فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....افعالِ اختیاریہ پر دلالت ِنقل کی بابت رافضی کا کلام اور اس کا ردّ

[قرآن کریم اور انسانی افعال کا انتساب ]:

[شبہ ]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’قرآن کریم میں اکثر افعال انسانی کو بنی نوع انسان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَاِِبْرٰہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی﴾ (النجم: ۳۷)

’’اور ابراہیم کے (صحیفوں میں ) جس نے (عہد) پورا کیا۔ ‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا﴾ (مریم: ۳۷)

’’تو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، بڑی ہلاکت ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی﴾ (الانعام: ۱۶۳)

’’اور نہ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ اٹھائے گی۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اُدْخُلُوا الجنۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴾ (النحل:۳۲)

’’جنت میں داخل ہو جاؤ ؛ بسبب ان نیک اعمال کے جو تم کیا کرتے تھے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ ﴾ (غافر: ۱۷)

’’آج ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَo﴾ (الجاثیۃ: ۲۸)

’’آج تمھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جوتم کیا کرتے تھے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا وَ مَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَہَا ﴾(الانعام ۱۶۰)

’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہوں گی اور جو برائی لے کر آئے گا سو اسےجزا نہیں دی جائے گی، مگر اسی کی مثل۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لِیُوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَہُمْ﴾ (فاطر:۳۰)

’’تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پور ے پورے دے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ ﴾ (البقرۃ: ۲۸۶)

’’اسی کے لیے ہے جو اس نے (نیکی) کمائی اور اسی پر ہے جو اس نے (گناہ) کمایا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَبِطُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ﴾ (النساء: ۱۶۰)

’’ان کے بڑے ظلم ہی کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿کُلُّ امْرِیٍٔ بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ﴾ (الطور: ۲۱)

’’ہر آدمی اس کے عوض جو اس نے کمایا گروی رکھا ہوا ہے۔۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْہَا﴾ (فصلت: ۳۶)

’’جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہو گی۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ﴾ (الحج: ۱۰)

’’یہ اس کی وجہ سے ہے جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ﴾ (الشوری: ۳۰)

’’اور جو بھی تمھیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: رافضی کے اس کلام کے کئی جوابات ہیں :

اوّل:....یہ کہا جائے کہ یہ سب حق ہے اور جمہور اہل سنت اس کے قائل ہیں کہ بندہ اپنے فعل کا حقیقی فاعل ہے نہ کہ مجازی۔ اس میں متکلمین اہل اثبات کی ایک جماعت نے اختلاف کیا ہے، جیسے اشعری اور اس کے پیروکار۔

دوم:....یہ کہ قرآن اس بات سے معمور ہے کہ اس میں انسانی افعال کی نسبت بنی نوع آدم کی طرف کی گئیہے،اور بندوں کے افعال رب تعالیٰ کی قدرت، مشیئت اور خلق سے ہی وجود میں آتے ہیں اور قرآن کی ہر بات پر ایمان لانا واجب ہے۔ یہ جائز نہیں کہ بعض پر تو ایمان لائیں اور بعض کا انکار کر دیں ۔ فرمان ربانی ہے:

﴿ وَ لَوْ شَآ ئَ اللّٰہُ مَا اقْتَتَلُوْا وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُo﴾ (البقرۃ: ۲۵۳)

’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے اور لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ﴾ (الانعام: ۱۲۵)

’’تو جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدایت دے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ اسے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَوْ شَآئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَo﴾ (الانعام: ۱۱۲)

’’اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس چھوڑ انھیں اور جو وہ جھوٹ گھڑتے ہیں ۔۔‘‘

اوراللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَیْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًاo اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ﴾ (الکہف: ۲۳۔۲۳)

’’اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں یہ کام کل ضرور کرنے والا ہوں ۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے۔‘‘

علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کسی نے یوں قسم اٹھائی کہ میں ان شاء اللہ کل ظہر کی نماز پڑھوں گا، یا اپنے ذمے قرض ادا کروں گا، یا حق والوں کو ان کا حق دوں گا، یا یہ امانت لوٹاؤں گا، وغیرہ وغیرہ پھر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ اپنی قسم میں حانث نہ ہو گا اور اگر مشیئت بمعنی امر کے ہو تو حانث ہو جائے گا۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہے:

﴿رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمِیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا﴾(البقرۃ: ۱۲۸)

’’اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے دکھا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّ یَہْدیْ بِہٖ کَثِیْرًا﴾ (البقرۃ: ۲۶)

’’وہ اس کے ساتھ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور اس کے ساتھ بہتوں کو ہدایت دیتا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِہٖ﴾ (الانفال: ۲۳)

’’اور جان لو کہ بے شک اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے۔‘‘

صفحہ 1 از 4