فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 16 از 18

اشاعرہ اس بد یہی بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ آنکھ سے صرف اس چیز کا ادراک کرنا ممکن ہوتا ہے جو بالکل سامنے ہو یا اس کے حکم میں ہو۔اور اس مسئلہ میں انہوں نے تمام عقلاء کی مخالفت کی ہے۔ اشاعرہ کہتے ہیں ممکن ہے کہ ہمارے سامنے رنگا رنگ بلند پہاڑ کھڑے ہوں اور ہم انہیں دیکھ نہ سکیں ، ہر طرف سے مہیب آوازیں آرہی ہوں ، اور ہم انہیں سن نہ سکیں ؛ یا کثیرتعداد عساکر مختلف قسم کے مہیب اسلحہ کے ساتھ برسر پیکار ہوں ؛ہمارے اجسام تو آپس میں ٹکرا رہے ہوں مگر ہم ان کی صورت اورحرکات کو دیکھنے سے قاصر رہیں ۔اور نہ ہی ان کی آوازیں سن سکیں ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہےکہ ہم دورافتادہ مغرب میں اقامت پذیر ہونے کے باوصف مشرق کے ایک ذرہ تک کو ملاحظہ کر سکیں ، یہ ایک زبردست مغالطہ [دھوکہ بازی]ہے۔‘‘ [انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: اوّل:....جہاں تک آخرت میں اثبات روئت کا تعلق ہے؛تو ائمہ سلف امت آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کے قائل ہیں ،اہل مذاہب اربعہ میں سے جمہور مسلمین کا بھی یہی مذہب ہے۔محدثین کے ہاں احادیث متواترہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ جمہور قائلین رویت کا نقطۂ نظریہ ہے کہ اللہتعالیٰ کو بروز قیامت اسی طرح دیکھیں گے جیسے آمنے سامنے کسی چیز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور جس طرح دیکھنا عقلاً معروف ہے۔سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’تم بروز قیامت اسی طرح دیدار الٰہی سے مشرف ہوگے جس طرح تم آفتاب و ماہتاب کو دیکھتے ہو اور لوگوں کی بھیڑ دیکھنے سے مانع نہیں ہوتی‘‘[صحیح بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قول اللہ تعالیٰ ﴿وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃ....﴾ (ح:۷۴۳۴) لیکن اس میں سورج کے بجائے قمر کا ذکر ہے۔واللہ اعلم۔ ]

ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’ جیسے تم مطلع صاف ہونے کی صورت میں شمس و قمر کو دیکھتے ہو۔‘‘

دوسری روایت میں فرمایا:’’جب مطلع صاف ہو تو آفتاب کو دیکھتے وقت کیا لوگوں کی بھیڑ مانع ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں ۔

فرمایا:’’جب مطلع صاف ہو تو کیا ماہتاب کو دیکھتے وقت کیا لوگوں کی بھیڑ مانع ہوتی ہے؟

تو فرمایا ’’ یقیناً تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح شمس و قمر کو دیکھتے ہو۔‘‘ [صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ ﴿وُجُوْہ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃ ....﴾ (ح:۷۴۳۹) واللفظ لہ۔ صحیح مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب معرفۃ طریق الرؤیۃ (ح:۱۸۳)۔]

جب بات یہی ہے تویہ ہوسکتا ہے کہ بعض اہل سنت جو رؤیت کو مانتے بھی ہیں ان کا اس باب میں بعض احکام میں خطا کر گئے ہوں ؛ایسا ہوجانا اہل سنت کے حق میں قدح کا موجب نہیں ۔ کیونکہ ہم سب کے لیے عصمت کے مدعی نہیں ۔ البتہ سب کا ضلالت و گمراہی پر جمع ہو نا محال ہے۔اور بیشک یہ کہ ہر وہ مسئلہ جس میں اہل سنت و الجماعت اور روافض کا اختلاف واقع ہوا ہے؛ اس میں حق اہل سنت و الجماعت کے ساتھ ہے۔ اور جہاں کہیں روافض حق پر ہیں ؛ تو اہل سنت کی بھی کوئی نہ کوئی جماعت اس حق میں ان کے ساتھ ہوگی۔ لیکن روافض میں ایسی غلطیاں موجود ہیں جن میں اہل سنت ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ تمام اہل سنت و الجماعت سے ہٹ کر روافض کے ہاں کوئی ایک بھی انفرادی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں ان کی موافقت کی گئی ہو۔ اوروہ اس مسئلہ میں غلطی پر ہوں ؛ جیسے بارہ ائمہ کی امامت اور ان کے معصوم ہونے کا مسئلہ ۔

دوم:....جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ روبرو ہونے کے بغیر بھی اللہتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ذات باری فوق العالم نہیں ، چونکہ وہ ذات باری کیلئے رؤیت کا اثبات اور علو کی نفی کرتے ہیں ۔ بنا بریں اس امر کیضرورت لاحق ہوئی کہ دونوں مسئلوں میں تطبیق دے کر یہ ثابت کریں کہ ان میں تضاد نہیں ہے۔ کلابیہ اور اشاعرہ کی ایک جماعت بھی یہی نظریہ رکھتی ہے؛یہ سب کا عقیدہ نہیں ؛ اور نہ ہی ان کے ائمہ کا عقیدہ ہے۔بلکہ اشاعرہ کے ائمہ اللہتعالیٰ کو اس کی ذات کے ساتھ فوق العرش تسلیم کرتے ہیں ۔ پھربھی ان میں سے جس نے بھی اس بات کی نفی ہے، اس نے معتزلہ کی موافقت میں کی ہے اس کی اور اس کے ملزومات کی نفی کی ہے۔[معتزلہ فوقیت و رؤیت کسی کو بھی نہیں مانتے]۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انہوں نے حدوث عالم کے مسئلہ میں معتزلہ کے ساتھ صحیح دلیل میں ان کی موافقت کی؛ وہ دلیل یہ ہے کہ: جسم حرکت اور سکون سے خالی نہیں ہوتا۔اور جو کچھ ان دو امور سے خالی نہ ہو وہ حادث ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ایسے حوادث کا ہونا ممتنع ہے جن کی کوئی ابتداء ہی نہ ہو۔ تو کہنے لگے: اس سے ہر جسم کا حادث ہونا لازم آتا ہے ۔ پس یہ ممتنع ہے کہ باری سبحانہ و تعالیٰ جسم ہو۔اس لیے کہ وہ ہستی قدیم ہے۔ اور پھر اس کا کسی جہت میں ہونا بھی ممتنع ٹھہرا۔ اس لیے کہ جہت میں صرف جسم ہی ہوسکتا ہے۔ پس یہ بات ممتنع ٹھہری کہ وہ دیکھنے والے کے مقابلہ میں ہو۔ اس لیے کہ مقابلہ صرف دو اجسام میں ہوسکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہور عقلاء خواہ وہ روئت کے قائلین ہوں یا منکرین؛ وہ کہتے ہیں : ’’بیشک اس قول کا فاسد ہونا ضرورت کے تحت معلوم شدہ ہے۔ اسی لیے رازی نے کہا ہے کہ : امت کے تمام فرقے اس مسئلہ میں اس کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں ۔لیکن وہ اپنے اوپر الزام لگانے والے اس آدمی سے کہتے ہیں : ’’ بیشک ہم رؤیت کو ثابت مانتے ہیں ؛ اور جہت کا انکار کرتے ہیں ۔اس سے وہ کچھ لازم نہیں آتا جو تم نے ذکر کیا ہے۔پس اگر مرئی کا دیکھا جانے ؛ دیکھنے والے کی جہت سے ممکن ہو تو اس سے ہمارے قول کی صحت ثابت ہوئی۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو دو میں سے ایک مسئلہ میں ہمارا غلطی پر ہونا لازم آیا۔ یا تو رؤیت کی نفی میں ؛ یا پھر اللہ تعالیٰ کے اپنی مخلوق سے مبائین اور ان کے اوپر عالی ہونے کی نفی میں ۔

صفحہ 16 از 18