فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 18

یہ بھی ممتنع ہے کہ دو رب میں سے ایک دوسرے کا مشارک اور معاون ہو کہ اس سے دونوں کا عجز لازم آتا ہے اور عاجز کوئی شی نہیں کرتا۔ لہٰذا نہ تو وہ رب ہو گا اور نہ الٰہ۔ کیونکہ جب ان میں سے ایک دوسری کی اعانت سے ہی قادر بنے گا تو انفرادی حالت میں اس کا عجز لازم آیا اور اس کا اجتماع کے حال میں قادر ہونا بھی ممتنع ٹھہرا۔ کیونکہ یہ ’’دورِ قبلی‘‘ ہے۔ کیونکہ ان میں سے ایک دوسرے کے قادر بنائے بغیر قادر نہ بنے گا۔ یا اس کی مدد کے بغیر قادر نہ بنے گا۔

پس جب اس کے ساتھ دوسرے الٰہ کو فرض کیا جائے گا تو لازم ہو گا کہ عندالانفراد سب قادر ہوں اور ایسا ہے نہیں ۔ لہٰذا یہ قول باطل ٹھہرا۔

اسی طرح اگر ایک کا فعل دوسرے کے فعل کو مستلزم ہو، وہ یوں کہ جب تک دوسرا فعل نہ کر لے یہ فعل نہ کرے گا تو لازم آئے گا کہ دونوں میں سے ہر ایک عندالانفراد غیر قادر ہے اور دونوں اصل فعل میں تعاون کے محتاج ٹھہریں گے اور یہ بالضرور ممتنع ہے۔

غرض واضح ہو گیا کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ ہوتے تو ہر ایک اپنی اپنی مخلوق لے کر چلتا بنتا۔ لیکن ایسا غیر واقع ہے۔ کیونکہ عالم کی ہر چیز دوسرے کے ساتھ مرتبط ہے۔ جیسا کہ گزرا۔ اس لیے جب دو متعاون ایک کام کریں گے دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ قائم فعل دوسرے کے فعل سے ممتاز ہو گا۔

رہا وہ جو اس سے خارج میں حادث ہوتا ہے۔ تو وہ کسی کو ممکن نہیں بنائے گا کہ وہ اپنے سے منفضل شی کے ساتھ مستقل ہو۔ بلکہ اس کا ایک معاون ہونا بقول اس کے ضروری ہے یہ جو کہتا ہے کہ: بندے کا فعل مباشر اور غیر مباشر میں منقسم ہوتا ہے اور رہا وہ جو یہ کہتا ہے کہ اس کا فعل اس کے محل قدرت سے خارج نہیں ہوتا، سو اس کا کوئی منفصل منعول نہیں ہے پھر جب ایک کا مفعول دوسرے کے مفعول سے خلط ملط ہو جائے گا۔ جیسے دو لکڑیاں اٹھانے والے تو اجتماع کے وقت دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا محتاج ہو گا اور ہر ایک کی انفرادی اور اجتماعی حالت میں ایک خاص قدرت ہو گی جو اس کے لیے یہ ممکن بنائے گی کہ وہ اس قدرت کے ذریعے وہ فعل کرے جس سے وہ دوسرے سے منفرد اور ممتاز ٹھہرے۔ لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ایسا فعل ہونا لازم ہے جو اس کیساتھ خاص ہو اور دوسرے کے فعل سے ممتاز ہو۔ لہٰذا دو الٰہ مقصود نہ ہوں گے؛حتی کہ ایک کا مفعول دوسرے کے مفعول سے ممتاز ہو۔ پھر ہر ایک اپنی اپنی مخلوق کو لے جائے۔ توجب لازم منتفی ہے تو ملزوم بھی منتفی ہوا۔

رہی دوسری دلیل تو وہ یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ﴾ (المومنون: ۹۱)

’’اور یقیناً ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔‘‘

دونوں کا قدرت میں مساوی ہونا ممتنع ہو گا۔ کیونکہ جب وہ قدرت میں برابر ہوں گے تو دونوں میں سے ہر ایک کا مفعول دوسرے سے ممتاز ہو گا اور یہ باطل ہے جیسا کہ گزرا۔ دوسرے یہ کہ جب دونوں قدرت میں ہم پلہ ہوں گے تو اتفاق اور اختلاف دونوں حالتوں میں کچھ نہ کریں گے۔ چاہے دونوں کو اتفاق لازم ہو یا اختلاف۔ یا دونوں باتیں جائز ہوں ۔

کیونکہ جب یہ فرض کیا جائے گا کہ دونوں کو اتفاق لازم ہے تو دونوں میں سے ایک اس وقت ہی کسی بات کا ارادہ اور فعل کرے گا جب دوسرا ارادہ اور فعل کرے گا اور کسی ایک کا تقدم دوسرے کے تقدم سے اولیٰ نہ ہو گا۔ کیونکہ دونوں مساوی ہیں ۔ سو لازم آیا کہ دونوں میں سے کسی کا فعل نہ ہو۔

اگر فرض کیا کہ ایک کا فعل و ارادہ دوسرے کے فعل و ارادہ کے مقارن ہے تو تقدیر یہ ہو گی کہ تو وہ دوسرے کے بغیر ارادہ اور فعل نہ کر سکے گا اور اب اس کا فعل و ارادہ دوسرے کے فعل و ارادہ کے ساتھ مشروط ہو گا۔ جس کے بغیر وہ فعل و ارادہ سے عاجز ہو گا۔ سو دونوں میں سے ہر ایک حالِ انفراد میں عاجز ہو گا اور یہ کہ حالِ اجتماع میں دونوں کا قادر بن جانا بھی ممتنع ہو گا جیسا کہ گزرا۔

جب دونوں کو اختلاف لازم ہو گا۔ تو نساوی کے ہوتے ہوئے دونوں کا کوئی فعل کرنا ممتنع ٹھہرے گا۔ کیونکہ دونوں کے ہم پلہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک دوسرے کو روکے گا۔ لہٰذا دونوں کوئی فعل نہ کریں گے۔ پھر یہ کہ ایک کا امتناع دوسرے کے منع کرنے کے ساتھ مشروط ہے۔ تو ایک جب تک دوسرا منع نہ کرے گا ممنوع نہ ہو گا۔ اسی طرح اس کے برعکس۔ جس سے دونوں کا مانع اور ممنوع دونوں ہونا لازم آئے گا جو کہ ممتنع ہے۔

یہ کہ ہر ایک کی قدرت کا زوال حالِ تمانع میں ، دوسرے کی قدرت سے ہی ہو گا۔ ت وجب ایک کی قدرت زائل نہ ہو گی جب تک کہ دوسرے کی قدرت اسے زائل نہ کر دے۔ اسی طرح اس کے برعکس، تو دونوں میں سے کوئی قدرت زائل نہ ہو گی اور دونوں قادر ہوں گے۔

دونوں کا ایک فعل کی قدرت رکھنا اس حال میں کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے منع کرنے کی وجہ سے عاجز اور ممنوع ہو کہ یہ محال ہے۔ کیونکہ یہ سب جمع بین النقیضین ہے۔

جب اتفاق اور اختلاف دونوں کا امکان فرض کیا جائے۔ تو اتفاق کے بغیر اختلاف کی تخصیص اور اختلاف کے بغیر اتفاق کی تخصیص اس کی محتاج ہو گی جو ایک کو دوسرے پر راجح کرے اور مرجح بھی تو وہی دو خود ہیں اور دونوں میں سے ایک کا دوسرے کے بغیر ترجیح دینا محال ہے اور ایک کا دوسرے کے ساتھ مل کر ترجیح دینا اتفاق ہو گا۔ جس کی تخصیص ایکاور مرجح کی محتاج ہو گی۔ جس سے علل میں تسلسل لازم آئے گا جو سب عقلاء کے نزدیک ممتنع ہے۔

پھر یہ کہ دونوں کافی نفسہ اتفاق بھی ممتنع ہے اور اختلاف بھی ممتنع ہے۔ چاہے اسے لازم فرض کیا جائے اور چاہے نہ کیا جائے۔ کیونکہ اتفاق کے وقت ایک کو اس وقت فعل کرنا ممکن ہو گا جب دوسرا کرے گا۔ سو اتفاق کے وقت دونوں کسی فعل میں مستقل ہونے سے عاجز ہوں گے۔ تو جب دونوں اتفاق کے وقت فعل مستقل سے عاجز ہیں تو عندالانفراد بھی عاجز ہوں گے اور جو عندالانفراد ہر شی سے عاجز ہو، وہ عندالاتفاق بدرجہ اولیٰ عاجز ہو گا۔

صفحہ 10 از 18