فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ اَغْلٰلًا فَہِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَہُمْ مُّقْمَحُوْنَo وَجَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِہِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰہُمْ فَہُمْ لَا یُبْصِرُوْنَo﴾ (یس: ۸۔۹)

’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں کئی طوق ڈال دیے ہیں ، پس وہ ٹھوڑیوں تک ہیں ، سو ان کے سر اوپر کو اٹھا دیے ہوئے ہیں ۔ اور ہم نے ان کے آگے سے ایک دیوار کر دی اور ان کے پیچھے سے ایک دیوار، پھر ہم نے انھیں ڈھانپ دیا تو وہ نہیں دیکھتے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّاo وَّ بَرًّ ا بِوَالِدَتِیْ وَ لَمْ یَجْعَلْنِِیْ جَبَّارًا شَقِیًّاo﴾ (مریم: ۳۱۔۳۲)

’’اور مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی، جب تک میں زندہ رہوں ۔ اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے سرکش، بدبخت نہیں بنایا۔۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ جَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا﴾ (الانبیاء: ۷۳)

’’اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے۔‘‘

اور بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿وَ جَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ﴾ (السجدۃ: ۲۳)

’’اور ہم نے ان میں سے کئی پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے، جب انھوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین کیا کرتے تھے۔ ۔‘‘

اور آل فرعون کے بارے میں فرمایا:

﴿وَ جَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ﴾ (القصص: ۳۱)

’’اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔‘‘

اور ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآئِ﴾ (ابراہیم: ۳۰)

’’اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور میری دعاقبول کر۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْٓ اِلَیْہِمْ﴾ (ابراہیم: ۳۷)

’’اے ہمارے رب! بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں آباد کیا ہے، جو کسی کھیتی والی نہیں ، تیرے حرمت والے گھر کے پاس، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں ۔ سو کچھ لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَاٰیَۃٌ لَہُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَہُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِo وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ﴾ (یس: ۳۱۔۳۲)

’’اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی کئی اور چیزیں بنائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں ۔‘‘

اب کشتی بنی آدم کی مصنوعات میں سے ہے اور یہ رب تعالیٰ کے اس قول کی مثل ہے:

﴿وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ (الصافات: ۹۶)

’’حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو ۔‘‘

مثبّتین قدر کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہاں ’’ما‘‘ مصدریہ ہے اور مراد یہ ہے کہ اس نے تمھیں اور تمھارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔ یہ بے حد ضعیف تفسیر ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہاں ’’ما‘‘ الذی کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ اللہ نے تمھیں اور ان بتوں کو پیدا کیا جن کو تم بناتے ہو۔ جیسا کہ حدیث حذیفہ رضی اللہ عنہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’رب تعالیٰ نے ہر صانع کو اور اس کی صنعت کو پیدا کیا ہے۔‘‘[صحیح الجامع الصغیر للالبانی: ۱۱۶، عن حذیفۃ رضی اللّٰہ عنہ ۔]

اور رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَo وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ (الصافات: ۹۶)

’’تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو؟ حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا تمہارے عمل کو ۔ ‘‘

رب تعالیٰ نے ان تراشے ہوئے بتوں کی عبادت کرنے پر ان کی مذمت اور ان پر انکار کیا ہے۔ پھر یہ بیان فرمایا کہ رب تعالیٰ اس عابد کا، اس معبود اور اس تراشے ہوئے بت کا خالق ہے اور عبادت کا مستحق وہی اللہ ہے۔

اگر یہ مراد لیا جائے کہ اس نے تمھیں اور تمھارے جملہ افعال کو پیدا کیا ہے تو یہ مناسب نہ ہو گا کیونکہ اس نے ان کیعبادت اقسام کی مذمت بیان کی ہے جو ان کا عمل ہے۔ لہٰذا خالق افعال و اعمال کے بتلانے میں قابل مذمت باتوں کا ذکر مناسب نہیں ۔ بلکہ یہ عذر کے زیادہ قریب ہے۔

البتہ یہ آیت بتلاتی ہے کہ وہ ایک اور اعتبار سے بندوں کے افعال کا خالق ہے اور وہ یہ کہ جب اس نے اس معمول کو پیدا کیا جو بندے کرتے ہیں اور وہ تراشا ہوا بت ہے تو اس نے اس تالیف کو پیدا کیا جو اس کے ساتھ قائم ہے اور یہ ابن آدم کے عمل کا مسبب ہے اور خالق مسبب بطریقہ اولیٰ خالق سبب ہے۔

سو یہ اس ارشاد باری جیسا ہو گیا:

﴿وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ﴾ (یسٓ: ۳۲)

’’اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی کئی اور چیزیں بنائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں ۔۔‘‘

یہ بات معلوم ہے کہ کشتیوں کی لکڑیاں تیرتی ہیں اور بنی آدم ان پر سوار ہوتے ہیں ۔ لہٰذا کشتی بنی آدم کا معمول ہے جیسا کہ بت بنی آدم کا معمول ہے۔ یہی حکم بندے کی جملہ مصنوعات کا ہے جیسے کپڑے، کھانے اور عمارتیں وغیرہ۔ سو جب اللہ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ اس نے بھری کشتی کو پیدا کیا ہے اور اسے اپنی نشانی ٹھہرایا ہے اور اسے اپنے بندوں پر اپنا انعام بنایا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ بندوں کے افعال کا خالق ہے۔

صفحہ 2 از 4