فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 18

پھر ان لوگوں نے فلک کو فاعل مستقل قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ان قدریہ نے حیوان کے بارے میں یہ مقرر کیا ہے وہ بطریق استقلال حرکت کرتا ہے نہ کہ ہر حرکت کے وقت اللہ اس میں ایسی قدرت کو پیدا کرتا ہے جو اس حرکت کے مقارن ہو۔ کیونکہ ان کے نزدیک ایک فلک سے دوسرا فلک حادث ہوتا ہے اور دوسرے فلک کی شرط پہلے فلک کا ختم ہو جانا ہے۔ جیسے وہ شخص جو ایک مسافت کو رفتہ رفتہ طیکرتا ہے۔ لیکن یہ مسافت طے کرنے والا، دوسری مسافت کو اس قوت و ارادہ کے ساتھ طے کرتا ہے جو اس کے ساتھ قائم ہے۔ سو فاعل کے لیے ارادہ و قوت کا تجدد ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے ایک کےبعد دوسری مسافت قطع ہوتی ہے۔ لہٰذا فلک کے لیے ہر وقت اس ارادہ اور قوت کا ہونا لازم ہوا جس کے ذریعے وہ حرکت کرتا ہے؛ لیکن لازم ہے کہ اس کا مجدد اس کا غیر ہو۔ کیونکہ وہ ممکن ہے نہ کہ واجب اور اس میں حوادث کا اس سے ہونا ناجائز ہو گا۔ کیونکہ اگر اس نے پہلے کے بعد دوسرے کو حادث کیا ہے تو دوسرے کے وقت موثر تام کا ہونا لازم ہوا۔ چاہے اسے پہلے کے ختم ہونے کے بعد دوسرے کو حادث کیا ہو۔ چاہے اسے پہلے کے ختم ہونے کے بعد دوسرے میں کمالِ تاثیر حاصل ہوا ہو۔ سو اس کمال کا فاعل ہونا لازم ہوا۔ اور یہ لوگ اس بات کو جائز کہتے ہیں کہ ماتقدم اس کا فاعل ہو۔ لہٰذا ہر حال میں ایک فاعل کا ہونا لازم ہوا جو اس امر کو حادث کرے جس سے حرکت حاصل ہو اور یہ واجب بنفسہ کے خلاف ہے، کیونکہ جو افعال اس کے ساتھ قائم ہوتے ہیں ان کا غیر سے صدور جائز نہیں ہوتا۔

[فلاسفہ اور معطلہ کا شرک :]

ان فلاسفہ کا شرک و تعطیل قدریہ کے شرک و تعطیل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ لوگ فلک کو ان حوادث کا محدث قرار دیتے ہیں جو ساری زمین میں برپا ہوتے ہیں ۔ انھوں نے اللہ کو کسی شے کا بھی حادث نہیں ٹھہرایا۔ بخلاف قدریہ کے کہ انھوں نے حیوان کے افعال کو اور جو اس سے پیدا ہوتا ہے، اس کو اس کے احداث سے نکالا ہے۔ سو حوادث کو بلامحدث کے ثابت کر کے، اور رب تعالیٰ کو کسی بھی حادث سے معطل کر کے اور ایک شریک کو ثابت کر کے انھیں تعطیل لازم آئی جو جمیع حوادث کا فاعل ہے۔

مگر تعجب ہے کہ وہ قدریہ کے اس قول کو تسلیم نہیں کرتے کہ ’’ اللہ تعالیٰ اس عالم کو پیدا کرنے سے قبل بیکار تھا۔‘‘ فلاسفہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پہلے بھی افعال سے معلل رہا ہے اور بدستور اسی حالت پر قائم ہے؛ بلکہ اس کا کوئی بھی کام نہیں ۔ جو چیزیں لوازم ذات میں داخل ہیں ، مثلاً عقل و فلک یہ اس کا فعل نہیں ، کیونکہ فعل کا ظہور تدریجی طور پر ہوتا ہے، جو چیز ذات کے لوازم میں سے ہو وہ صفات کے قبیل سے ہوتی ہے، مثلاً انسان کا رنگ اور درازیِء قد۔ ظاہر ہے کہ یہ اس کا فعل نہیں ، بخلاف ازیں اس کی حرکات کو اس کا فعل قرار دے سکتے ہیں ، اگرچہ یہ حرکات بھی اس کے لیے مقدر تھیں ۔جیسے نفس انسانی کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں ۔ اور بیشک دل میں سب سے زیادہ تغیرات رونما ہوتے ہیں ، وہ اس ہنڈیا کی طرح ہے جو ابلتے ہوئے جوش و خروش کا پیکر بنی ہوئی ہوتی ہے۔

فاعل کی تعریف:

خلاصہ کلام! فاعل دراصل وہ ہے جس کے ساتھ کوئی فعل وابستہ ہو اور اس فعل کا ظہور اس سے تدریجاً ہو۔ بخلاف ازیں جس کے ساتھ کوئی وصف ازل ہی سے مقارن چلا آرہا ہو؛اس وصف کا اس کا فعل ہونا معقول نہیں ۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ فلاسفہ اصلاً اللہ کے لیے کسی فعل کا اثبات کرتے ہی نہیں اور بایں طور پر وہ اصلی اور حقیقی معطلہ ہیں ۔ ارسطو اور اس کے اتباع صرف علت اولیٰ کے قائل ہیں ، اور وہ بھی اس لیے کہ وہ حرکت افلاک کی علت غائی ہے۔ ان کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ حرکت فلک انسانی حرکت کی طرح اختیاری ہے، لہٰذا اس کے لیے کسی مراد و مطلوب کا وجود ناگزیر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں : افلا ک کی حرکت علت اولیٰ کے ساتھ تماثل و تشابہ کی رہین احسان ہے۔جیسے مأموم اپنے امام کی ؛ اور مقتدی اپنے پیشوا کی اتباع کرتا ہے۔ ان کے استدلال کی انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وجود عالم کی شرط ہے اور وہ عالم کو اسی طرح متحرک رکھتا ہے، جیسے معشوق عاشق کو۔ اس کو ایک مثال کے ذریعہ ذہن نشین کر سکتے ہیں ، مثلاً ایک شخص لذیذ کھانے کو دیکھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھائے یا محب محبوب کو دیکھ اس کی طرف حرکت کرے، ظاہر ہے کہ دونوں مثالوں میں حرکت کی علت لذیذ کھانا اور محبوب کا وجود ہے۔

مندرجہ بالا بیان اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ فلاسفہ کے نزدیک حرکت افلاک کا محدث و خالق فلک کے سوا اور کوئی نہیں ، جس طرح قدریہ کے نزدیک حیوان کے افعال کا خالق بھی حیوان ہی ہے۔ بنا بریں فلاسفہ کے نزدیک فلک ایک بڑے حیوان کی حیثیت رکھتا ہے۔بلکہ ان کا کہنا ہے کہ فلک علت اولی کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے حرکت کرتا ہے۔ کیونکہ علت اولی اس کا معبود اور محبوب ہے۔

اسی لیے کہتے ہیں کہ فلسفہ یہ حسب طاقت الٰہ سے تشبہ ہے اور درحقیقت ان فلسفیوں کے نزدیک اس عالم کا نہ کوئی رب ہے اور نہ الٰہ اور نہ ہی باقی جہانوں کا کوئی رب ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ لوگ بس یہ ثابت کرتے ہیں کہ الٰہ عالم کے وجود کی شرط ہے اور مخلوق کا کمال اس کے ساتھ مشابہ ہونے میں ہے۔ان کے نزدیک الوہیت کا تصور بس یہی ہے اور یہی ربوبیت ہے۔ اسی لیے ان کا قول یہود و نصاری کے قول سے بھی بدتر ہے۔ یہ معقول و منقول دونوں سے ان سے کہیں زیادہ دُور ہیں ۔ اس کی تفصیل اپنے مقام پر موجود ہے۔

اس سے واضح ہوا کہ فلاسفہ جملہ حوادث عالم کے بارے میں قدریہ کے ہم نواہیں اور بنا بریں [وہ بنی آدم میں سب سے بڑے گمراہ بلکہ ہر]شر و فساد کی جڑ ہیں ۔ فلاسفہ قدریہ کی طرح حوادث کو جسمانی طبائع کی جانب منسوب کرتے ہیں اور ان کے خالق و موجد کو تسلیم نہیں کرتے، زیادہ سے زیادہ وہ خالق کائنات کو وجود عالم کی شرط قرار دیتے ہیں ۔یہ حوادث کا کوئی محدث ثابت نہیں کرتے۔

فلاسفہ کی جہالت و ضلالت:

صفحہ 2 از 18