فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 18

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا ردّ

باقی رہا شیعہ مضمون نگار کا یہ قول کہ ’’ اس میں شرک کیسے پیدا ہو گیا؟‘‘

تو اس کا جواب یہ ہے کہ:’’ حوادث کا بلا قدرت ا لٰہی پیدا ہوجانے کا عقیدہ ہی بہت بڑا شرک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین تقدیر [روافض ]کو مجوس کے مماثل ؍مشابہ قرار دیا گیا ہے، جو خیر و شر کے دو الگ الگ خالق تسلیم کر کے وہ ایک اور کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ ان لوگوں نے حاکم کی جو مثال پیش کی ہے، وہ اس شراکت کو اور بھی زیادہ موکد کرتی ہے۔

کیونکہ حاکم کے نائبین مملکت کے امور میں اس کے شریک ہوتے ہیں اور حاکم ان کا محتاج ہوتا ہے، نہ تو وہ ان کا خالق ہوتا ہے اور نہ رب۔ بلکہ وہ ان کی قدرت کا بھی خالق نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ نائبین اس کی خارج از قدرت اور اس کے معاون ہوتے ہیں کہ اگر یہ نائبین نہ ہوں تو وہ ملک نہیں چلا سکتا ہے۔

سو جس نے بندوں کے افعال کو اللہ کے ساتھ بمنزلہ نائبین حاکم کے افعال ان کے حاکم کے ساتھ، قرار دیا اس نے وہ صریح شرک کیا جو بتوں کب پجاری بھی نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ ربوبیت میں شرک ہے ناکہ الوہیت میں ۔ کیونکہ اس بات کا اعتراف ان بت پرستوں کو بھی تھا کہ یہ بت اللہ کی ملک ہیں اور وہ حج میں ’’لبیک لا شریک لک الا شریکا ہو لکن تملکہ ولا ملک‘‘کہا کرتے تھے۔ (اے اللہ! میں حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جس کا تو مالک ہے نہ کہ وہ خود کسی شے کا مالک ہے)۔

یہ لوگ بندہ جن افعال کا مالک ہے؛ اسے اللہ کی ملک قرار دیتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’توحید کی شیرازہ بندی عقیدہ تقدیر سے ہوتی ہے۔‘‘[السنۃ لعبد اللّٰہ بن احمد (۹۲۵)، الشریعۃ للآجری(ص:۲۲۶،ح:۴۵۶)، وسندہ ضعیف لجھالۃ الراوی۔]

سو جس نے اللہ کو ایک کہا اور تقدیر پر ایمان لایا، تو اس کی توحید کامل ہو گئی اور جس نے اللہ کو ایک کہا، پھر تقدیر کا انکار کیا تو اس کی توحید بھی جھوٹی ہے۔ اس عقیدہ کو تسلیم کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ بعض حوادث کسی خالق کے بغیر از خود پیدا ہوجاتے ہیں ۔نیز یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور فاعل مستقل بھی موجود ہے، یہ دونوں کفر کی شاخیں ہیں ، اس لیے کہ ہر کفر کی جڑ تعطیل و شرک کے تخم سے جنم لیتی ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے :

’’ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بندہ بغیر کسی محدث کے فاعل ارادہ کنندہ ہوا ہے؛حالانکہ وہ پہلے ایسا نہ تھا؛ اور یہ ایک امر حادث ہے جو پہلے نہ تھا۔ اور ان کے نزدیک اس امر کا حدوث کسی محدث کے بغیر ہے اور یہی تعطیل کی اصل ہے۔ سو جس نے کسی محدث کے بغیر حدوث حادث کو جائز قرار دیا اور یہ کہ ممکن کا وجود اس کے عدم پر بلا مرجح کے راجح ہے اور یہ کہ دو متماثلین میں سے ایک بلا مخصص کے مختص ہو جاتا ہے۔ یہ ان حوادث اور ممکنات کی جنس میں سے ہے جن کے لیے ایک فاعل کا ہونا ممکن ہے۔ لاریب ان کا فاعل اللہ ہے ؛سو ان کا یہ عقیدہ رب تعالیٰ کو اپنی مخلوقات کے خالق ہونے سے معطل کرنا ہے۔

رہا شرک تو یہ لوگ کہتے ہیں : بندہ فعل کے احداث میں مستقل ہے بغیر اس کے کہ اللہ نے اسے فعل کا محدث بنایا ہو۔ جیسے شاہوں کے اعوان و انصار جو شاہ کی طرف سے فاعل بنے بغیر متعدد امور کو سرانجام دیتے ہیں ۔ یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کے لیے شرکاء کا اثبات ہے۔ جو اس کی بعض مخلوقات کو پیدا کرتے ہیں ۔

یہ دونوں محذور، تعطیل اور شرک فی الربوبیت، ہر اس شخص کو لازم ہیں جو اللہ کے سوا فاعل مستقل کو ثابت کرتے ہیں ۔ فلاسفہ بھی اسی زعم فاسد میں مبتلا ہیں کہ افلاک فاعل مستقل ہیں اور وہ حوادث ارضی کو بغیر کسی ایسے سبب کے جنم دیتےہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حرکت کو واجب کرتا ہو۔ اور نہ اس کے اوپر کوئی متجدد ہے جو اس کی حرکت کاتقاضا کرتی ہو۔ کیونکہ اس وقت فلک کی حرکت اس کے اختیار سے ہو گی۔ جو انسان کی اپنے اختیار سے حرکت کی طرح ہوتی ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ فلک کا اپنے اختیار و قدرت کے ساتھ حرکت کرنا یہ ممکن ہے نہ کہ واجب بنفسہ لہٰذا اس کے لیے مرجح تام کا ہونا لازم ہے۔ لہٰذا وہ ہر وقت میں اپنے قدرت و اختیار سے حرکت کرتا ہے۔ سو اس کے محترک ہنے کے لیے کسی امر کا ہونا لازم ہے جو اسے واجب کرے۔ وگرنہ حوادث کا بلا محدث کے حدوث لازم آئے گا۔

[اعتراض ]: اگر یہ کہا جائے کہ موجب بذاتہ وہ مرجح ہے یا فاعل مرجح ہے، چاہے وہ بالواسطہ فاعل ہو یا بلاواسطہ اور وہ عقل یا عقول سے صادر ہوتا ہے۔

جواب : یہ قول باطل ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک موجب بذاتہ ازل سے ابد تک ایک ہی حال پر ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ بات ممتنع ٹھہری کہ اس سے کسی حادث کا صدور ہو بعد اس بات کے کہ اس سے اس حادث کا صدور پہلے نہ ہوا تھا او حرکت کا ہر جز حادث ہے بعد اس کے کہ پہلے وہ نہ تھا۔ لہٰذا اس حادث کا ازل میں ثابت ہونا ممتنع ٹھہرا اور یہ کہ ازل میں اس کے فاعل کا علت تامہ ہونا بھی ممتنع ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ان حوادث کا ازل میں علت تامہ سے صدور ممتنع ہوا۔

پھر یہ کہ حوادث کا مرجح اگر تو ازل میں مرجح تام ہے تو اس کے لیے مفعول لازم ہوا۔ حالانکہ اس سے اس کے بعد کوئی شے حادث نہیں ہوئی اور اگر وہ ازل میں مرجح تام نہیں ؛ تو وہ عدم کے بعد مرجح بنا؛ تو یہ بات ممتنع ہے کہ کسی غیر نے اسے مرجح بنایا ہو۔ پس اس کا مرجح وہی ہوگا؛ جو اپنے ارادہ سے اس کی ذات کے ساتھ قائم ہو۔ اور یہ امور ازل میں مرجح تام نہیں ۔ وگرنہ حوادث کا بطلان لازم آئے گا۔ سو مرجح سے ازل میں کسی ایسی چیز کا صدور ممتنع ہواجو اس کے مقارن ہو۔ سو فلک کا قدیم ہونا بھی ممتنع ٹھہرا ۔

یہ اس کے لیے مرجح ٹھہرا جو اسے عدم کے بعد راجح کرتا ہے۔اسی طرح حوادث کی اس کی طرف اضافت واجب ٹھہری کیونکہ حوادث کی مرجح تام کی طرف اضافت واجب ہے۔ سو ثابت ہوا کہ ان افلاک کے اوپر ایک موثر ہے جس کی تاثیر متجدد ہوتی رہتی ہے اور وہی مطلوب ہے۔

جب ان لوگوں نے اس بات کو ثابت نہ کیا تو فلک اور حوادث کی حرکت کے لیے کسی فاعل کے ہونے کو معطل ٹھہرایا اور یہ تعطیل افعالِ عباد کے لیے کسی محدث ہونے کی تعطیل سے بھی بڑی ہے۔

صفحہ 1 از 18