ قوی اور عظیم ترہیں ۔ کیونکہ ہر وہ دلیل جو اس بات پر دلالت کرے کہ وہ ہر قبیح فعل سے منزہ ہے اور وہ فعل اس کی ذات سے منفصل ہے۔ تو وہ دلیل اس بات پر بدرجہ اولیٰ دلالت کرتی ہے کہ وہ ایسے ہر فعل قبیح سے منزہ ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہو۔ کیونکہ اس کی ذات کے ساتھ قائم قبائح کا نقص ہونا، اس کی ذات سے منفصل قبیح افعال کے نقص ہونے سے زیادہ ظاہر ہے۔ ت وجب یہ ممتنع ہوا تو وہ تو بدرجہ اولیٰ ممتنع ہوا۔

صفحہ 2 از 4