فصل:....قادر کے مقدور کو راجح کرنے کی بحث - ردِ رافضیت |…

فصل:....قادر کے مقدور کو راجح کرنے کی بحث

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....قادر کے مقدور کو راجح کرنے کی بحث

[ افعالِ اختیاریہ کی بابت رافضی کا یہ قول ہے ’’قادر اپنے مقدور کو راجح نہیں کر سکتا‘‘ اور اس کا ردّ]

[اعتراض]:شیعہ مضمون نگارلکھتا ہے: ’’ہمارے مخالفین کا عقیدہ یہ ہے کہ صاحب قدرت کے ہر دو مقدور میں سے بلا مرجّح کسی کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ ظاہر ہے کہ ترجیح دینے کی صورت میں فعل واجب ہوجاتا ہے، اور قدرت باقی نہیں رہتی۔ علاوہ ازیں اس سے لازم آتا ہے کہ بندہ اللہ کا شریک ہو؛ جب کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَo﴾ (الصافات: ۹۶)

’’حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو ۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]۔

[جواب]:پہلا جواب: یہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق سے مقابلہ کرنے والی بات ہے۔ اگر قدرت مرجّح کی محتاج ہو اور مرجّح سے نتیجہ کا ظہورو وقوع واجب ہوجاتا ہوتو اس سے اللہ تعالیٰ کا مختار نہیں بلکہ موجب ہونا لازم آتا ہے، جس کا نتیجہ کفر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

دوسرا جواب :....بھلا یہاں کون سی شرکت ہے۔جب اللہتعالیٰ بندے کو مقہورو معدوم کرنے پر قادر ہے [[تواس کے شریک ہونے کا احتمال کیوں کر پیدا ہو گیا؟]]۔ جیسے اگر حاکم کسی کو کسی علاقہ کا امیر مقرر کر دے اور وہ ظلم و ستم پر اتر آئے تو سلطان اور حکم اس کے قتل پر، اس سے انتقام لینے پر اور اس کے چھینے اموال کے واپس لینے پر قادر ہوتا ہے۔ وہسلطان کا شریک نہیں ہو جاتا۔

تیسرا جواب :....آیت قرآنی ’’وَاللّٰہُ خَلَقَکُم ‘‘کا جواب یہ ہے کہ اس میں ان بتوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جن کو وہ خود ہی گھڑا کرتے تھے، ان بتوں کی مذمت میں فرمایا:

﴿ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ (الصافات:۹۵۔ ۹۶)

’’کیا تم ان کو پوجتے ہو جن کو تراش لیتے ہو، حالانکہ تم اور تمہارے اعمال اللہ نے پیدا کیے ہیں ۔‘‘

شیعہ مصنف نے قائلین تقدیر کے صرف چند دلائل بیان کیے ہیں [ اور ان کے دلائل کو مفصل ذکر نہیں کیا۔] بایں ہمہ تین دلائل کا شیعہ کے پاس کوئی صحیح جواب نہیں :

پہلی دلیل کے معقول ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص یہ دلیل پیش کرتا ہے، وہ یہ نہیں کہتا کہ جب فعل واجب ہوجاتا ہے تو قدرت باقی نہیں رہتی، اس کے برخلاف عام اہل سنت کا قول ہے کہ بندے میں قدرت پائی جاتی ہے،یہ اکثر اہل سنت کا مذہب ہے۔ حتیٰ کہ غالی مثبتین قدر کا بھی؛ جیسے اشعریہ؛ وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ بندے کو قدرت حاصل ہے۔ اور اس مذکورہ دلیل سے ابو عبداللہ رازی رحمہ اللہ وغیرہ نے حجت پکڑی ہے۔ وہ اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ وہ جبریہ عقیدہ کے قائل ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود کہتے ہیں کہ بندے کو قدرت حاصل ہے۔ اگرچہ ان کا اس امر میں اختلاف ہے کہ یہ قدرت اپنے مقدور میں موثر ہے، یا اس کی بعض صفات میں موثر ہے، یا اس کی سرے سے کوئی تاثیر ہی نہیں ۔

ابو الحسین بصری اوردیگر معتزلہ کا قول ہے کہ فعل میں صرف قدرت کافی نہیں ؛ بلکہ یہ داعی پر موقوف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قادر مختار محض قدرت سے ترجیح نہیں پیدا کر سکتا۔ بلکہ داعی کے ذریعے جو قدرت کے مقارک ہو۔ جیسا کہ اکثر مثبّتین تقدیر کا قول ہے ؛ وہ کہتے ہیں : رب تعالیٰ محض قدرت سے ترجیح اختیار نہیں کرتا بلکہ قدرت کے ساتھ ارادہ کے ذریعے ترجیح پیدا کرتا ہے۔ ائمہ اربعہ کے اکثر اصحاب کا یہی قول ہے۔ اصحاب احمد میں سے قاضی ابوخازم کا بھی یہی قول ہے۔

گزشتہ میں مذکور ہو چکا ہے کہ اس باب میں متوسط قول یہ ہے کہ قدرت کو تاثیر ہے جو اسباب کی مسببات میں تاثر کی خبر میں سے ہے۔ البتہ اسے خلق اور ابداع کی تاثیر نہیں اور نہ اس کا وجود اس کے عدم کے جیسا ہے۔ اس دلیل کی توجیہ یہ ہے کہ قادر کے لیے بلا مرجح کے دو میں سے ایک مقدور کو ترجیح دینا ممتنع ہے۔ وہ اس لیے کہ جب فعل اور ترک دونوں کی قادر کی طرف نسبت یکساں ہو گی تو دو متماثلین میں سے ایک کی دورسے پر ترجیح بلا مرجح ہو گی اور یہ بات عقل بدیہہ کے نزدیک ممتنع ہے۔ جس کی تفصیل اپنے مقام پر موجود ہے۔ جہاں اس شخص کی خطا کو بیان کیا گیا ہے جو اس بات کا گمان رکھتا ہے کہ قادر دو مقدور متماثلین میں سے ایک کو دوسرے پر بلا مرجح کے ترجیح دیتا ہے۔اور یہ مرجح بندے کی طرف سے نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس مرجح میں قول بالکل ویسے ہی ہے جیسے بندے کے فعل میں ۔علاوہ ازیں اس امر سے بھی مذکورہ بالا دلیل کی تائید ہوتی ہے کہ صاحب قدرت کا مقدور کسی مرجّح کے بغیر ترجیح نہیں پا سکتا، یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ یہ مرجّح بندے میں نہیں پایا جاتا، لہٰذا اس کا من جانب اللہ ہونا متعین ہوا، یہ بھی ظاہر ہے کہ مرجّح تام کے موجودہونے کی صورت میں فعل کا پایا جانا ضروری اور اس کا عدم وجود ممتنع ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر مرجّح کے پائے جانے کے بعد بھی فعل کا وجود و عدم مساوی ہو جیسا کہ وجود مرجح سے قبل تھا تو وہ فعل ممکن ٹھہرے گا اور ممکن کا وجود اسی صورت میں عدم کے مقابلہ میں راحج ہوتا ہے جب کوئی مرجّح تام پایا جاتا ہو۔ جس کے وقت فعل کا وجود واجب ہوا۔

جب بندے کا فعل اللہ کی طرف سے مرجح کے بغیر حاصل نہیں ہوتا کہ جس کے پائے جانے کے وقت فعل کا وجود واجب ہوتا ہے تو بندے کا فعل دیگر حوادث کی طرح ٹھہرے گا جو ان اسباب سے حادث ہوتے ہیں جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے کہ جن کے ہونے کے وقت حادث کا وجود واجب ہوتا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ بندے کے فعل کا خالق ہے اور یہ کہ اللہ نے بندے میں قدرتِ تامہ اور ارادہ جازمہ کو پیدا کیا ہے کہ جن کے وجود کے وقت فعل کا وجود واجب ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ فعل کا سبب تام ہے اور جب سبب تام پایا جاتا ہے تو مسبب کا وجود واجب ہوتا ہے۔ پھر اللہ مسبب کا بھی تو خالق ہے کہ یہ سب اس کی مخلوق ہے۔جیسے جب اللہ تعالیٰ کسی کپڑے میں آگ پیدا کرتے ہیں تو اسکے بعد اس کے ما بعد اثرات کا ہونا لازم ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ۔

[اللہ تعالیٰ کے ساتھ معارضہ کی بحث]:

شیعہ مصنف کا یہ قول کہ اس فعل سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معارضہ لازم آتا ہے۔ تو اس کے کئی جوابات ہیں :

صفحہ 1 از 3