فصل دوم : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ…

فصل دوم : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

اس کے عقائد اور احوال عقائد؛حدیث؛ اور احوال و تراجم کی کتابوں میں بڑے ہی مشہور ہیں ۔یہ لوگ حضرات صحابہؓ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے عہد مسعود میں موجود تھے۔ان سے مناظرے بھی کرتے تھے؛ اور لڑتے بھی تھے ۔ صحابہ کرامؓ کا ان سے قتال کے واجب ہونے پر اتفاق ہے۔ مگر اس کے باوجود ان لوگوں کو کافر نہ صحابہ نے کہا اور نہ ہی حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ نے۔

جب کہ حضرت علیؓ  کی شان میں غلو کرنے والے شیعہ کے کفر پر تمام صحابہ کرام اور مسلمانوں کا اتفاق ہے۔خود حضرت علیؓ بن ابی طالب نے انہیں کافر قرار دیکر آگ میں جلایا تھا؛ ان غالی شیعہ میں سے جس پر قدرت حاصل ہو؛اسے قتل کردیا جائے۔ جہاں تک خوارج کا تعلق ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے خلاف اس وقت جنگ آزما ہوئے جب انھوں نے کسی مسلمان کو قتل کیا۔ اور لوگوں پر حملہ کر کے ان کا مال لوٹنے کا بیڑا اٹھایا۔

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت علیؓ کی ذات میں غلو کرنے والوں کو صحابہؓ بلکہ خود حضرت علیؓ نے مرتد قرار دیا۔ اور ان سے مرتدین کا سا سلوک کیا۔ مگر خوارج سے کسی نے بھی مرتدین جیسا سلوک روانہ رکھا۔ یہ حقائق اس بات کی آئینہ داری کرتے ہیں کہ اصحاب ثلاثہؓ سے بغض رکھنے والے جو حب ِ علیؓ  کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں ان میں بالاتفاق علی و جمیع صحابہؓ کے متعلق جو شرّ و کفر پایا جاتا ہے وہ ان لوگوں میں موجود نہیں جو حضرت علیؓ  سے عداوت رکھتے اور آپ کی تکفیر کرتے تھے۔نیز یہ بات بھی نکھر کر سامنے آئی کہ اصحاب ثلاثہؓ  سے بغض رکھنے والے حضرت علیؓ و جمیع صحابہؓ کے نزدیک حضرت علیؓ سے بغض رکھنے والوں سے بدتر تھے۔


صفحہ 4 از 4