فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 17 از 18

جب ان دو میں سے ایک مسئلہ میں خطاء لازم آئی تو اس سے رؤیت کی نفی میں خطأ میں نفی متعین نہیں ہوتی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ غلطی علو اور مبائین ہونے کی نفی کرنے میں ہو۔ ہمارا تمہارے ساتھ کسی چیز میں اتفاق کرنا تمہارے حق میں حجت نہیں ہوسکتا۔ہمارے اقوال میں تناقض اللہ تعالیٰ کے مخلوق پر بلند ہونے کی نفی کرنے میں تمہارا قول درست ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ بلکہ رؤیت الٰہی مستفیض نصوص کی روشنی میں اجماعِ سلف ِامت سے ثابت ہے؛اور ساتھ ہی عقل بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔

پس اس صورت میں لازم ِ حق بھی حق ہی ہوتا ہے۔ جب ہم اس حق کو ثابت کرتے ہیں اور اس کی بعض لوازم کی نفی کرتے ہیں ؛ تو یہ تناقض حق اور اس کے لوازم کی نفی کی نسبت کم اور آسان ہے۔ اور تم ہو کہ رؤیت کی بھی نفی کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے علو اور مخلوق سے جدا ہونے کی نفی بھی کرتے ہو۔ پس ہمارے قول کی نسبت تمہارا قول معقول و منقول سے ہر لحاظ سے بہت دور ہے۔اور تمہارے قول کی نسبت ہمارا قول حق کے زیادہ قریب ہے۔ اور اگر ہمارے قول میں تناقض پایا جاتا ہے؛ تو یاد رہے کہ تمہارے قول میں ہماری نسبت زیادہ تناقض پایا جاتا ہے؛ اور تمہاری کتاب و سنت کی نصوص اور سلفامت کے اجماع کی مخالفت زیادہ واضح اور ظاہرہے۔اس لیے کہ نصوص الٰہیہ اور نصوص سلف امت میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور ؛ اس کی رؤیت ؛ اور علو کا ہونا متواتر اور مشہور اخبار سے ثابت ہے۔

جب کہ اس کے منکرین نہ ہی کتاب اللہ پر اعتماد کرتے ہیں اور نہ ہی نصوص سنت پر اور نہ ہی اجماع امت پر ۔ بلکہ وہ ان سب کے مقابلہ میں اپنی فاسد آراء و افکار پیش کرتے ہیں ؛اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تابعدار صحابہ مہاجرین و انصار اور ان کے متبعین کے مقابلہ میں اپنی آراء سے اٹکل اڑاتے ہیں ۔

جہاں تک تناقض کی بات ہے؛ تو بلا شک و شبہ منکرین رؤیت کہتے ہیں : ’’بیشک اللہ تعالیٰ موجود تو ہے مگر نہ ہی عالم کے داخل میں ہے اور نہ ہی خارج میں ۔اور نہ ہی اس سے مبائین ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز کے قریب ہے؛ اورنہ ہی کوئی چیز اس کے قریب ہے۔اور نہ ہی کوئی اسے دیکھ سکتا ہے۔اور نہ ہی کسی ایک چیز کو چھوڑ کر دوسری چیز کو اس کے دیدار سے روکا جاسکتا ہے۔اور نہ ہی کوئی چیز اس کی طرف چڑھتی اور نہ ہی اس کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ اس طرح کے ان کے دیگر عقائد و افکار بھی ہیں ۔

جب ان سے کہا جاتا ہے: یہ عقیدہ عقل کے مخالف ہے؛ یہ صفات ایسے معلوم معدوم کی ہیں جس کا وجود ممتنع ہے۔ تو وہ کہتے ہیں : یہ نفی وہم کے حکم سے ہے۔

پس ان سے کہا جائے گا: جب عقل پر کوئی ایسی چیز موجود چیز پیش کی جائے جو جسم نہ ہو کہ بذات خود قائم ہو؛ تو اس کا دیکھا جانا ممکن ہے؛اور عقل اس کے سامنے ہو؛ تو وہ اس بات کا انکار نہ کریں گے۔ پس جب اس کے ساتھ ہی ان سے یہ کہا جائے : ’’بیشک اللہ تعالیٰ کو بلا مقابلہ دیکھا جاسکتا ہے۔ پس اگر یہ کہا گیا کہ : ایسا ہونا ممکن ہے؛ تو ان کا عقیدہ باطل ٹھہرا۔ اور اگر یہ کہا گیا کہ: یہ ایسا معاملہ ہے کہ عقل اسے ممنوع ٹھہراتی ہے۔ تو ان سے کہا جائے گا: جس چیز کو تم واجب اور موجود کہتے ہو؛ عقل اسے اس سے بڑا ممتنع ٹھہراتی ہے۔

اگر تم کہتے ہو: یہ نفی وہم کے حکم سے ہے۔

تو تم سے کہا جائے گا کہ: تو پھراس صورت میں اس کا انکار وہم کے حکم میں ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔

اور اگر تم کہو کہ: یہ انکار عقل کا حکم ہے۔

تو تم سے کہا جائے گا کہ: تو پھر اس کا انکار بھی بدرجہ اولیٰ انکار عقلی ہونے کا حق دار ہے۔

بیشک تم کہتے ہو کہ: وہم کا حکم باطل ہے؛ کہ کوئی ایسا حکم لگایا جائے جو نہ ہی محسوس ہے اور نہ محسوس کے حکم میں ہے۔ پس اس صورت میں جب تم نے کہا کہ: بیشک باری تعالیٰ غیر محسوس ہیں ؛ تو یہ بھی ممکن ہے کہ تم اس میں وہ حکم قبول کرلو جو محسوس میں ممتنع ہوتا ہے؛ اور وہ بلا مقابلہ امتناع رؤیت ۔

اگر تم کہو کہ: بیشک وہ محسوس ہے؛ اور اس کا احساس ہونا ممکن ہے؛ تو اس میں وہم کا حکم باطل نہیں ہوگا؛ لیکن یہ ممتنع ہو جائے گا کہ نہ ہی وہ عالم کے داخل میں ہو اور نہ ہی خارج میں ۔ پس اس صورت میں اس کی رؤیت جائز ٹھہرے گی۔اگر تم کہو کہ: جب وہ غیر محسوس ہے تو وہ غیر مرئی بھی ٹھہرا۔

تو تم سے کہا جائے گا کہ: اگرمحسوس سے تمہاری مراد معتاد حس ہے؛ تو دیدار کے قائلین جس بلا مقابلہ رؤیت کو ثابت مانتے ہیں ؛ تو وہ وہی معتاد رؤیت نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایسی رؤیت ہے جس کی مواصفات کو ہم نہیں جانتے۔ جیسا کہ تم لوگ ایسے موجود کے وجود کو ثابت مانتے ہو جس کی صفات ہمارے علم میں نہیں ۔پس ہر وہ تناقض اور شناعت جس کا الزام تم دیدار کے قائلین پر دھرتے ہو؛ اس سے اکثر تناقضات تم پر لازم آتے ہیں ۔

سوم:....یہ کہا جائے کہ اہل حدیث و سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ علو، مبانیہ اور رؤیت ثابت ہے۔ اب جس نے ایک تو ثابت کیا اور دوسرے کی نفی کی وہ اس سے زیادہ عقل و شرع کے قریب ہے جو دونوں کی نفی کرتا ہے۔

پس وہ اشاعرہ جو رؤیت کو ثابت مانتے ہیں اور جہت کا انکار کرتے ہیں ؛ وہ ان معتزلہ اور شیعہ کی نسبت عقل اور شرع کے زیادہ قریب ہیں جو اس کا انکار کرتے ہیں ۔اس کا شریعت سے قریب ہونا اس لیے ہے کہ جو آیاتِ و أحادیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول آثار و روایات علو اور رؤیت پر دلالت کرتی ہیں ؛ ان کا شمار دشوار ہے۔ جبکہ علو اور رؤیت کی نفی کرنے والوں کے پاس کوئی شرعی دلیل نہیں ۔ ان کا مدار بس عقل پر ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ اِن تناقض کا شکار اشعریہ کا قول اُن کے قول سے بہتر ہے۔ وہ یوں کہ جب ہم عقل پر ایک ایسے موجود کے وجود کو پیش کرتے ہیں کہ:

٭ جس کی طرف نہ اشارہ ہو سکتا ہے۔ ٭ نہ اس کے قریب جا سکتے ہیں ۔

٭ نہ اس کی طرف کوئی چیز چڑھ سکتی ہے۔ ٭نہ اس کے پاس سے کوئی چیز اترتی ہے۔

٭ نہ وہ عالم میں داخل ہے اور نہ خارج میں ۔ ٭ اور نہ اس کی طرف ہاتھ اٹھائے جا سکتے ہیں ۔

صفحہ 17 از 18