فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

غرض قرآن کریم میں ایسی متعدد آیات ہیں جو اس مضمون پر مشتمل ہیں کہ اللہ بندوں کے افعال کا خالق ہے اور وہی دلوں کو بدلتا ہے، جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کرتا ہے، وہی ہدایت والے پر ہدایت کا انعام کرتا ہے۔ غرض یہ بڑی طویل بحث ہے جس کا استقصاء اس مقام پر مشکل ہے۔

اسی طرح قرآن میں یہ مضمون بھی ہے کہ رب تعالیٰ کی صفت خلق عام ہے۔ ارشاد ہے:

﴿اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ﴾ (الرعد: ۱۶)

’’اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔‘‘

یہ آیات بتاتی ہیں کہ وہ فعال لما یرید ہے اور یہ کہ اگر وہ چاہے تو سب کو ہدایت دے دے۔اس طرح کی دیگرآیات بھی ہیں جن کا بیان کرنا طوالت اختیار کر جائے گا

جب یہ کہا جاتا ہے کہ:’’ یہ آیات قدریہ کے نزدیک متاول ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ آیات متشابہ ہیں ۔‘‘

تو اس کا جواب دو طرح سے ہے:

اوّل:....یہ کہ یہ تاویلاتِ جبریہ کے مقابلہ ہے جن کو انھوں نے دلیل بنایا ہے اور متشابہ کہہ کر یہ لوگ صرف نص کو ذکر کرتے ہیں اور ہم نے طرفین کی نصوص ذکر کی ہیں ۔

دوم :....یہ کہ ہم ان کی ایک ایک تاویل کو فساد کو واضح کریں جیسا کہ دوسرے مقام پر کیا ہے اور یہ کہ ان کی تاویلات میں کلمات کو ان کی جگہ سے پھیرنا، لغت کی مخالفت، معانی کا تناقض، اسلافِ امت کے اجماع کی مخالفت ہے۔ جو بتلاتے ہیں کہ ان کی تاویلات باطل ہیں اور یہ کہ قرآن میں ایسا کوئی محکم نہیں جو اس کے مناقض ہو کہ یہ بھی کہنا پڑے کہ یہ محکم ہے اور یہ متشابہ، بلکہ قرآن تو ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے۔

ان بدعتیوں میں سے جس نے بھی اس باب کو کھولا ہے وہ ثابت قدم نہیں رہ سکتا کیونکہ اس کا خصم بھی وہی کرتا ہے جو یہ کرتا ہے پھر اس کے ہاتھ میں معارضہ سے سلامت کوئی دلیل رہ نہیں جاتی۔ کیونکہ ان کی عام تاویلات کو اللہ اور اس کے رسول نے اپنے کلام میں مراد نہیں لیا۔


صفحہ 4 از 4