فصل:....قادر کے مقدور کو راجح کرنے کی بحث - ردِ رافضیت |…

فصل:....قادر کے مقدور کو راجح کرنے کی بحث

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

اول:....یہ عقلی و یقینی دلیل ہے اور یقینیات کا معارضہ ممکن نہیں ،جو ان کو باطل قرار دے دے اور اگر فرض کیا کہ اس کو دلیل بنانے والا موجب بالذات کا قائل ہے تو بھی اس سے ہماری ذکر کردہ دلیل منقطع نہیں ہوتی۔ بالخصوص ان کے نزدیک یہ مسئلہ ان عقلیات میں سے جن کو بدون سمع کے جانا جاتا ہے لہٰذا اس میں عقلی جواب کا ہونا لازم ہے۔

دوم :....یہ کہا جائے کہ رب تعالیٰ اپنی قدرت سے اپنی مشیئت کے ساتھ فعل کرتا ہے کہ جو اس نے چاہا وہ ہوا اور جو اس نے نہ چاہا وہ نہ ہوا اور یہ بات نہیں کہ ہر وہ بات جس پر وہ قادر ہو اس نے اسے کیا بھی ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿بَلٰی قٰدِرِیْنَ عَلٰی اَنْ نُسَوِّیَ بَنَانَہٗo﴾ (القیامۃ: ۳)

’’کیوں نہیں ؟ ہم قادر ہیں کہ اس (کی انگلیوں ) کے پورے درست کر (کے بنا) دیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ﴾ (الانعام: ۶۵)

’’فرمادیں وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے، یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھائے۔‘‘

بخاری و مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ﴾ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا:’’ میں تیرے چہرے کی پناہ میں آتا ہوں ، پھر یہ نازل ہوئی: ﴿اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ﴾ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے چہرے کی پناہ میں آتا ہوں ۔ پھر یہ نازل ہوئی: ﴿اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا....الی آخر الآیۃ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں باتیں زیادہ ہلکی ہیں ۔‘‘

اور ارشاد ہے:

﴿وَ لَوْشَآئَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًا﴾ (یونس: ۹۹)

’’اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقیناً جو لوگ زمین میں ہیں سب کے سب اکٹھے ایمان لے آتے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً﴾ (ہود: ۱۱۸)

’’اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقیناً سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَوْ شَآ ئَ اللّٰہُ مَا اقْتَتَلُوْا﴾ (البقرۃ: ۲۵۳)

’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے۔‘‘

غرض قرن کریم میں اس کی متعدد مثالیں مذکور ہیں ۔

جب بات یہ ہے کہ جو اس نے چاہا وہ ہوا تو یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ اس پر قادر ہے۔ کیونکہ غیر مقدور فعل غیر ممکن ہوا کرتا ہے۔ سو معلوم ہوا کہ جب فعل محض اس کے قادر ہونے کی وجہ سے واقع ہوا ہے تو ہر مقدور واقع ہو گا۔ بلکہ قدرت کے ساتھ ارادہ لازمی ہے۔ مزید برآں قائل کا قول کہ: قدرت ربانی مرجّح کی محتاج ہے، ظاہر ہے کہ مرجح صرف اللہ کا ارادہ ہی ہوسکتا ہے، یہ امر بھی مسلم ہے کہ ارادہ الٰہی کا صدور غیر سے ممکن نہیں بخلاف بندے کے ارادہ کے کہ وہ غیر سے صادر ہو سکتا ہے، جب ارادہ الٰہی مرجّح ہوا تو فاعل بالاختیار ہوگا، نہ کہ موجب بالذات بلا اختیار۔ اندریں صورت کفر بھی لازم نہیں آئے گا۔

کیا اللہ تعالیٰ موجب بذاتہٖ ہے....؟:

سوم:....شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ اس سے اللہ تعالیٰ کا موجب بالذات ہونا لازم آتا ہے۔‘‘

ہم پوچھتے ہیں کہ اس سے تمہاری کیا مراد ہے؟ کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بلا قدرت و ارادہ تاثیر پیدا کر دیتا ہے؟ یا تمہارا مقصد یہ ہے کہ مرجّح یعنی ارادہ مع القدرت کے ساتھ تاثیر کا پیدا ہوجانا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ بصورت اول ہم تلازم کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ، اس لیے کہ ہم فرض کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صاحب قدرت اور ترجیح دینے والا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہاں دو چیزیں ہیں :

۱۔قدرت ۲۔ امر [جس کی تفسیر ہم نے ارادہ سے کی ہے]پھر یہ کہنا کیوں کر درست ہے کہ اللہ تعالیٰ قدرت و ارادہ کے بغیر ترجیح دینے والا ہے؟

اگر شیعہ مضمون نگار کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ارادہ مع القدرت کے پائے جانے کی صورت میں نتیجہ کا ظہور ایک لابدی امر ہے تو یہ ایک حق بات ہے اور سب اہل اسلام اس کے قائل ہیں ،اور کوئی اس کا نام موجب بالذات رکھ دیتا ہے تو یہ نزاعِ لفظی ہے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو عالم وجود میں لانا چاہتے ہیں وہ اس کی قدرت و مشیت کے مطابق ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔ بعینہٖ اسی طرح جس چیز کا وجود ذات باری کو پسند نہیں ہوتا وہ اس کی مشیت و قدرت کے نہ ہونے کی بنا پر عالم وجود میں نہیں آتی۔ پہلی قسم مشیت ایزدی کے باعث واجب اور دوسری عدم مشیت کی وجہ سے ممتنع ہوتی ہے۔

قدریہ کا یہ قول کہ اللہ تعالیٰ بعض اشیاء کو چاہتے ہیں مگر وہ وجود پذیر نہیں ہوتیں اور بعض اشیاء اس کی مشیت کے بغیر ظہور میں آجاتی ہیں ،[ صریح ضلالت کا آئینہ دار ہے] اہل سنت اس پر انکار کرتے ہیں ۔

چہارم :....کہ وہ پاک ذات قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتے ہیں تو وہ دو حال سے خالی نہیں :

۱۔اس کا وجود میں آنا واجب ہو۔ ۲۔دوسرا یہ کہ اس کا ظہور پذیر ہونا واجب نہ ہو۔

بصورت اول مطلوب حاصل ہو گیا اور مرجّح کے ہوتے ہوئے اثرونتیجہ بھی رونما ہو گیا، خواہ اس کا نام موجب بالذات رکھا جائے، یا کچھ اور۔ بصورت ثانی اس چیز کا وجود واجب نہیں ۔ لہٰذا وہ ممکن ہوئی جس کا وجود و عدم مساوی ہے اور جس کے لیے کسی مرجّح کا ہونا از بس ضروری ہے، علی ہذا القیاس۔ ایسا ہی ہر اس امر میں ہو گا جو وجود کو قبول کرنے والا ہو اور اس کا وجود واجب نہ ہو گا تو اس کا وجود ممکن اور عدم اور وجود دونوں کا احتمال رکھتا ہو گا اور ایسا تب ہی حاصل ہو گا جب مرجح تام حاصل ہو جو اس کے وجود کو موجب بالذات ہو۔

صفحہ 2 از 3