فصل:....وعد و وعید پرعدم اعتماد؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....وعد و وعید پرعدم اعتماد؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

ششم :....دلائل عقلیہ بھی یہی بتلاتے ہیں کہ رب تعالیٰ کی ذات کا نقائص و قبائح کے ساتھ متصف ہونا ممتنع ہے اور یہ کہ وہ جس بات کے ساتھ بھی متصف ہے، وہ اس کی ذات کے ساتھ قائم بھی ہے۔ اب کلام متکلم کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا رب تعالیٰ کا کذب کے ساتھ تکلم ممتنع ہوا۔ کیونکہ اس کا کلام اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور یہ بات ممتنع ہےکہ ایسی قبیح بات اس کے ساتھ قائم ہو جسے اس نے اختیار کیا ہے۔

رب تعالیٰ کو کذب سے منزہ قرار دینے کا یہ طریق انہی لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو اہل اثبات ہیں ۔ معتزلہ اس طور پر رب تعالیٰ کو کذب سے منزہ قرار نہیں دے سکتے۔ کیونکہ ان معتزلہ کے نزدیک رب تعالیٰ کا کلام اس کی ذات سے منفصل اور جدا ہے۔ سو جب یہ اہل اثبات ان معتزلہ سے یہ کہتے ہیں کہ دلیل تو صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کی ذات فی نفسہ قبائح کے ساتھ متصف ہونے سے منزہ ہونے پر اور قبیح فعل کرنے سے منزہ ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور فعل وہ ہوتا ہے جو فاعل کے ساتھ قائم ہو۔اور رہی منفصل کی بات ؛ تو وہ فاعل کا مفعول ہوتا ہے نا کہ اس کا فعل اور تم لوگوں نے ایسی کوئی دلیل ذکر نہیں کی جو اس کے مفعولات میں وقوع کے امتناع پر دلالت کرے اور یہی محمل نزاع ہے اور ان لوگوں کی دلیل قدریہ پر ظاہری حجت ہے۔

ہفتم :....یہ کہ اس کا کلام جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے وہ اہل سنت کے نزدیک غیر مخلوق ہے۔ کیونکہ کلام صفت کمال ہے۔ لہٰذا لازمی ہے کہ رب تعالیٰ اس کے ساتھ متصف ہو۔ چاہے وہ یہ کہیں کہ اس کا اس کی قدرت و مشیئت سے تعلق نہیں اور وہ ایک معنیٰ ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ یا وہ قدیم حروف اور آواز ہے۔ یا وہ یہ کہیں کہ وہ اس کی قدرت و مشیئت کے متعلق ہے یا وہ غیر متکلم ہونے کے بعد متکلم ہے ۔ یا وہ ہمیشہ سے متکلم ہے جب چاہے۔ غرض ان سب اقوال کے مطابق کلام اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور کذب یہ نقص ہے جیسے اندھا پن، گونگا پن اور بہرا پن اور رب تعالیٰ اس بات سے منزہ ہے کہ اس کی ذات کے ساتھ نقائص قائم ہوں ۔ باوجود یہ کہ اس نے ایسی مخلوقات کو پیدا کیا ہے جو نقائص سے متصف ہیں ۔ سو وہ اندھا پن، گونگا پن اور بہرا پن پیدا کرتا ہے پر یہ امور اس کی ذات کے ساتھ قائم نہیں ہیں ۔ اسی طرح وہ کاذب میں کذب کو پیدا کرتا ہے لیکن یہ کذب خود اس کی ذات کے ساتھ قائم نہیں ۔

ہشتم:....یہ سوال شیعہ پر وارد ہوتا ہے، شیعہ کا عقیدہ ہے کہ: اللہتعالیٰ دوسروں میں کلام پیدا کرتا ہے۔اندریں صورت کلام کا قیام اگرچہ دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے مگر اسے اللہ کا پیدا کردہ قرار دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ شیعہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:’’ جو کلام بندوں سے صادر ہوتا ہے وہ خد اکا کلام نہیں اور اس کا پیدا کردہ بھی نہیں ۔‘‘جب ان کے نزدیک یہ دونوں باتیں درست ہیں تو اس بات کا اعتراف کرنا ان کے لیے ناگزیر ہے کہ یہ اس کا کلام ہے اور وہ اس کا کلام نہیں ۔

[شبہ :جھوٹے انبیاء کی بعثت اور اس پر رد]: 

[اعتراض]: شیعہ مصنف کہتا ہے:

’’اہل سنت کے قول کے مطابق یہ لازم آئے گاکہ اللہتعالیٰ جھوٹے نبی بھیجتا ہے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]۔

[جواب]:اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے:

اول:....بلاشبہ اللہتعالیٰ جھوٹوں کوبھی بھیجتا ہے، جیسا کہ شیاطین کے بھیجنے کا اس آیت میں ذکر ہے۔ ارشاد ہے:

﴿اَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تَؤُزُّہُمْ اَزًّاo﴾ (مریم: ۸۳)

’’کیا تونے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں ابھارتے ہیں ، خوب ابھارنا۔‘‘:

اور انہیں مبعوث بھی کرتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

﴿بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ﴾ (الاسراء: ۵)

’’تو ہم نے تم پر اپنے سخت لڑائی والے کچھ بندے بھیجے۔‘‘

لیکن یہ تب ہی ہو گا جب ان کے ساتھ وہ امر بھی بھیجا جائے جو ان کے کذب کو عیاں کر دے ۔ مثلاً مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جھوٹے نبی تھے؛ اللہ تعالیٰ نے ان کا کاذب ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے واضح کر دیا تھا، [بنا بریں ان کا صدق و کذب کسی پر مخفی نہیں رہا]۔ اسی طرح ظالم جاہل، فاجر، اندھے، اور بہرے وغیرہ کو بھیجنا ہے کہ ان میں ایسے امور ضرور ہوتے ہیں جن کی مدد سے ان میں اور دوسروں میں فرق کیا جا سکے۔پھر لفظ ’’ارسال‘‘ یہ ہواؤں کے بھیجنے کو بھی اور شیاطین کے بھیجنے کو بھی دونوں کو شامل ہے؛ اور اس کے علاوہ کو بھی ۔

دوم:....یہ کہا جائے کہ: ان کے نزدیک یہ بات جائز ہے کہ وہ ایسے کو پیدا کرے کہ جس کے کاذب ہونے کو وہ جانتا ہے اور وہ اسے کذب پر قدرت بھی دیتا ہے۔ جیسے اس نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو پیدا کیا، سو جب رب تعالیٰ کا مسیلمہ کو پیدا کرنا جائز ٹھہرا جبکہ اس نے اس میں اور صادق میں فرق کو بھی واضح کر دیا تو اس کا کذاب کو اس کے کذب کے ساتھ پیدا کرنا بھی جائز ٹھہرا۔

سوم :....جب اس نے مدعی نبوت کو پیدا کیا حالانکہ وہ کاذب ہوتا ہے۔ پھر اگر یہ کہتے ہیں کہ اس پر سچ کی نشانیاں کا اظہار بھی جائز ہے تو یہ ممتنع ہے اور بالاتفاق باطل ہے اور اگر یہ اسے ناجائز کہتے ہیں تو سچ کی نشانیوں کے بغیر نبوت کا محض دعویٰ مضر نہیں ۔ کیونکہ اگر کسی دلیل کے بغیر کوئی اپنے طبیب یا سنار ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے کوئی لائق التفات نہیں سمجھتا چہ جائیکہ مدعی نبوت بلا دلیل کے؟

٭ اگر یہ کہا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ کاذب کی ذات میں کذب کو پیدا کر سکتا ہے تو اس کے ہاتھوں ایسے معجزات کیوں ظاہر نہیں کر سکتا جو اس کی صداقت کی دلیل ہوں ....؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں ، اس لیے کہ صدق کے دلائل صداقت کو مستلزم ہیں ، کیونکہ دلیل مدلول کو مستلزم ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ کذاب پر علامات صدق کا اظہار ممتنع لذاتہ ہے۔

صفحہ 3 از 4