Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ مرج الصفر میں ام حکیم بنت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہا

  علی محمد الصلابی

حضرت ام حکیم بنت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہا عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، عکرمہ شام کے معرکوں میں سے کسی معرکہ میں شہید ہوگئے تھے۔ (بعض مؤرخین کے نزدیک معرکہ یرموک میں اور بعض کے نزدیک اجنادین اور بعض کے نزدیک فحل میں ان کی شہادت ہوئی تھی۔)

انہوں نے چار ماہ دس دن عدت گزاری، یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما انہیں پیام نکاح دیتے اور خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بھی ان سے نکاح کے خواہاں تھے، ام حکیم نے خالد کا پیغام نکاح قبول کر لیا اور ان سے شادی کر لی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ اجنادین، فحل اور مرج الصفر کے معرکوں میں برابر کے شریک تھے، چنانچہ جب مسلم فوج مرج الصفرمیں اتری تو حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے ام حکیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت چاہی، ام حکیم رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اگر ان لشکروں کے پست ہو جانے تک آپ خلوت کو موخر کر دیتے تو بہتر ہوتا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ آج میں انہی لشکروں میں شہید ہو جاؤں گا۔ ام حکیم رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر تو آپ کی مرضی۔ چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مرج الصفر کے ایک پل کے پاس شب زفاف منائی اور اسی وجہ سے تاریخ میں اس کا نام ’’ام حکیم کا پل‘ پڑ گیا، صبح ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے ولیمہ کیا، سب کو کھلایا اور جب سب لوگ کھا کر فارغ ہوئے تو دیکھا کہ روم کی فوج اپنی صفوں کو درست کر چکی ہے۔ مسلمانوں میں سے خالد بن سعید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور جاں فروشی کے جوہر دکھاتے ہوئے اللہ کے راستہ میں شہید کر دیے گئے۔ ام حکیم رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے کپڑے کس لیے اور مقابلہ کے لیے ڈٹ گئیں۔ ان کے کپڑوں پر خوشبو کے نشانات صاف طور سے دیکھے جا سکتے تھے۔ اس دن مسلمانوں نے دریا پر زبردست جنگ لڑی اور دونوں افواج نے بے جگری کا ثبوت دیا، تلواروں نے ایک دوسرے کو خوب کاٹا، اس دن ام حکیم رضی اللہ عنہا نے جس خیمہ میں خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ شب زفاف منائی تھی اس کی چوبوں سے سات رومی کافروں کو جہنم رسید کیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 428)