فصل دوم : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ…

فصل دوم : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

[ ۷۔ اس باب میں بیان کیا جائے گا کہ امام ’’ماکان و ما یکون‘‘ کا علم رکھتے ہیں اور کوئی بات ان سے پوشیدہ نہیں ہوتی۔ ۸۔اس بات کا باب کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ علم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک تھے۔ ۹۔ اس بات کا باب کہ اگر ائمہ سے کوئی بات پوشیدہ رکھی جائے تو وہ اسے ظاہر کر دیتے ہیں ۔ ۱۰۔ ہر امام جانتا ہے کہ اس کے بعد کون شخص منصب امامت پر فائز ہو گا۔ ۱۱۔ اس بات کا باب کہ ائمہ کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ حق ہوتی ہے نیز جو بات ان کے ہاں سے نہیں آئی وہ باطل ہے۔ ۱۲۔ اس بات کا باب کہ یہ کائنات ائمہ کی ملک ہے۔ یہ اس کتاب کے عنوانات ہیں جو شیعہ کی نہایت ہی قابل اعتماد کتاب ہے۔ یہ عقائد و افکار شیعہ میں اس وقت رائج تھے جب غلو کو ضروریات دین میں شمار نہیں کیا جاتا تھا۔ جہاں تک ضروریات دین میں شمار کیے جانے والے غلو کا تعلق ہے تو اسے ان تراجم میں تلاش کرنا چاہئے جو اعداء دین روافض نے اپنے قلم سے تحریر کیے۔ مثلاً تحفہ اثنا عشریہ میں ،ص:۱۰۰ پر دیکھیے شیعہ کا یہ عقیدہ کہ سیدنا علی اولوالعزم نبیوں کو چھوڑ کر سب انبیاء و رسل سے افضل تھے۔ آگے چل کر صفحہ:۱۰۲، پر لکھا ہے کہ ائمہ انبیاء سے بڑے عالم ہوتے ہیں اس لیے ان کا مرتبہ بھی بلند تر ہوتا ہے۔ اسی کتاب کے صفحہ:۱۰۳،پر شیعہ کا یہ عقیدہ تحریر کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اوّلین وآخرین سب سے افضل تھے۔ کتاب مذکور کے صفحہ:۱۱۴ پر لکھا ہے کہ شیعہ کے نزدیک سیدنا علی کی جانب وحی کی جاتی تھی اور آپ اس کی آؤاز سنتے تھے۔ (تحفہ اثنا عشریہ)] 

(۱)....اے متقی(قاتل علی) کی وہ ضرب جو قابل تحسین تھی جس سے اس کا مقصد صرف رضائے الٰہی کا حصول تھا۔

(۲)....میں کبھی کبھی اسے یاد کرتا ہوں تو یوں خیال کرتا ہوں کہ سب مخلوقات سے اللہکے نزدیک اس کا اعمال نامہ زیادہ بھرپور تھا۔

ایک سنی شاعر نے اس کے مقابلہ میں یہ اشعار کہے:

۱....یَا ضَرْبَۃً مِّنْ شَقِیٍّ مَا اَرَادَ بِہَا اِلَّا لِیَبْلُغَ مِنْ ذِی الْعَرشِ خُسْرَانًا

۲....اِنِّیْ لَاَذْکُرُہٗ یَوْمًا فَاَلْعَنُہٗ لَعْنًا وَّاَلْعَنُ عِمْرَانَ ابْنَ حِطَّانًا

(۱) ہائے اس بدبخت کی وہ ضرب جس سے اس کا مقصد اللہسے خسارہ پانے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔(۲) میں بعض اوقات یاد کرکے اس پر لعنت بھیجتا ہوں اور عمران بن حطان پر بھی لعنت بھیجتا ہوں ۔(جس نے مذکورہ بالااشعار کہے)۔

خارجی فرقے اور ان کے متعلق فتویٰ 

یہ خوارج تقریباً اٹھارہ فرقے تھے۔ جیسے ازارقہ[ازارقہ ؛ ابو راشد نافع بن الازرق بن قیس الحنفی البکری الوائلی ؛ اہلِ بصرہ میں سے تھا۔ شروع شروع میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی صحبت میں رہا۔ پھر حضرت عثمانؓ کے خلاف بلوائیوں میں شامل ہو گیا۔ اور حضرت علیؓ سے محبت اور دوستی کا اظہار کرنے لگا۔ حتی کہ جب آپ نے حروراء کی طرف خروج کیا۔ یہ ایک بہادر اور لڑاکا اور انتہائی سرکش خارجی تھا۔ پھر سن 65 ہجری میں قتل ہوا۔ فرقہ ازارقہ حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما دونوں کو اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کو کافر کہتے ہیں ۔ اور ان لوگوں کو بھی کافر کہتے ہیں جو ان جنگوں میں شریک نہیں ہوئے۔ اور مزید ان کا عقیدہ ہے کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب لوگ کافر اور دائمی جہنمی ہیں ۔ اور ان کے مخالفین کے مقبوضہ علاقے دار الکفرہیں ۔مزید دیکھیں: لِسان المِیزانِ:6؍144، تارِیخ الطبرِیِ:5؍528، الأعلام:8؍315، مقالاتِ الإِسلامِیِین :1؍157، المِلل والنِحل:1؍109، الفرق بین الفِرقِ، صفحہ52؛ 5 التبصِیر فِی الدِینِ، ص: الخطط لِلمقرِیزِی: 2؍354۔]:نافع بن ازرق کے اتباع کار۔ 

نجدات: [انہیں نجدیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نجدہ بن عامر حنفی کے اتباع کار ہیں ۔ یہ انسان 36ہجری میں پیدا ہوا؛ اور 61 ہجری میں وفات ہوئی۔ بظاہر یہ بھی نافع بن ازرق کا پیروکار تھا۔پھر اس کی مخالفت میں علیحدہ سے ایک مذہب کی بنیاد رکھ لی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کے ایام میں بحرین میں اس کی مستقل حکومت تھی؛ اور اسے امیر المؤمنین کہا جاتا تھا۔ پانچ سال تک اس کی حکومت رہی ؛ پھر اسے قتل کردیا گیا۔ علامہ اشعری کہتے ہیں : نجدات بھی دوسرے تمام خوارج کی طرح ہیں ۔ان کا کہناہے : ہر کبیرہ گناہ کفر ہے۔ اور کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہ کے مرتکب کو دائمی عذاب دیں گے۔ اور ان کا خیال ہے کہ جو کوئی صغیرہ گناہ پر اصرار کرتا ہے؛ وہ مشرک ہے۔ او رجس نے کبیرہ گناہ کیا؛ اور وہ اس پر مصر نہ ہو؛ تو وہ مسلمان ہے ۔ نجدات کہتے ہیں : لوگوں کے لیے کسی کو حاکم بنانا ضروری نہیں ہے۔ بس ان کے باہمی معاملات عدل و انصاف اور حق پر مبنی ہونے چاہییں ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں : لِسان المِیزانِ6؍148، شذراتِ الذہبِ:1؍76 ، الکامِل لِابنِ الأثِیرِ:4؍78، الأعلام:8؍324، مقالاتِ الإِسلامِیِین: 1؍156، الفرق بین الفِرقِ ص:54، المِلل والنِحل:1؍110، التبصر فِی الدِینِ صفحہ 31، الفِصل]نجدۃ الحروری کے اتباع کار۔ 

الاباضیہ [اباضیہ : عبداللہ بن اباض المقاعسی المری اور التمیمی کے اتباع کار ہیں ۔ مؤرخین کا اس کے حالات زندگی اور تاریخ وفات کے متعلق اختلاف ہے۔ یہ حضرت امیر معاویہؓ کا معاصر تھا۔ اور مروان بن عبدالملک کے آخری عہد تک زندہ رہا۔ اور راجح تاریخ کے مطابق 86ہجری میں فوت ہوا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ان کے مخالفین اہل قبلہ کافر ہیں ؛ مشرک نہیں ۔ اور ان کے مخالفین اہل اسلام کا دار دار التوحید ہے۔ سوائے حکمرانوں کے معسکر کے۔ وہ دار بغاوت ہے۔ اور ان کا اجماع ہے کہ: کبیرہ گناہ مرتکب کفر نعمت کا ارتکاب کرتا ہے؛ اس وجہ سے وہ ملت اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ اوران کی بھی تین اقسام ہیں ؛ حفصیہ ؛ حارثیہ اور یزیدیہ۔ دیکھو: ِلسان المِیزانِ : 3؍248، الأعلام:4؍184، مقالاتِ الإِسلامِیِین:1؍170، المِلل والنِحل:1؍121، الفرق بین الفِرقِ صفحہ:61 ، التبصِیر فِی الدِینِ، صفحہ:35،34 الفِصل فِی المِلل والنِحل:5؍51، الخطط لِلمقرِیزِیِ:2؍355، الإِباضِیۃ فِی موِکبِ التارِیخِ لِعلِی یحی معمر ط۔ مکتبِۃ وہب:1384، ] : عبداللہ بن اباض کے اتباع کار۔ 

صفحہ 3 از 4