اہم دروس و عبر اور فوائد واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا فدائی موقف
علی محمد الصلابیحضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں باب جابیہ پر، جو دمشق کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، کافی شور و ہنگامہ سن رہا تھا، تھوڑی دیر ٹھہر گیا، دیکھا کہ جنگی گھوڑوں کا قافلہ ادھر سے گزر رہا تھا، میں نے آگے نکلنے کا موقع دے دیا، پھر پیچھے سے تکبیر کا نعرہ لگاتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید ہمیں گھیر لیا گیا ہے، اس لیے اپنے قائد کو چھوڑ کر وہ شہر کی طرف بھاگے، میں نے اس پر زور دار نیزہ مارا اور گھوڑے سے گرا دیا، پھر اس کے گھوڑے پر سوار ہو کر لگام ہاتھ میں لی اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی، اس کے ساتھی آگے رک کر میری طرف متوجہ ہوئے، مجھے تنہا دیکھ کر میرا پیچھا کیا، میں نے اپنے قریب آتے ایک شہ سوار کو نیزہ مارا اور اسے قتل کر دیا، پھر دوسرا قریب آیا اسے بھی مار گرایا اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا، جب میں ان کو اپنے واقعہ کی خبر دے رہا تھا تو دیکھا کہ رومیوں کا کمانڈر جنرل دمشق والوں کے لیے آپؓ سے امان مانگ رہا ہے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 386، 387، التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 319)