فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 18

شریک لوگوں میں سے ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اشتراک کے وقت دوسرے سے فعل میں منفرد ہو۔ کیونکہ وہ حرکت جو دونوں میں سے کوئی کرتا ہے وہ حالِ تمکن میں دوسرے کے بغیر اس کے ساتھ مستقل ہوتا ہے۔ اسی طرح سے مالِ انفراد میں دوسرے کے بغیر کوئی اثر چھوڑنا ممکن ہوتا ہے۔ پس ایسے دو کا اتفاق ممتنع ٹھہرا چاہے وہ مخلوق یا خالق کہ جس میں دونوں میں سے ہر ایک حالتِ انفراد میں عاجز ہو، چاہے اتفاق لازم ہو یا ممکن۔

اگر مخلوق میں فرض کر لیا جائے کہ دو مخلوق اجتماع کے وقت قادر ہوں گی۔ تو یہی بات ہے۔ کیونکہ یہاں ایک تیسرا بھی ہے جو دونوں میں اتفاق و اجتماع کے وقت قدرت پیدا کرتا ہے اور یہاں یہ بات ممتنع ہے کہ خالق قدیم واجب بنفسہ سے اوپر کوئی ایسا ہو جو اسے قادر بنائے تو یہ بھی ممتنع ہوا کہ دونوں کے اوپر کوئی ہو جو اجتماع کے وقت نا کہ انفراد کے وقت دونوں میں قوت پیدا کرے۔ کیونکہ ان دونوں الٰہ کے ماسوا تو سب مخلوق ہو گا۔ پس مخلوق کا خالق کو قادر بنانا ممتنع ہو گا۔

رہا ان کے اختلاف کا امتناع، گو وہ لازم نہ بھی ہو، تب بھی زیادہ ظاہر ہے۔ کیونکہ اختلاف کے وقت تمانع حاصل ہوگا۔غرض یہ وہ معانی ہیں کہ جن کی جس طرح چاہے تعبیر کو لو صحیح ہیں ۔ کہ: دو الٰہ کا وجود ممتنع ہے چاہے وہ باہم متفق ہوں یا ان کا اختلاف ہو۔ سوائے اس صورت کے جب ہر ایک حالت انفراد میں قادر ہو۔ تو جب ہر ایک حالت انفراد میں قادر ہو گا تو دونوں میں سے ہر ایک کا ایسا فعل اور مفعول ہو گا جو اس کے ساتھ خاص اور دوسرے سے منفرد ہو گا۔ تب پھر وہ کسی بھی فعل یا مفعول میں متفق نہ ہوں گے اور نہ سرے سے کسی ایک شی میں متفق ہی ہوں گے۔ کیونکہ فعل حادث جو ایک کے ساتھ قائم ہو گا۔ وہ نہ ہو گا جو دوسرے کے ساتھ قائم ہو گا۔ کیونکہ یہ ممتنع لذاتہ ہے۔

مخلوق منفصل کہ اس میں جو ایک کا نفس اثر ہے وہ دوسرے کا نفس اثر نہ ہو گا۔ بلکہ دو اثروں کا ہونا لازم ہے۔ پھر اگر ایک اثر دوسرے کے لیے شرط ہوا تو ہر ایک دوسرے کا محتاج ہو گا۔ تو وہ حالتِ انفراد میں قادر نہ ہو گا اور اگر ایسا نہیں تو ایک کا مفعول دوسرے کا مفعول نہ ہو گا اور نہ اس کا لازم ہو گا۔ تو یہاں سرے سے ایک مفعول میں بھی اتفاق نہ ہو گا۔ یہ ہر الٰہ کے اپنی مخلوق کو لے جانے جیسے کلام کی جنس میں سے۔ لیکن یہاں خاص بات یہ ہے کہ جب دو ایسی شی ہوں کہ دونوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے ساتھ ہونا شرط ہو۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ کوئی تیسرا ہو جو ان دونوں کو حادث کر لے۔ جیسے ایک معلم کے دو مزدور نصوص کی طرف رجوع کرنے والے دو مفتی، ایسے امر کی طرف رجوع کرنے والے دو مشورہ کرنے والے جو دونوں کو مجتمع کر دے۔ لہٰذا یہاں ایک تیسرا ضروری ہے جو دونوں کو جمع کر دے۔البتہ دو خالقوں کے اوپر کچھ نہیں ۔ رہا یہ قول کہ دونوں وہ کریں گے جو مصلحت ہو گا وغیرہ۔ سو ہر حادث دونوں کے تابع اور ان سے حادث ہو گا۔ ہر شی دونوں کے علم و قدرت سے ہو گی۔ بخلاف مخلوق کے جو متعدد امور کو دوسرے کے بغیر حادث کرتی ہے اور دوسری مصلحت کے امر میں اس کی معاونت کرتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ دونوں آئندہ ہونے والے امر کو جانتے ہیں ۔ پس حادث کا علم معلومِ حادث کے تابع ہوا اور حادث اپنے محدث کے ارادہ کے تابع ہوا۔

رہے دو خالق تو دونوں میں سے ہر ایک کے ارادہ کا اس کی ذات کے لوازم میں سے ہونا لازم ہے۔ یا وہ مستقل بالارادہ ہو۔ تب پھر ایک کا ارادہ دوسرے کے ارادہ کی شرط پر موقوف نہ ہو گا۔ وگرنہ وہ مستقل بالارادہ نہ ہو گا اور نہ یہ اس کی ذات کے لوازم میں سے ہو گا۔ کیونکہ جب ہر ایک کا ارادہ اور فعل دوسرے کے ارادہ اور فعل کے ساتھ ہو گا تو ہر ایک کا ارادہ اور فعل مقتضی کا جز ہو گا۔ کیونکہ دوسرا مرید فاعل ہے اور یہ جزئِ علت میں دور ہے۔ جیسے ابوت اور بنوت دونوں متلازم ہیں ۔ کیونکہ دونوں کا مقتضی تام ان کا غیر ہے۔ اگر ارادہ اور فعل متلازم ہوں تو دونوں کا مقتضی تام دونوں کا غیر ہو گا اور یہ ممتنع ہے۔ کیونکہ دونوں خالقوں سے اوپر کچھ نہیں جو انہیں ایسا بنا دے۔ سو لازم آیا کہ دونوں نہ مرید ہوں اور نہ فاعل سو معلوم ہو گیا کہ اگر دو قدرت میں پلہ الٰہ ہوں تو اتفاق اور اختلاف دونوں احوال میں وہ کچھ نہ کریں گے۔ تب پھر ایک کا دوسرے سے زیادہ قدرت والا ہونا لازم ہو گا۔ کہ ایک دوسر پر قدرت میں بالضرور عالی ہو گا۔ سو اگر متعدد الٰہ ہوتے تو ان کا ایک دوسرے پر غاب آنا واجب ہوتا۔ تب پھر کوئی بھی مستقل بالذات نہ ہوتا۔ مگر اکیلا عالی الٰہ۔ کیونکہ اگر تو مقہور فعل میں دوسرے عالی کی اعانت کا محتاج ہے تو وہ عاجز ہوا اور اس کی قدرت غیر سے ہوئی اور جو ایسا ہو وہ الٰہ بنفسہ نہیں ہو سکتا۔ سو اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو بھی الٰہ نہیں بنایا۔ سو مقہور کا الٰہ ہونا ممتنع ہوا اور اگر مقہور فعل میں مستقل ہو تو عالی الٰہ اسے فعل سے روک نہیں سکتا اب پھر عالی عاجز ٹھہرا۔ تب پھر معلوم ہوا کہ الٰہ کے ایک دوسرے پر غالب آنے کی صورت میں مغلوب الٰہ نہیں ۔ نہ وہ دوسرے کی اعانت کے وقت الٰہ ہے اور غناء عن الآخر کے وقت الٰہ ہے۔ کیونکہ غنی پر کوئی عالی نہیں ہو سکتا۔ وگرنہ تو وہ عالی کا محتاج اور عاجز ہو گا اور غیر سے مغلوب زبردست اور اپنے پر سے دوسرے کو دور کرنے والا نہیں ہوتا تو وہ اوروں پر سے کسی کو کیونکر دور کرے گا؟

تو جب مغلوب الٰہ منیع نہ ہوا۔ تو قوی و قادر بدرجہ اولیٰ نہ ہوا اور غیر قوی رب اور فاعل نہیں ہوتا۔

صفحہ 11 از 18