فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 18 از 18

اس طرح کے دیگر اقوال و افکار ؛ توفطرت اس کا انکار کرتی ہے؛ اور سب فطرتی عقل والے اس کا انکار کرتے ہیں کہ جن کی عقل بگڑ نہ گئی ہو۔ اس کا اقرار صرف وہی کرتا ہے جس کے پاس نفاۃ کے اقوال اور دلائل ہیں ۔ وگرنہ فطرت سیلمہ اس کے انکار پر متفق ہے جو خرقِ عادت پر انکار سے بھی زیادہ ہے۔اس لیے کہ عادات کا معجزہ بن جانا جائز نہیں ہو سکتا۔ اس پر تمام اہل ملت اور عقلاء کا اور فلاسفہ کا اتفاق ہے۔

پس ہم کہتے ہیں : منکرین دیدار کا قول اگر حقیقت میں عقل میں بھی مقبول ہو تو ؛ بغیر جسم کے عرش پر رب تعالیٰ کا اثبات عقلی طور پر قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔ اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ عرش کے اوپر ہے؛ تو اس چیز کے دیدار کا عقیدہ جو انسان کے اوپر ہو؛ بھلے وہ جسم نہ بھی ہو؛ منکرین دیدار کے عقیدہ کی نسبت عقلی طور پر قبولیت کے زیادہ قریب اور اس کا حقدار ہے۔

چہارم :....اشعریہ کہتے ہیں : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ہمارے سامنے ایسی شی کو پیدا کر دے کہ جس کو نہ ہم دیکھ سکیں اور نہ سن سکیں چاہے وہ جسم ہو یا آواز اور وہ ہمارے سے بے حد بعید شی کو بھی ہمیں دکھلا سکتا ہے۔لیکنیہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ واقع میں بھی ایسا ہے ۔ بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے اور جس پر بھی وہ قادر ہے، وہ اس کے وقوع میں شک نہیں کرتے۔ بلکہ یہ مانتے ہیں کہ فی الحال یہ واقع نہیں ہے اور وقوع کو جائز قرار دینا یہ اس میں شک کرنے کے علاوہ ایک امر ہے۔

لیکن اس ناقل کی عبارت تقاضا کرتی ہے کہ ایسااس وقت میں موجود بھی ہے؛ لیکن ہم اسے نہیں دیکھ سکتے ۔ پر اس کا کوئی بھی عاقل قائل نہیں ہے۔ایسا صرف الزامی طور پر کہا گیا ہے۔ان سے یہ کہا جائے گا کہ: جب تم لوگ اس کے قائل ہوکہ بغیر کسی جہت کے دیکھا جاسکتا ہے ؛ تو انہوں نے بھی اس کو جائز کہا ہے۔ تووہ کہتے ہیں : ہاں ہم اس کو جائز کہتے ہیں ۔ جیسے تم اس بات کو جائز کہتے ہو کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار جائز ہے؛ یعنی اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ہمیں دنیا میں اپنا دیدار کرا دے حالانکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا میں کوئی اللہ تعالیٰ کے دیدار پر قادر نہیں ۔ہاں اس سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار الٰہی کے متعلق اختلاف ہے۔ پس ان میں سے جو کوئی اس دنیا میں دیدار واقع ہونے میں شک کا شکار ہوا؛ وہ اس کی نفی کے دلائل سے اپنی جہالت کی بنا پر اس کا شکار ہوا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسروں کے لیے اس دنیا میں رب تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بارے میں اشعری نے دو قول نقل کئے ہیں ۔ لیکن جس پر تمام اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے؛ وہ یہ عقیدہ ہے کہ کوئی ایک بھی اس دنیا میں اپنی آنکھوں سے رب تعالیٰ کا دیدار نہیں کرسکتا۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ نے اس نفی پرسلف صالحین کا اتفاق نقل کیا ہے۔ اور خصوصاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ۔صحیح مسلم اوردیگر کتب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے آپ نے فرمایا:

’’جان لیجیے تم میں سے کوئی اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتا حتی کہ وہ مرجائے۔‘‘[سبق تخریجہ]

حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار کا سوال کیا تھا؛ تو آپ کو منع کردیا گیا۔ پس عوام الناس میں سے کوئی ایک حضرت موسی علیہ السلام سے افضل نہیں ہوسکتا۔ اور جملہ طورپر ہر وہ بات جو کہنے والا کہہ دیتا ہے کہ :’’بیشک ایسا ہونا ممکن اور مقدور ہے؛‘‘ اس کے واقع ہونے میں شک نہیں کیا جاسکتا۔

اشاعرہ اور ان کی موافقت رکھنے والے شوافع؛ مالکیہ اور حنابلہ اگرچہ رؤیت کے بارے میں عادت کے برعکس بعض امور کے جائز ہونے کا کہتے ہیں ۔ پس وہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ اور بندے کے مابین کوئی حجاب نہیں ہوتا؛ مگر اتنی بات ہے کہ آنکھوں میں دیدار کی صلاحیت نہیں پیدا کی گئی۔ ایسے ہی ان کا تمام مرئیات کے بارے میں کہنا ہے۔

پس وہ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ آنکھ میں ایسی کو ئی امتیازی قوت ہو جس کی بنا پر دیدار کا حصول ممکن ہوسکے۔ اور اس بات کو بھی ممنوع کہتے ہیں کہ اسباب اور مسببات میں کوئی التزام؍[ملازمت] ہو۔ اور یہ کہ موانع اور ممنوعات کے مابین کو ممانعت ہو۔ وہ ان تمام چیزوں کو محض عادت قرار دیتے ہیں ؛ جو محض مشئیت کی طرف منسوب کرتے ہیں ؛ اور پھر اس محض مشئیت سے خرق عادت کے ہونے کو جائز کہتےہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ : ہم ایسی بہت ساری چیزوں کا منتفی ہونا جانتے ہیں جن کے امکان کا علم ہوتا ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سمندر کبھی خون نہیں بن سکتا؛ اور نہ ہی پہاڑ یاقوت بن سکتے ہیں ۔ اور نہ ہی حیوانات درخت بن سکتے ہیں ۔ بلکہ ایسی چیزوں کے علم کو عاقل اور مجنون کے درمیان وجہ فرق سمجھا جاتا ہے۔ اور وہ لوگ اگرچہ اپنے بعض ان عقائد میں تناقض کا شکار ہیں جو کہ عقلاً و نقلاً باطل ہیں ؛ پھر بھی تقدیر؛ صفات اور رؤیت کے بارے میں ان کے اقوال و عقائد ان معتزلہ اورموافقین شیعہ کے عقائد سے بہتر ہیں ۔ اگرچہ صواب وہی بات ہے جس پر سلف صالحین اور ائمہ اہل سنت قائم ہیں ؛ جو کہ ائمہ اربعہ اور ان کے جمہور کبار اصحاب کا عقیدہ ہے۔ اور ان ائمہ مذکورین سے ماثور نصوص دوسرے مقامات پر بیان کی جاچکی ہیں ۔

مکمل بیان وہی ہوتا ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کردیا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق میں سب سے بڑے عالم ؛ اور مخلوق کے سب سے بڑے خیرخواہ تھے۔ اور حق کے بیان میں ان سب سے بڑے فصیح اللسان تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات بیان کئے ہیں ؛ اور اللہ تعالیٰ کا عرش پر بلند ہونا؛ اور اس کا دیدار ہونا بیان کیا ہے وہ اس باب کی منتہی ہے؛ اور اللہ ہی حق کی توفیق دینے والا ہے۔


صفحہ 18 از 18