Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح قیساریہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا موقف

  علی محمد الصلابی

 قیساریہ کے محاصرہ کے موقع پر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اسلامی فوج کے میمنہ کے قائد تھے۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ اپنی فوج کو نصیحت کرنے کھڑے ہوئے، انہیں گناہوں سے بچنے اور اپنا محاسبہ کرنے کا حکم دیا، پھر مجاہدین کا ایک ہجوم لے کر آگے بڑھے اور بہت سارے رومیوں کو قتل کیا، لیکن اپنے مقصد میں اچھی طرح کامیاب نہ ہوئے۔ دوبارہ اپنی جگہ واپس آگئے، اپنے ساتھیوں کو لڑنے مرنے پر جوش دلایا اور اپنے ساتھ اتنا بڑا ہجوم لے کر حملہ کرنے کے بعد بھی نامراد لوٹنے پر کافی حیرت و تعجب کا اظہار کیا اور کہا:

’’اے اسلام کے پاسبانو! میں بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے نقباء میں سب سے کم عمر تھا، لیکن مجھے سب سے لمبی عمر ملی، اللہ نے میرے حق میں فیصلہ کیا کہ مجھے زندہ رکھا، یہاں تک کہ آج یہاں تمہارے ساتھ اس دشمن سے لڑ رہا ہوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے مومنوں کی جماعت لے کر جب بھی مشرکوں کی جماعت پر حملہ کیا انہوں نے ہمارے لیے میدان خالی کر دیا اور اللہ نے ان پر ہمیں فتح دی۔ کیا بات ہے کہ تم نے ان پر حملہ کیا اور ان کو ہٹا نہ سکے۔‘‘ پھر ان کے بارے میں آپ کو جو اندیشہ لاحق تھا اسے ان لفظوں میں بیان کیا: ’’مجھے تمہارے بارے میں دو چیزوں کا اندیشہ ہے، یا تو تم میں کوئی خائن ہے یا جب تم نے حملہ کیا تو مخلص نہیں تھے۔‘‘ اس کے بعد حضرت عبادہ بن صامتؓ نے انہیں صدق دل سے شہادت مانگنے کی تلقین کی اور کہا کہ میں تم میں سب سے پیش پیش رہوں گا اور ہرگز پیچھے نہ ہٹوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فتح سے نواز دے یا شہادت کی موت عطا فرمائے۔ چنانچہ جب رومی اور مسلمان آپس میں ٹکرائے تو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے سے کود کر پیدل ہوگئے، حضرت عمیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے آپ کو پیدل دیکھا تو امیر لشکر کے پیدل لڑنے کی بات مسلمانوں میں عام کر دی اور کہا کہ سب لوگ انہی کی طرح ہو جائیں۔ چنانچہ سب نے رومیوں سے زبردست معرکہ آرائی کی اور انہیں پست کر دیا بالآخر وہ بھاگ کر شہر میں قلعہ بند ہوگئے۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 209)