فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

اب قدریہ کے قول کے مطابق اللہ نے صرف لکڑی کو پیدا کیا ہے جو کشتی وغیرہ بن سکتی ہے اور یہ معلوم ہے کہ صرف مادہ کا پیدا کرنا بنی آدم کی افعال سے حاصل ہونے والی صورت کے پیدا کرنے کو واجب نہیں کرتا گو کہ بنی آدم اس صورت کا خالق نہیں ۔اسی جیسی یہ آیت بھی ہے:

﴿وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الانعام بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَہَا یَوْمَ ظَعْنِکُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِکُمْ﴾ (النحل: ۸۰)

’’اور اللہ نے تمھارے لیے تمھارے گھروں سے رہنے کی جگہ بنا دی اور تمھارے لیے چوپاؤں کی کھالوں سے ایسے گھر بنائے جنھیں تم اپنے کوچ کے دن اور اپنے قیام کے دن ہلکا پھلکا پاتے ہو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَکْنَانًا وَّ جَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ بَاْسَکُمْ کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ﴾ (النحل: ۸۱)

’’اور اللہ نے تمھارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے سائے بنا دیے اور تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں بنائیں اور تمھارے لیے کچھ قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمھیں تمھاری لڑائی میں بچاتی ہیں ۔ اسی طرح وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے، تاکہ تم فرماں بردار بن جاؤ۔‘‘یہ بات معلوم ہے کہ بنائے ہوئے گھر اور کپڑے یہ بنائی ہوئی کشتیوں کی طرح ہیں ۔ رب تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ یہ کشتیاں بندوں کی صنعت ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا ہے کہ ان کا خالق اللہ ہے۔ جیسا کہ نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿وَ یَصْنَعُ الْفُلْکَ﴾ (ہود: ۳۸)

’’اور وہ کشتی بناتے تھے۔‘‘

غرض قرآن میں اس کا طویل بیان ہے۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے:

﴿فَرِیْقًا ہَدٰی وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْہِمُ الضَّلٰلَۃُ﴾ (الاعراف: ۳۰)

’’ایک گروہ کو اس نے ہدایت دی اور ایک گروہ، ان پر گمراہی ثابت ہو چکی۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہِ﴾ (البقرۃ: ۲۱۳)

’’پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انھیں اپنے حکم سے حق میں سے اس بات کی ہدایت دی جس میں انھوں نے اختلاف کیا تھا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ وَلَکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الرَّاشِدُوْنَ﴾ (الحجرات: ۷)

’’اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ ہدایت والے ہیں ۔‘‘

یہ بات معلوم ہے کہ یہاں ہدایت سے وہ ہدایت مراد نہیں جو کافر اور مسلمان کے درمیان مشترک ہے جیسے رسولوں کا بھیجنا، فعل کی تمکین اور بیماریوں کا دُور کرنا وغیرہ۔ بلکہ مراد وہ ہدایت ہے جو مومن کے ساتھ خاص ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ذکر ہے:

﴿وَ اجْتَبَبْنٰہُمْ وَ ہَدَیْنٰہُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍo﴾ (الانعام: ۸۷)

’’اور ہم نے انھیں چنا اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَآتَیْنَاہُمَا الْکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَo وَہَدَیْنَاہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَo﴾ (الصافات: ۱۱۷۔۱۱۸)

’’اور ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب دی ۔ اور ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستے پر چلایا ۔ ‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمo صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْo غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنo﴾ (الفاتحۃ: ۶۔۷)

’’ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں ۔‘‘

کیونکہ ہدایت مشترکہ مانگنے کی بھی احتیاج نہیں ۔ مانگی تو وہ ہدایت جاتی ہے جو مہتدین کیساتھ خاص ہے اور جس نے اس کی تاویل زیادتِ ہدایت اور تثبیت سے کی ہے اور اسے جزا کہا ہے، اس کے قول میں تناقض ہے۔

کیونکہ کہا جاتا ہے: یہ مطلوب اگر بندے کے اختیار سے حاصل نہ ہو تو اس پر ثواب مرتب نہیں ہوتا کیونکہ ثواب تو اسی فعل پر ملتا ہے جو اختیار سے کیا ہو اور اگر وہ اس کے اختیار سے ہے تو ثابت ہو گیا کہ اللہ نے اس فعل کو حادث کیا ہے جسے بندے نے اپنے اختیار سے کیا ہے۔ یہی اہل سنت کا مذہب ہے۔

اسی طرح رب تعالیٰ نے قرآن میں اضلال اور ہدایت کا جو ذکر کیا ہے، یہ لوگ اس کی تاویل ماتقدم کی جزا سے کرتے ہیں ۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ان لوگوں کی عام تاویلات اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہیں ہیں ۔ حالانکہ یہ جزا فعل پر فاعل کو دی جاتی ہے اور اگر وہ اس بات کو جائز قرار دیتے ہیں کہ اللہ بندے کو اس فعل اختیار پر جزا دیتا ہے جو اس نے بندے پر انعام کیا ہے تو پھر یہ بھی جائز ہو کہ وہ بندے کو اس کے طاعت کو اختیار کرنے ابتدا سے ہی انعام دے اور اگر ان کے نزدیک بندے کو اس کے فاعل بنائے جانے پر ثواب و عقاب جائز نہیں ہے۔ تو ہدایت و ضلالت پر ثواب و عقاب کو مراد لینا باطل ٹھہرے گا اور رب تعالیٰ نے جو ان باتوں کی خبر دی ہے کہ ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ان کے آگے پیچھے آگ کی دیواریں کھڑی کر دی جائیں گی کہ یہ سب ممتنع ہو۔ حالانکہ اللہ نے یہ ارشاد فرمایا ہے:

﴿اِنْ تَحْرِصْ عَلٰی ہُدٰیہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ﴾ (النحل: ۳۷)

’’اگر تو ان کی ہدایت کی حرص کرے تو بے شک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کر دے۔‘‘

اللہ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ جسے وہ گمراہ کر دے وہ ہدایت نہیں پایا کرتا۔

صفحہ 3 از 4