شاہ روم قیصر کا الوداعی سلام شام والوں کے نام
علی محمد الصلابی15 ہجری میں ہرقل اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ پیچھے ہٹا اور شام سے بلاد روم کوچ کر گیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 428)
بعض مؤرخین اسے 16 ہجری کا واقعہ بتاتے ہیں۔
(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 66)
ہرقل جب بیت المقدس کی زیارت کے لیے جاتا اور واپس ہوتا تو کہتا: اے سوریہ تجھے میرا سلام، الوداع کہنے والے کا سلام، جو تجھ سے اپنی کوئی ضرورت پوری نہ کر سکا اور اب نامراد لوٹ رہا ہے۔ جب شام سے کوچ کا پختہ ارادہ کر لیا اور ’’رھا‘‘ (موصل اور شام کے درمیان جزیرہ کا ایک شہر ہے۔) پہنچا تو وہاں کے لوگوں سے کہا کہ میرے ساتھ روم تک چلو، انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ جانے سے تمہارے حق میں ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ یہیں قیام کریں۔ وہ سب کو چھوڑ کر آگے بڑھا اور ’’شمشاط‘‘(فرات کی ساحل پر آرمینیہ اور شام کے درمیان آرمینیہ سے متصل ایک شہر ہے) پہنچا، وہاں ایک ٹیلے پر کھڑا ہوا اور بیت المقدس کی طرف نگاہ اٹھائی اور اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: اے سوریہ تجھے الوداعی سلام، اب اس کے بعد کبھی ملاقات نہ ہوگی۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 429)
پھر ہرقل وہاں سے چل کر قسطنطنیہ آیا، وہی اس کا پایہ تخت رہا۔
ہرقل کے ساتھ ایک شخص تھا جو مسلمانوں کے ساتھ قید رہ چکا تھا اس سے اس نے پوچھا: مجھے بتاؤ کہ یہ کون سی قوم ہے؟ اس نے کہا: میں تمہارے سامنے ان کی ایسی تصویر کشی کروں گا گویا تم انہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ وہ دن کو شہ سوار اور رات کو عبادت گزار ہوتے ہیں، حرام کا ایک لقمہ بھی نہیں کھاتے، بغیر سلام کیے کسی کے پاس داخل نہیں ہوتے۔ جو ان سے پنجہ آزمائی کرتا ہے وہ اس کا صفایا ہی کر دیتے ہیں۔ بادشاہ نے کہا: اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب وہ ہمارے اس تخت و تاج کے مالک ہو جائیں گے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 429)