Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معاہدہ نامہ

  علی محمد الصلابی

طبری کی روایت کے مطابق جو معاہدہ طے پایا تھا وہ یہ تھا:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم! یہ وہ امان ہے جو اللہ کے بندے امیرالمؤمنین عمر نے ’’ایلیا‘‘ (بیت المقدس) کے لوگوں کو دی۔ یہ امان ان کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے، نہ ان کے گرجاؤں کو مسکن بنایا جائے گا اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے۔ گرجاؤں اور ان کے احاطوں،صلیب اور اموال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہیں کیا جائے گا، نہ ان میں کسی کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ایلیا میں ان کے ساتھ یہودی نہیں رہنے پائیں گے۔ ایلیا والوں پر فرض ہے کہ اور شہروں کی طرح جزیہ دیں اور رومیوں اور چوروں کو نکال دیں، ان رومیوں میں سے جو شہر سے نکلے گا اس کی جان اور مال کو امن ہے یہاں تک کہ وہ اپنی پناہ گاہ میں پہنچ جائے، اور جو ایلیا ہی میں رہنا پسند کرے اسے بھی امن ہے لیکن اسے جزیہ دینا ہوگا اور ایلیا والوں میں سے جو لوگ جان اور مال لے کر رومیوں کے ساتھ چلے جانا چاہیں انہیں اور ان کے گرجاؤں کے جو لوگ ہیں ان میں سے اگر کوئی یہاں رہنا چاہے تو رہ سکتا ہے، اسے بھی ایلیا والوں کی طرح جزیہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر کوئی رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو چلا جائے اور اگر کوئی اپنے اہل وعیال میں واپس ہونا چاہے تو ہو جائے، ان سے کوئی چیز نہیں لی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اپنی کھیتیاں کاٹ لیں۔ جو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر اللہ کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، خلفاء کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے بشرطیکہ یہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔ اس معاہدہ پر خالد بن ولید، عمرو بن عاص، عبدالرحمٰن بن عوف اور معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہم گواہ ہیں، یہ معاہدہ 15 ہجری میں لکھا گیا۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 436)