فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 14 از 18

’’ کہہ دے کیا تم نے دیکھا جن چیزوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین میں سے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ لاؤ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب، یا علم کی کوئی نقل شدہ بات، اگر تم سچے ہو۔‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ غیراللہ کی عبادت کی بابت یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ: ’’بیشک یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہو؛ کیونکہ اس میں منفعت ہے۔‘‘تو اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ : اس نے کسی ایسی چیز کو مشروع نہیں ٹھہرایا۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَاسْاَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُسُلِنَا اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ آلِہَۃً یُعْبَدُوْنَ

(الزخرف :۳۵) 

’’اور ان سے پوچھ جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیاہم نے رحمان کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں ، جن کی عبادت کی جائے؟‘‘

یہ موضوع دوسری جگہ پر تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ یہاں پر اتنا بتانا مقصود ہے کہ یہاں پر الوہیت کا امتناع اس اعتبار سے بیان ہورہا ہے جو غیر اللہ کی عبادت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مخلوق کی اصلاح صرف معبود لذاتہ ہی میں ہے۔ خواہ وہ ان کے افعال کی غایت اور حرکات کے انجام کے اعتبار سے ہو؛ یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے مناسب اور کار گر نہیں ہوسکتی ۔ اگرزمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہوتا تو اس اعتبار سے ان کے نظام میں خرابی اور فساد پیدا ہوجاتا ۔ پس بیشک اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی معبود برحق محبوب لذاتہ ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی مشئیت کے اعتبار سے رب اور خالق ہے۔

اسی معنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان گرامی ہے:

’’ سچی بات جو شاعر نے کہی ہے؛ وہ لبید کی بات ہے؛ [وہ کہتا ہے]؛

ألا کل شئی ما خلا اللّٰہ باطل وکل نعیم لا محالۃ زائل

’’آگاہ رہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے۔ اور ہر نعمت نے لا محالہ ختم ہو جانا ہے‘‘[البخارِیِ، کِتاب مناقِبِ الأنصارِ، باب أیامِ الجاہِلِیۃِ ؛ ِکتاب الأدبِ، باب ما یجوز مِن الشِعرِ، مسلِم:۱۷۶۹، کتاب الشِعرِ، الأحادِیث ۷۔۱۔ سننِ ابنِ ماجہ، کِتاب الأدبِ، باب الشِعرِ، المسندِ ط المعارِفِ۱۳؍۱۱۰۔]

اسی لیے اللہ تعالیٰ سورت فاتحہ میں یوں فرماتے ہیں :

﴿اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن﴾ (الفاتحۃ۳) 

’’ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘

یہاں پر سورت فاتحہ میں اسم ’’اللہ ‘‘کو اسم ’’رب ‘‘ پر مقدم کیا گیاہے؛ جیسا کہ ارشاد فرمایا:

﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

’’ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘

پس معبود ہی مقصود اور مطلوب اور محبوب لذاتہ ہوتا ہے۔اور وہی غایت اور معین ہے۔ وہی خالق و باری اور مبدع ہے۔ اسی سے ہر چیز کی ابتداء ہوتی ہے؛غایات کا حصول بدایات پر منحصر ہوتا ہے۔ اور بدایات غایات کی طلب کے لیے ہوتی ہیں ۔ پس الوہیت غایت [انتہیٰ اور انجام ] ہے۔ اور اس کی حکمت اسی سے متعلق ہوتی ہے۔ پس وہی ذات بذات خود اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے؛ اس سے محبت کی جائے؛ اور اس کی حمد و ثناء اور بزرگی بیان کی جائے۔ وہ ذات پاک خود اپنی تعریف بیان کرتی ہے؛ اور اپنی ہستی کے لیے ثنا خواں ہے؛ اس کی بزرگی بیان کرتی ہے۔اس سے بڑھ کر کوئی تعریف کیا گیا ؛ یا تعریف کرنے والا اس کا مستحق نہیں ۔یہ امور دوسرے مقامات پر تفصیل سے بیان ہوچکے ہیں ۔ اور ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کےبندوں کو اس کے ساتھ یوں بناتا ہے جیسے بادشاہ کے انصار و مددگار ہوتے ہیں ؛ تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑا شرک کرنے والا ہے۔

﴿وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾آیت پررافضی کے کلام پر تبصرہ: 

اس کا جواب یہ ہے کہ: ان کا اس آیت سے حجت پکڑنا: ﴿وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ (الصافات :۹۶) ’’حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو ۔‘‘کہ بیشک اس سے مراد بت ہیں ؛ تو ہمارا اس کے ساتھ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس سے مراد بت ہیں ؛ اور دو اقوال میں سے صحیح تر قول یہی ہے۔ یہاں پر’’ما‘‘بمعنی ’’الذی‘‘ کے ہے۔ اور جس نے کہا : ’’یہ ’’ما ‘‘ مصدریہ ہے؛ اور اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اور تمہارے عمل کو پیدا کیا ہے؛ اس کا قول ضعیف ہے۔ اس لیے کہ سیاق کلام پہلے قول پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : 

﴿اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَo وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَo﴾ (الصافات: ۹۶)

’’تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو؟ حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں اورتمہارے عمل کو پیدا کیا۔ ‘‘

رب تعالیٰ نے اپنے تراشے ہوئے بتوں کی عبادت کرنے پر ان کی مذمت اور ان پر انکار کیا ہے۔پس یہی مناسب تھا کہ اس تراشے ہوئے بت کے متعلق ہی بات کی جائے کہ بیشک وہ اللہ کی مخلوق ہے۔ اس کی تقدیر عبارت یوں ہوگی : ’’ اللہ تعالیٰ نے اس عابد اور معبود دونوں کو پیدا کیاہے۔‘‘اگر یوں کہا جاتا کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے عمل کو بھی؛ تو اس میں وہ مذمت نہ ہوتی جس کا بیان کرنا اس شرک کی وجہ سے مطلوب تھا۔ بلکہ یہ کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کی طرف سے عذر پیش کردیا ۔ اس لیے کہ اس آیت کریمہ:

﴿وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَo﴾ (الصافات: ۹۶)

’’حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو ۔‘‘

میں وارد ہونے والا ’’واؤ ‘‘ حال کا ہے؛ جبکہ یہاں پر حال ظرف سے مشابہ ہوتا ہے۔اور یہ دونوں علت کے معانی کو متضمن ہیں ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: ’’کیا تم فلاں کی مذمت کرتے ہو؛ حالانکہ وہ نیک آدمی ہے؛ اور تم اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہو جب کہ وہ تمہارے ساتھ اچھاسلوک کرتا ہے‘‘پس اس سے وہ تقریر حاصل ہو گئی جس سے اس کی مذمت ہوتی ہے؛ اوراس کے فعل پر انکارہوتا ہے۔

رب تعالیٰ نے ان کے اپنے تراشے ہوئے بتوں کی عبادت کرنے پر ان کی مذمت کی اور ان پر انکار کیا ہے۔اور انہیں اس فرمان میں یاد دلایا ہے کہ:

صفحہ 14 از 18