فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 18

غرض یہ ان دو برہانوں کی قدرے تفصیلی تقدیر ہے۔ جو بتلاتی ہے کہ خارج اور وجود دو ایسے الٰہ نہیں جو ایک دوسرے کے شریک اور ہم پلہ ہوں اور نہ کوئی ثالث ہو گا جس کی طرف وہ رجوع کریں گے کہ دو ہم پلہ بادشاہ بھی ایک دوسرے کی طرف رجوع نہیں کرتے اور تو اور ایک ہانڈی پکانے والے دو باورچی ایک دوسرے کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ اسی طرح دو مستری اور دو شجر کار ایک دوسرے کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ اسی طرح دو امر کرنے والے، دو طبیب، دو درزی بھی۔ ان سب مشارکات میں دو کا اتفاق متصور نہیں ۔ مگر تب کہ جب ایک ان میں سے دوسرے پر فائق ہو۔ یا دونوں کےاوپر ایک ثالث ہو اور اس کی تقریر گزر چکی ہے۔

سو دو ہم پلہ کا کہ جن کے اوپر کوئی نہ ہو، اشتراک ممتنع ہے اور جب کسی امر شرعی میں دو شریک ہوں تو دونوں امر شارع کی طرف لوٹیں گے جو ان کے اوپر ہے۔ یا پھر دونوں تجارت کے کسی ماہر کی طرف لوٹیں گے جو تجارت کہ وہ کرنا چاہتے ہیں ۔ سو دونوں اس کا ارادہ کریں گے اور نزاع کے وقت یا تو شارع یا ماہر تجارت دونوں میں فیصلہ کرے گا۔ البتہ جب دونوں نہ تو ثالث کو مانیں اور نہ ایک دوسرے کے تابع ہو تو دونوں کا اشتراک ممتنع ہو گا۔ البتہ دونوں کبھی کبھی ایک دوسرے کی طرف لوٹیں گے جیسے دو متعارض کہ اس وقت دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف رجوع کے حال میں اصل ہو گا اور دوسرا اس کی فرع ہو گا۔ اسی لیے حدث کم بھی ہو اور لوگ تھوڑے ہوں تب بھی امارت قائم کرنا واجب ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’تین کے لیے حلال نہیں کہ وہ سفر کریں یہاں تک کہ کسی ایک کو اپنا امیر بنا لیں ۔‘‘ (مسند احمد)

کیونکہ اجتماع کے وقت سرپرست کا ہونا لازم ہے۔ ورنہ اجتماع ممتنع ہو گا اور جب دو مساوی سرپرست ہوں تو اجتماع باطل ہو گا۔ یہ بات سب لوگوں کی فطرت میں جاگزین ہے اور جب متعدد والی ہوں تو ان میں تناوب ضروری ہے۔ وہ یوں کبھی یہ اُس کی طاعت کرے اور کبھی وہ اس کی طاعت کرے۔ جیسا کہ بادشاہوں وزراء اور اعوان میں ہوتا ہے اور جب دو میں اتفاق نہ ہو گا تو وہ تیسرے کی طرف رجوع کریں گے جو ان کے اوپر ہو گا۔ وگرنہ ایک امر دو سے بیک وقت صادر نہیں ہوا کرتا۔

سو دو ہم پلہ اصل میں تمانع حاصل ہوتا ہے۔ چاہے دونوں میں اتفاق ہو یا اختلاف۔ البتہ اختلاف کی صورت میں تمانع زیادہ ظاہر ہے اور اتفاق میں بھی تمانع ہے۔ جیسا کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

غرض یہاں دو برہان ہیں ۔ جن میں سے کوئی دوسرے پر مبنی نہیں ۔ بلکہ ہر برہان مستقل ہے اور دوسرے الٰہ پر ہر برہان لازم ہے۔یہ مشرک اس توحید کو مانتے تھے جس میں دو خالق ہوں ۔ مشرکین عرب اس میں نزاع نہ کرتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا :

﴿اَفَمَنْ یَّخْلُقُ کَمَنْ لَّا یَخْلُقُ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَo﴾ (النحل: ۱۷)

’’تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو پیدا نہیں کرتا؟ پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔‘‘

وہ مانتے تھے کہ ان کے الٰہ تخلیق سے عاری ہیں ، اسی لیے رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

﴿قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہَا اِِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo سَیَقُوْلُوْنَ لِلَّہِ قُلْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَo قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِo سَیَقُوْلُوْنَ لِلَّہِ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَo قُلْ مَنْ بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّہُوَ یُجِیرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo سَیَقُوْلُوْنَ لِلَّہِ قُلْ فَاَنَّا تُسْحَرُوْنَo بَلْ اَتَیْنَاہُمْ بِالْحَقِّ وَاِِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَo مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗمِنْ اِِلٰہٍ اِِذًا لَذَہَبَ کُلُّ اِِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَo عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَo ﴾ (المؤمنون: ۸۳۔ ۹۲)

’’کہہ یہ زمین اور اس میں جو کوئی بھی ہے کس کا ہے، اگر تم جانتے ہو؟ ضرور کہیں گے اللہ کا ہے۔ کہہ دے پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ کہہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ ضرور کہیں گے اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دے پھر کیا تم ڈرتے نہیں ؟ کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی، اگر تم جانتے ہو؟ ضرور کہیں گے اللہ کے لیے ہے۔ کہہ پھر تم کہاں سے جادو کیے جاتے ہو؟ بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور بے شک وہ یقیناً جھوٹے ہیں ۔ اللہ نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی اس کے ساتھ کوئی معبود تھا، اس وقت ضرور ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اسے لے کر چل دیتا اور یقیناً ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں ۔ غائب اور حاضر کو جاننے والا ہے، پس وہ بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں ۔‘‘

ان کا شرک یہ نہ تھا کہ انہوں نے ان بتوں کو خالق بنا رکھا تھا۔ بلکہ انہوں نے ان بتوں کو عبادت میں واسطہ مقرر کیا ہوا تھا وہ انہیں سفارشی بناتے تھے اور ان کی عبادت اللہ کا قرب پانے کے لیے کرتے تھے۔ جیسا کہ رب تعالیٰ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:

﴿وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمْ وَ لَا یَنْفَعُہُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآئِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ قُلْ اَتُنَبِّؤنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَo﴾ (یونس: ۱۸)

’’اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں ۔‘‘

صفحہ 12 از 18